احساس ذمہ داری اور خاتون کے ساتھ ریپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔

مجھے موصوف کے بیان اور پولیس کے طرز عمل سے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا ہے کہ ایک دفعہ ایک دیہی علاقہ میں ڈکیتی کی واردات ہو گئی اور مقدمہ کے اندراج کے لیے دو تھانوں کے مابین حدود کے تعین کا تنازعہ کھڑا ہو گیا جس کو حل کرنے کے لئے بعد ازاں متعلقہ پٹواری کو بلانا پڑا۔ دیکھا جائے تو موجودہ وقوعہ میں بھی پولیس کا طرز عمل کوئی مختلف دکھائی نہیں دیتا۔

متاثرہ خاتون نے جب ہیلپ لائن پر فون کیا تو اس کو بتایا گیا کہ یہ علاقہ ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا اور ہم آپ کی مدد نہیں کر سکتے۔ وہ خاتون تقریباً ایک گھنٹہ تک اپنے معصوم بچوں کے ساتھ کسی مسیحا کا انتظار کرتی رہی مگر اس کی مدد کو کوئی نہ پہنچا۔ اور وہ دو درندوں کی ہوس کا شکار بن گئی۔ اگر اس کو بروقت مدد مل جاتی تو وہ اور اس کا خاندان اس کربناک حادثے سے محفوظ رہ سکتے تھے۔

موصوف سی پی او کے بیان سے ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ وہ ایک روایتی تھانیدار کی طرح فرائض میں کوتاہی کے مرتکب ہونے کی ذمہ داری لینے کی بجائے واقعہ کی ذمہ داری مظلوم عورت پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور دوسری جانب ان کا بیان عورت کے متعلق ہماری عمومی سوچ کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جب عورت ہے تو باہر کیوں نکلی اس کو تو گھر میں رہنا چاہیے تھا کیونکہ عورت کو تو اس معاشرے میں ہر وقت انسان نما وحشی درندوں سے خطرہ لاحق ہے اور اس کو تو ہر حال میں مرد کی مرہون منت ہونا چاہیے۔

میں موصوف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو خواتین رات کی بجائے دن کو سفر کرتی ہیں، جو موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ پر سفر کرتی ہیں، جن کی گاڑی میں پٹرول وافر مقدار میں ہوتا ہے اور جب گھر سے نکلتی ہیں تو پردہ کر کے نکلتی ہیں۔ جب ان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آتا ہے تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اسلام آباد میں جب دن دیہاڑے ایک سائیکل سوار خاتون کو ہراساں کیا جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
تونسہ شریف میں ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
جب ایک مردہ خاتون کیلاش کو قبر سے نکال کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

موصوف کو بات کرنے سے پہلے ایک بار ضرور یہ سوچنا چاہیے تھا کہ کیا میں نے اپنی ذمہ داری اور فرائض منصبی کو ایمانداری سے سرانجام دیا ہے یا اس میں غفلت برتی ہے؟

کیا خاتون کی کال سننے والے آپریٹر نے اپنا فرض اور ذمہ داری پوری کی ہے؟
کیا ان دونوں درندہ صفت ملزمان کے ماں باپ نے ان کو پیدا کر کے ان کی صحیح تربیت کی ہے؟
اگر وہ ان سوالات پر غور کر لیتے تو شاید یہ بیان دینے کی نوبت ہی نہ آتی۔

اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ اپنی تمام تر توانائیاں ملزمان کی گرفتاری کے لئے صرف کی جاتیں۔ متاثرہ خاتون اور اہل خانہ کے دکھ اور اذیت کو محسوس کیا جاتا کہ وہ کس ذہنی اور نفسیاتی کرب میں مبتلا ہوں گئے۔ کیا وہ خاتون کبھی زندگی سے ہمکلام ہو پائے گی؟

دوسری جانب میڈیا اور حکومتی اہلکار اپنی پھرتیاں دکھانے اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے سرگرم عمل نظر آ رہے ہیں اور ایف آئی آر کی کاپیاں اور وقوعہ کی رپورٹس طلب کر رہے ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کے متعلق تمام معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جائے اور متعلقہ افراد اور محکمہ جات کو موثر طریقے سے ان کا کام کرنے دیا جائے۔

بنت حوا پر ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں وہاں یہ بھی لازم ہے کہ اس کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور اسے تحفظ کی ضمانت فراہم کی جائے۔ عورت کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے ضروری ہے کہ مرد کی نظر کو باحیا بنایا جائے اور قانون پر حقیقی معنوں میں عمل در آمد کروایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے دل سوز واقعات رونما نہ ہونے پائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آفتاب وڑائچ، ناروے کی دیگر تحریریں