سانحات پر کڑھنے کی بجائے ان کا حل تلاش کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگل میں بسنے والا انسان گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب یافتہ ہوتا چلا گیا۔ جنگل میں رہنے والے جنگلی جانور اور درندوں سے بچنے کے لیے وہ نئے طریقے تلاش کرتا رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ان جنگلی درندوں کے ساتھ رہنا اور ان سے بچاؤ کا طریقہ سیکھ لیا۔ جنگلی جانوروں کو ڈنڈے، لکڑی اور پتھر کے اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ڈرا کر انسان نے اپنے آپ کو ان درندوں سے محفوظ کر لیا۔ لیکن یہ حفاظتی انتظامات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔

جب انسان نے آگ جلانا اور اس پر قابو پانا سیکھ لیا تو یہ انسان کی ایک عظیم کامیابی تھی جس کو استعمال کرتے ہوئے انسان جنگلی درندوں اور جانوروں سے خود کو محفوظ سمجھنے لگا۔ آگ پر قابو اور اس کے استعمال نے انسان کو تمام دوسرے جانوروں کا حاکم بھی بنا دیا۔ پھر انسان نے اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو ان جنگلی درندوں سے بچانے کے لئے گھر بنانے شروع کیے جو انسان اور جنگلی درندوں کے درمیان ایک حفاظتی بند کا کام کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ انسان نے جنگلی جانوروں اور درندوں سے الگ اپنی انسانی دنیا بسانا شروع کر دی۔ یہ انسان کی اپنی بنائی ہوئی تہذیب تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہی۔ اپنی اس تہذیب یافتہ زندگی کے اصول و ضوابط میں انسان اپنے آپ کو جنگلی درندوں سے بالکل محفوظ سمجھنے لگا۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ انسان کی اپنی ہی بنائی تہذیب اور کالونیوں میں کچھ انسانوں نے درندوں کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ یہ درندے جنگل میں بسنے والے درندوں اور جانوروں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔ جنگل کے درندوں کو انسان دیکھتے ہی پہچان لیتا تھا کہ یہ میرے خون کے پیاسے ہیں مگر انسان کے روپ میں چھپے درندوں کو پہچاننا بہت مشکل ہو گیا۔ آپ کے ارد گرد موجود آپ کا اپنا محافظ، پیارا اور ہمدرد نہ جانے کب خونی درندے کا روپ دھار لے انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا۔

یہ انسان کے لئے بہت مشکل ہو گیا کہ اب ان درندوں کو کیسے پہچانا جائے اور ان سے اپنے سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ انسان نے معاشرے میں مذہب، قانون، اخلاقیات، سزا و جزا سب نافذ کر کے دیکھ لئے مگر یہ درندگی اور وحشت کا کھیل اب بھی جاری ہے۔ ان درندہ صفت انسانوں کو نہ مذہب کا ڈر ہے، نہ اخلاقیات کا کچھ لحاظ اور نہ ہی سزا کا کوئی خوف۔

جنگلی جانوروں اور درندوں سے ڈرنے والے انسان کو خود درندہ بننے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ ایسے درندہ صفت انسان مختلف شکلوں اور رشتوں میں آپ کے ارد گرد ہر وقت موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ درندہ صفت انسانوں کو کیسے پہچانا جائے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔ جیسے جیسے انسان علم و شعور کی منازل طے کرتا گیا، غلط اور صحیح کی پہچان کرنے میں سمجھدار ہوتا گیا ویسے ہی یہ درندہ صفت انسان بھی اپنے شیطانی علم میں اضافہ کرتا چلا گیا۔

اس درندہ صفت انسان نے بھی اپنے کئی قابل بھروسا روپ دھار لیے تاکہ نارمل انسانوں کو آسانی سے دھوکہ دیا جا سکے۔ اپنی درندگی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے درندہ صفت انسان نے کسی بھی چیز کو نہ چھوڑا پھر وہ چاہے مذہب ہو، عقیدت ہو، معاشرت ہو یا انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو یہ درندگی کی خصوصیات رکھنے والا انسان آپ کو ہر جگہ ملے گا۔ یہ درندہ صفت انسان ہر جگہ گھات لگائے بیٹھا ہے چاہے وہ عبادت گا ہیں ہوں، تعلیمی ادارے ہوں یا قانون بنانے اور نافذ کرنے والے ادارے ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ موجودہ انسان جسے ہم ہومو سیپین کہتے ہیں نے کئی جنگلی جانوروں اور درندوں کو اپنی عقل اور دانش سے شکست دے کر ان پر حکمرانی حاصل کی اور اپنی زندگی کو پروان چڑھایا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انسانوں کی ایک قسم نینڈرتھال بھی ایک وقت میں دنیا میں موجود رہی ہے۔ جب موجودہ انسان (ہومو سیپین) کا مقابلہ قدیمی انسان ( نینڈرتھال) سے ہوا تو موجودہ انسان (ہومو سیپین) نے اسے شکست دی اور دنیا سے نیست و نابود کر دیا۔ آج نینڈرتھال کا کوئی وجود نہیں۔ سائنسدان بتاتے ہیں کہ نینڈرتھال موجودہ ہومو سیپین سے کئی گنا زیادہ طاقتور اور مضبوط تھے۔ سائنسدانوں کے نزدیک ہومو سیپین کی نینڈرتھال پر کامیابی کی وجہ صرف اور صرف ان کا آپس میں گہرا تعاون اور رابطہ تھا جو کہ نینڈرتھال نہیں کر سکا اور دنیا میں ناپید ہو گیا۔

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ معاشرے کی بات کرتے کرتے میں یک دم سائنس و تاریخ میں کیوں آ گیا۔ اس مثال سے بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر نارمل انسان آپس میں فیصلہ کر لیں کہ دنیا سے درندہ صفت انسانوں کو پاک کرنا ہے تو اس کے لیے نارمل انسانوں کا آپس میں رابطہ اور تعاون بہت ضروری ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ درندہ صفت انسان آج کے نینڈرتھال ہیں اور اگر نارمل انسان اپنی زندگی کی بقا اور تحفظ چاہتا ہے تو آج کے نینڈرتھال سے آزادی بہت ضروری ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نارمل انسان تو واقعی ان درندہ صفت انسانوں سے پریشان ہے مگر وہ ان سے چھٹکارا کیسے حاصل کریے۔

پہلے تو نارمل انسان متفق ہو کر اپنے متفقہ سماجی قوانین بنائیں جو کہ کسی بھی انسان کے مذہبی عقائد اور فرقہ واریت سے پاک ہوں۔ ان پر عمل کرنے کے لیے تمام انسانوں کو کسی مذہبی، لسانی، سماجی اور سیاسی پریشر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انصاف اور مساوات سے کام لینا ہوگا۔ جب بھی کوئی درندہ صفت انسان قانون کی گرفت میں آئے تو وہاں پر نارمل انسان اتفاق اور مساوات کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی سماجی تعلق اور سیاسی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے مجرم کو معاشرے کے لئے عبرت کا نشان بنائیں۔

جب قانون پر عملدرآمد ہوگا اور درندہ صفت انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اگر وہ کوئی درندگی کا مظاہرہ کرے گا تو یقیناً وہ قانون کی گرفت میں آئے گا اور اس کو وہاں سے کوئی نہیں چھڑا سکتا نہ اس کا عقیدہ رکھنے والی طاقتور جماعتیں، نہ سماجی لوگ اور نہ ہی اس کی دولت۔

صرف قانون کی بالادستی ہی وہ واحد چیز ہے جو معاشرے سے درندگی کو کم کر سکتی ہے۔ ورنہ درندگی کے واقعات جو آپ کو دور دراز نظر آتے ہیں ایک دن آپ کی اپنی دہلیز پر پہنچ جائیں گے۔ ہر نارمل انسان اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ درندہ صفت انسانوں کی ہر میدان میں نہ صرف حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے بلکہ ان کو سخت ترین سزا دلوانے کے لیے معاشرے کے ہر نارمل انسان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ چاہے حکمرانوں ہو، سیاستدانوں ہو، مذہبی و روحانی پیشوا ہو یا اعلی سرکاری عہدے دار، الغرض زندگی کے کسی بھی شعبہ میں موجود درندہ صفت انسانوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
آپ کو دنیا میں صرف نارمل انسان ہی نظر آئیں گے، اور یہی قانون فطرت ہے جسے ماہرین حیاتیات قدرتی چناؤ کا اصول کہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •