میرے رشک قمر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"maimoona-saeed\"صبح سے کئی بار اردو لغت کھولی اور ایک لفظ کا معنی تلاش کیا، کہیں معنی چاند نکلا، تو کسی اور لغت نے ملتا جلتا کوئی اور مطلب نکالا، رتبہ اس قدر اعلی ہے کہ یہ معنی نہایت ہی چھوٹا لگا۔ یہی سوچ کر پھر میں نے انہیں رشک قمر لکھ ڈالا یعنی کہ بہت ہی حسین، انتہائی خوبصورت کو کہتے ہیں۔ ویسے پہلی بار رشک قمر کی اصطلاح 1865ء میں دیوان نسیم دہلوی نے اپنے ایک شعر میں متعارف کروائی تھی۔ یقیناً ان کے تخیل میں اس وقت اور کوئی نہیں، پاکستانی \”قمر\” ہی ہوں گے جن پر آج پوری دنیا کی نگاہیں ہیں۔

دنیا اب بھلا ہم سے کیوں نہ جلے، پاکستان دنیا کے نقشے پر اب کی بار ایسے ابھرا ہے کہ باقی سب کے پاس صرف آسمان کا ایک چاند، اور پاک سر زمین کے پاس دو، دو۔ ایک چاند آسمان کا اور ایک زمین کا۔ ویسے آسمان کا چاند آج کل ذرا پریشان سا ہے اور اسی خفگی میں روشنی بھی کم دے رہا ہے۔ اسے ڈر ہے اب اس کی چاندنی پر کون شاعری کرے گا کیونکہ ساری تعریفیں اب زمینی چاند کے لئے ہوں گی۔ چاند کی تاریخوں کا حساب کرنے لگی تو پہلی سے لے کر تیسری رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں جب کہ تیسری رات سے آخری تاریخ تک کے پورے چاند کو قمر کہتے ہیں۔

لکھنے کے بعد کئی بار یہ ایک پیرا پڑھا کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو، اسی خوف میں اپنی آنکھیں موند لیں تو کیا دیکھتی ہوں ایک نور کا ہالہ ہے اور اس میں باوردی رشک قمر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ سبحان اللہ، میرا جسم کپکپایا لیکن زیارت اسی طرح مسکراتی رہی۔ صاف شفاف دمکتا چہرہ، مخمور آنکھیں، گلابی رخسار، اس نفاست کے باوجود ان کی خاموشی میں بھی ایک جاہ و جلال، میں نے جھجھکتے ہوئے سوال کر ہی ڈالا۔ آپ میری آنکھوں میں کیسے آئے۔ میں، میرا مطلب، میں اس قابل کہاں۔ یقیناً ابھی میرے الفاظ تعریف کی اس اعلیٰ سطح کو نہیں چھوتے جو لاکھوں روپے اور اضافی عہدے پانے والے قلم توڑ صحافی لکھتے ہیں۔ آپ یہ معجزہ کہیں اور دکھائیں۔ آپ 18 کروڑ عوام کی دعاوں کا نتیجہ ہیں، امید ہیں ان کی، اینکرز نے گڑ گڑا کر فرش پر بیٹھ کر عرش ہلائے تو آپ آئے، جنہوں ںے کسی اور کے لئے جگہ جگہ بنیرز آویزاں کئے تھے آج وہ پیسے بچا کر صرف نام تبدیلی کے ساتھ وہی بینرز پھر سے لگا رہے ہیں۔ لوگ آپ کی بہادری پر قربان ہیں اور عظمت کو سلام کرتے ہیں۔ آپ کا نام سامنے آتے ہی ملک امن کا گہوارہ بن گیا ہے۔ دہشت گرد آپ کا نام سنتے ہی خوفزدہ ہو کر خود ہی تختہ دار سے جھول چکے، بھارت بھی جان گیا ہے کہ اب کشمیر بنے گا پاکستان اور تو اور وہ اپنی سرحدیں کھسکا کر پاکستان سے دور کرنے والا ہے۔ وہ جو آپ کے آنے سے قبل آپ کو مذہی طور پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے آج وہ قسمیں کھا کر آپ کو سچا عاشق رسولؐ قرار دے رہے ہیں اور اللہ کے حضور معافی کے طلب گار ہو کر آپ کے والد کی قبر کے کتبہ بھی تلاش کر کے آئندہ لبرل ازم پڑھانے کا عہد کر چکے ہیں۔ میں خواب میں پسینے پسینے ہو رہی تھی کہ اچانک، ہمنواؤں کی تالیوں کی تھاپ میرے کانوں میں پڑی اور آواز وہی معروف قوال نصرت فتح علی کی۔۔۔۔ میرے رشک قمر، تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میمونہ سعید

میمونہ سعید جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔ وہ ملتان میں صحافت کے فرائص سرانجام دیتی ہیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلوہوما کی فیلو بھی رہ چکی ہیں ۔

maimoona-saeed has 9 posts and counting.See all posts by maimoona-saeed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *