کورونا وائرس: دنیا بھر میں کورونا کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، انڈیا میں 94 ہزار سے زائد نئے کیسز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پوری دنیا میں کورونا وائرس کے لگ بھگ تین لاکھ آٹھ ہزار نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں سامنے آنے والے یومیہ متاثرین کی یہ اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مجموعی طور پر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ سات ہزار 930 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس دورانیے میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے زائد رہی اور اب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد نو لاکھ 17 ہزار 417 ہو گئی ہے۔ انفیکشن میں سب سے زیادہ اضافہ انڈیا، امریکہ اور برازیل میں دیکھا گيا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں اب تک کووِڈ 19 کے دو کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے نصف امریکہ میں ہیں۔

اس سے قبل ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز 6 ستمبر کو سامنے آئے تھے جن کی تعداد تین لاکھ چھ ہزار 857 تھی۔

کورونا

BBC
کووڈ 19 کے مردوں اور عورتوں پر اثرات مختلف کیوں؟

کن ممالک میں کووڈ 19 کے مصدقہ مریض نہیں

انڈیا کورونا کی وبا کا مرکز، ایک دن میں نئے مریضوں کا عالمی ریکارڈ

افریقہ میں کورونا کی وبا کے کم پھیلاؤ کا راز کیا ہے؟

کورونا: اسرائیل میں تین ہفتے کا لاک ڈاؤن، فرانس میں یومیہ دس ہزار سے زیادہ متاثرین


متاثرین کی تعداد تیزی سے کہاں بڑھ رہی ہے؟

کورونا

EPA
برازیل میں اب تک کورونا کے باعث ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں

ڈبلیو ایچ او کے مطابق انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ یعنی 94 ہزار 372 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ امریکہ میں 45 ہزار 523 اور برازیل میں 43 ہزار 718 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

اسی دورانیے میں امریکہ اور انڈیا میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ نئی اموات ریکارڈ کی گئیں ہیں جبکہ برازیل کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران وائرس سے 874 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

امریکہ کے بعد دنیا میں تصدیق شدہ کیسز کے تعداد کی بات کی جائے تو انڈیا دوسرے نمبر پر ہے۔ انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے کے دوران ملک میں تقریبا 20 لاکھ نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے دنیا میں رپورٹ شدہ ماہانہ کیسز کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں اگست میں یومیہ اوسطاً 64 ہزار نئے کیسز سامنے آئے جو کہ جولائی کے مقابلے میں اوسط روزانہ کیسز میں 84 فیصد اضافہ تھا۔ ستمبر کے آغاز سے ہی انڈیا میں یومیہ اموات کی تعداد ایک ہزار سے زائد ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

متاثرین کے تعداد کے حوالے سے برازیل تیسرے نمبر پر ہے جہاں وائرس کا شکار افراد کی مجموعی تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ لاطینی امریکہ میں برازیل ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ، یعنی ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد، ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکہ میں دنیا بھر کے کورونا وائرس کی کل تعداد کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور یہ تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں ماہ جولائی میں روزانہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، لیکن اس کے بعد سے اس کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، امریکہ میں ہلاکتوں کی کُل تعداد ایک لاکھ 94 ہزار سے زائد ہے۔

کورونا

Getty Images
دیگر ممالک میں کیا صورتحال ہے؟

یورپ میں اس وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور یہ خدشات ظاہر کیے جا رہا ہیں کہ کہیں یہ وبا دوبارہ سے سر تو نہیں اٹھا رہی، یعنی وبا کی دوسری لہر۔

یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں مقامی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیے گئے ہیں اور لوگوں سے ماسک پہننے اور سماجی دوری کے ضابطے پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

وہ ممالک میں جہاں نئے متاثرین کی تعداد میں زیادہ اضافہ نظر آیا ہے اُن میں پیرو، اسرائیل، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

اتوار کے روز آسٹریلیا کے صوبے وکٹوریہ میں پولیس نے 70 سے زائد مظاہرین کو گھر میں رہنے کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ میلبورن شہر میں لگ بھگ 250 افراد نے ایک ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی اور اپنے سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے کورونا کے بارے میں پھیلے سازشی نظریات کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

آسٹریلیا میں وبا کا مرکز یہی صوبہ وکٹوریہ رہا ہے جس میں آسٹریلیا میں سامنے والے مجموعی متاثرین کا 75 فیصد اور 90 فیصد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

اسرائیل

EPA
اسرائیل میں حکام نے ملک بھر میں پھر سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے

دوسری جانب نیوزی لینڈ 21 ستمبر سے اپنے سب سے بڑے شہر آکلینڈ کو چھوڑ کر باقی علاقوں سے وائرس کے متعلق عائد پابندیاں ہٹا رہا ہے۔ اس کا اعلان پیر کے روز وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے کیا تھا۔

نیوزی لینڈ ملک نے کورونا وائرس کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن آکلینڈ میں متعدد نئے انفیکشن کی شناخت کے بعد یہاں پھر سے پابندیاں عائد کر دی گئیں ہیں۔

دریں اثنا اسرائیل میں حکام نے ملک بھر میں پھر سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہاں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ یہودیوں کے نئے سال کے موقع پر جمعہ کو سخت پابندیاں نافذ ہوں گی اور یہ آئندہ تین ہفتے تک جاری رہیں گی۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک جائزے کے مطابق اسرائیل میں کووڈ 19 کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تصدیق شدہ انفیکشن سامنے آئے ہیں جبکہ وائرس کے باعث ایک ہزار 108 اموات ہوئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp