کورونا وائرس: انڈیا میں متاثرین کی کل تعداد پچاس لاکھ سے تجاوز کر گئی، ملک میں آکسیجن کا بحران

سوتک بسواس - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے

Getty Images
اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے

انکت سیٹھیا نے جمعے کی پوری رات جاگ کر گزار دی تاکہ کسی نہ کسی طرح ممبئی کے مضافات میں واقع 50 بیڈ کے ہسپتال کے لیے آکسیجن کا انتظام کر لیں۔

انکت کے ایس ایس ہسپتال میں آکسیجن کے چار میں سے صرف دو ٹینک بھرے ہوئے تھے۔ جبکہ ہسپتال میں 44 بیڈز پر کورونا وائرس کے مریض موجود تھے جنھیں آکسیجن کی ضرورت تھی۔

ہر چھوٹا ٹینک نو کے بجائے چھ گھنٹوں میں ختم ہو رہا تھا کیونکہ مریضوں کی اس کی ضرورت زیادہ پڑھ رہی تھی اور انکت سیٹھیا کو آکسیجن دینے والے دونوں افراد کے پاس خود بھی آکسیجن نہیں رہی۔

اس رات انکت سیٹھیا نے قریب 10 آکسیجن ڈیلرز اور چار ہسپتالوں کو فون گھمائے تاکہ آکسیجن حاصل کی جا سکے۔ لیکن مدد نہ ملی۔ پھر کہیں جا کر انھیں ایک 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہسپتال سے 20 بڑے سلنڈر دستیاب ہو گئے۔

ان کے پاس آکسیجن لانے کے لیے گاڑیاں نہیں تھیں تو ان کی اپنی ایمبولنسز نے پوری رات پانچ چکر کاٹے تاکہ وہ آکسیجن حاصل کر سکیں۔

اب ان کے ہسپتال میں چار افراد کا سارا دن کام ہی یہی ہے کہ وہ ایسے ڈیلرز سے رابطے میں رہیں جو انھیں فوری طور پر آکسیجن کا سلنڈر یا ٹینک فراہم کر سکے۔

اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انکت سیٹھیا نے کہا: ‘میرے پاس اگلے 12 گھنٹے کی آکسیجن ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم روزانہ آگ بجھا رہے ہیں اور جنگ صرف یہی ہے کہ کسی طرح آکسیجن مل جائے۔’

انکت سیٹھیا اکیلے نہیں ہیں۔ اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے اور بدھ کو سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی متاثرین کی تعداد پچاس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، اور انڈیا امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

نہ صرف یہ، بلکہ کورونا وائرس دنیا میں سب سے تیزی سے انڈیا میں پھیل رہا ہے اور گذشتہ پانچ دنوں میں روزانہ 90 ہزار نئے متاثرین کی شناخت ہو رہی تھی۔

انڈیا میں وائرس کے بڑھنے کی رفتار میں تیزی ایک ایسے وقت میں آ رہی ہے جب حکومت نے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں ہٹانے کا حکم دیا ہے تاکہ انڈیا کی گرتی ہوئی معیشت اور لاکھوں کی تعداد میں بے روز گار افراد کو سہارا مل سکے۔

یہ بھی پڑھیے

کووڈ 19: صحتیاب ہونے والا مریض بڑی سکرینوں سے ڈرنے لگا

انڈیا کی ’کورونا واریر‘ جو کینسر کے باوجود لوگوں کی مدد کرتی ہے

انڈیا کورونا کے پھیلاؤ کے وجوہات کو تسلیم کرنے پر تیار کیوں نہیں ہے؟

کووڈ 19: مرنے والوں کی لاشیں گڑھے میں ’پھینکنے‘ پر سخت تنقید

انڈیا کم لاگت والے وینٹیلیٹرز بنانے کی تگ و دو میں مصروف

انڈیا میں کورونا وائرس کی پہلی ٹیسٹنگ کٹ بنانے والی خاتون

اب تک انڈیا میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہے اور ملک بھر میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز اور بستر کم پڑ گئے ہیں اور آکسیجن کی شدید قلت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے 15 فیصد مریضوں کو سانس لینے میں مدد چاہیے ہوتی ہے۔

انتہائی بیمار مریضوں میں سے ایک بہت قلیل تعداد کو وینٹیلیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

انڈیا بھر میں 500 کے قریب فیکٹریاں ہوا سے آکسیجن حاصل کر کے اسے قابل استعمال بنا رہی ہیں۔

پھر یہ فیکٹریاں آکسیجن کو مائع حالت میں ٹینکرز کی مدد سے ہسپتالوں میں پہنچاتی ہیں جو اسے گیس میں تبدیل کر کے براہ راست بستروں پر پڑے مریضوں کو دیتے ہیں۔

کچھ ہسپتال اس کے لیے سلنڈرز استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی بار بار نگرانی کرنی پڑتی ہے اور تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

اب جب انڈیا آہستہ آہستہ اپنی معیشت کھول رہا ہے اور لوگ کام پر واپس لوٹ رہے ہیں، تو کورونا وائرس ملک کے چھوٹے قصبوں اور علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

صرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں چھ لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے اور ایک اخبار نے کہا کہ ‘ایک بہت خوفناک مرحلہ آن پہنچا ہے۔’

اور ایسی صورتحال میں یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ آکسیجن کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

حاصل کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں ملک بھر میں 2700 ٹن آکسیجن استعمال ہو رہی ہے جب کہ اپریل میں یہ تعداد صرف 750 ٹن تھی۔

آکسیجن بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اس دوران صنعتی آکسیجن کی طلب میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے کیونکہ معیشت کی بحالی کے ساتھ مختلف صنعتیں بھی کھل رہی ہیں۔

آل انڈیا انڈسٹریل گیس مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر ساکیت ٹکو کہتے ہیں ‘ہماری تیار کی ہوئی 45 فیصد آکسیجن صنعتوں کو جا رہی ہے جبکہ 55 فیصد ہسپتالوں کو جا رہی ہے۔ اور حکومت اب مشکل میں پڑ گئی ہے کہ اگر وہ صنعتوں کو آکسیجن نہیں دے گی تو فیکٹریاں کام کیسے کریں گی، اور اگر ہسپتالوں میں کم کرے گی تو جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔’

انڈیا کو نہ صرف اپنی آکسیجن تیار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے بلکہ انھیں اور بھی چیلنجز درپیش ہیں۔

زیادہ تر آکسیجن تیار کرنے والے پلانٹس شہروں اور بڑے علاقوں کے قریب موجود ہیں۔ ان کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچانا جہاں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں، اس کے لیے خصوصی ٹرک درکار ہیں۔ اس مقصد کے لیے انڈیا کے پاس صرف 1500 ٹرک موجود ہیں۔

کورونا بینر

BBC
دنیا میں کورونا کہاں کہاں: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟


دارالحکومت دہلی سمیت کئی ایسے علاقے ہیں جہاں آکسیجن تیار کرنے والی کوئی فیکٹری نہیں ہے اور انھیں دوسری ریاستوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔

حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا ہے اور بلیک مارکیٹ میں آکسیجن کی فروخت ہو رہی ہے۔

ساکیت ٹکو کہتے ہیں کہ حکومت نے آکسیجن سلنڈرز پر قیمتوں میں اضافہ کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن مائع آکسیجن کی قیمت پر ایسا نہیں کیا۔ ‘انھوں نے تیار مصنوعات پر تو قیمت میں اضافہ روک دیا لیکن خام مال پر ایسا نہیں کیا۔’

گذشتہ ہفتے ریاست مدھیا پردیش میں چار مریضوں کی موت واقع ہوئی جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ آکسیجن نہ ملنے کے باعث ہلاک ہوئے، تاہم حکام نے اس کی تردید کی ہے۔

اور پھر لوگوں کو تین سال قبل ہونے والا سانحہ ابھی بھی یاد ہے جب اگست 2017 میں ریاست اتر پردیش کے ایک سرکاری ہسپتال میں آکسیجن سپلائی کرنے والے نے رسد کی فراہمی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے بند کردی تھی اور نتیجتاً ہسپتال میں تقریباً 70 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

تقریباً دس لاکھ متاثرین کے ساتھ مہاراشٹر کی ریاست میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ وہاں پر حکام نے آکسیجن کی قلت کے خدشے کے باعث فیکٹریوں پر پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ دوسری ریاستوں میں آکسیجن نہ بھیجیں۔

ایک نجی ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر دانش کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو وہ مجبوراً مریضوں کو ہسپتال میں داخل نہیں کریں گے۔

ادھر انکت سٹیھیا کے پاس اب دوسرے ہسپتالوں سے فون کال آ رہے تھے جو ان سے آکسیجن مانگ رہے تھے۔

اس ہفتے انھوں نے ایک قریب کے ہسپتال کو ایک جمبو سلنڈر دیا۔

وہ کہتے ہیں: ‘اس ہسپتال کے مالک نے کہا کہ اگر انھیں 30 منٹ میں آکسیجن نہ ملی تو ان کے پانچ مریض مر جائیں گے ۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15359 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp