لوگ تنہا چھوڑ دیں تو زندگی بہترین ہو جائے


کہتے ہیں کہ جو لوگ جتنا ہستے مسکراتے وہ اندر سے ہی دکھی ہوتے ہیں وہ کہتے ہے نہ یہ جو تم اتنا مسکرا رہے ہو کون سا غم ہے جسے چھپا رہے ہو بالکل اسی طرح وہ لوگ جو دوسروں کو ہنساتے ہیں وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو جھیل رہے ہوتے ہیں۔

وہ جوکر بھی جو بچوں کے سامنے جمپیں لگا کران کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہے اس کے اپنے بچوں دو وقت کی روکھی سوکھی کھاکرگزارا کرتے ہیں۔

ایک ایسا شخص جس نے پوری دنیا کو بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر صرف اپنے اشاروں سے لوگوں کو ہنسایا اور آج بھی اس کا کوئی نعم البدل نہیں وہ ہے چارلی چپلن، چارلی چپلن کہتا ہے

LIFE COULD BE WONDERFUL IF PEOPLE WOULD LEAVE YOU ALONE.

زندگی کی کتنی بڑی حقیقت چارلی چپلن نے صرف اپنے ایک قول میں سما دی ہم زندگی میں اسی لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں کی باتیں سنتے ہیں ہمیں اپنے سے زیادہ اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کی باتوں پر اعتبار ہوتاہے جو اکثر و بیشتر کبھی یہ بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ کام تمھارے بس کا نہیں تم نہیں کرسکتے۔ اس کام میں سرمایہ داری درست نہیں تمھارا سرمایہ ڈوب جائے گاحتی کہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے نوکری کرتے ہوئے پوری زندگی گزار دی ہوتی ہے اور کاروبار کرنے کی صلاحیت ان کے اپنے اندر موجود نہیں ہوتا اور وہ سمجھتے ہیں دوسرا بھی ایسا کرنے سے قاصرہیں ان لوگوں کے علاوہ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنا یہ عین فرض سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کے چلنے پھرنے، بیٹھنے اٹھنے، کھانے پینے کے انداز پر اپنی رائے کا اظہار کریں بھئی تمھارے اوپر یہ رنگ نہیں جچتا، تم ایسے کپڑے نہ پہنا کرو، تم یہاں نہ جایا کروچاہے آپ کی نظر میں ان کی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو اور آپ اپنے فیصلے پر مطمئن ہو۔ مگر ان کو پتا نہیں کیوں اس بات کا گماں ہوتا ہے کہ ان کی رائے آپ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

چارلی چپلن کے قول پر اگر لوگ عمل کرنا شروع کردیں تو حقیقت یہ ہے کہ ان کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی زندگی سہل ہونے کے ساتھ حیران کن حد تک خوبصورت ہو سکتی ہے وہ کہتے ہے نہ پتھر پر پانی ڈالتے رہو تو اس میں بھی سوراخ ہو جائے تو اس معاملے میں بھی انسان کو حد سے زیادہ مضبوط قوت ارادی دکھانی پڑتی ہے کہ وہ لوگوں کی رائے سننا چھوڑ دے اپنی پسنداپنے انداز پر اسے پوری طرح اعتبار کیوں نہ ہو مگر جب بار بار کچھ سننے کو ملے تو وہ بھی شک و شبہات کا شکار ہونے لگتا ہے کہ ہو سکتا ایسا ہو۔

چارلی چپلن کے اس قول کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا یہ قول پاکستانی معاشرہ کے لیے لکھا گیا ہو کیونکہ جتنا شوق یہاں کے لوگوں کو دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی کا ہوتا ہے اتنا کہیں اور نہیں ہوتا اس لیے حقیقتاً یہاں کے باسیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے

LIFE COULD BE WONDERFUL IF PEOPLE WOULD LEAVE YOU ALONE.

Facebook Comments HS