خیر اور شر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

۔

خیر اور شر انسانی زندگی کے دو متوازی پہلو ہیں۔ انسان کی معلوم تاریخ سے لے کر آج تک معاشرت میں یہ دونوں پہلو ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں۔ اللہ تعالی نے انسان کو مخلوقات میں سے احسن ترین صورت میں پیدا کیا لیکن انسان اپنی حرکتوں سے اسفل السافلین کے درجے تک بھی گر سکتا ہے۔ نفسیاتی کجی، معاشرتی ناہمواری، جرائم کے لئے سازگار ماحول اور کمزور قانونی اور عدالتی نظام ایسے عوامل ہیں جو کسی معاشرے میں شر کے پھیلاؤ اور خیر کے سکڑاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

مذہب اور معاشرے نے انسان کی اسی خصوصیت کو مدنظر رکھ کر سزا اور جزا کا نظام رائج کیا۔ اچھے کام کی جزا جہاں دنیا میں انسان کو اطمینان قلب، خوشی اور سکون کی صورت میں ملتی ہے وہیں آخرت میں اس کے لئے دائمی مسرت کا وعدہ ہے۔ شر پھیلانے کی صورت میں جہاں دنیا کا قانون اس کے لئے ذلت اور عقوبت کا باعث بنتا ہے وہیں آخرت میں ابدی جہنم اس کی منتظر ہوتی ہے۔

انہی مذہبی اور معاشرتی قوانین کا احسن صورت میں نفاذ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشرے میں خیر غالب رہے اور شر پنپنے نہ پائے۔

تاہم قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خیر کی طرف رغبت اور برائی سے نفرت کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گھر، گلی، مسجد، مدرسہ اسکول، بازار ہر جگہ شر سے بیزاری کی تعلیم اور قانون کی موثر گرفت کا اظہار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بحیثیت مجموعی کوئی معاشرہ رہنے کے قابل رہے۔ آج کی مہذب دنیا میں شخصی آزادی کی انتہائی صورت میسر ہونے کے باوجود دوسروں کے حقوق سلب نہ کرنے کا چلن ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں قانون کی فوری اور موثر دخل اندازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو معاشرہ انتہائی سزاؤں کا مخالف ہے اس نے بھی ایسا نظام بنا لیا ہے کہ شر پھیلانے والے کو سماجی مقاطعہ اور قانونی گرفت کا سامنا کرنا پڑے۔ جب کہ انتہائی سزاؤں کے حامی معاشرے میں موثر اور فوری انصاف اور کھلے عام سزا دینے کا چلن لوگوں کو شر پھیلانے سے باز رکھتا ہے۔

اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اخلاقی زوال کی انتہائی حد کو پہنچ گیا ہے۔ کمزور طبقات خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ معاشرہ اب ہر سنجیدہ فکر انسان کو ڈرا رہا ہے۔ جو کہیں بھاگ سکتے ہیں وہ بھاگنے کی سوچ رہے ہیں۔ جو کہیں نہیں جا سکتے وہ ہر آن شرپسندوں کی زور آوری اور قانون کی بے بسی سے خوفزدہ ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بچا ہوا وہی ہے جس کی قسمت اچھی ہے یا ابھی اس کی باری نہیں آئی۔

قانون، مذہب، تعلیم، معاشرہ کسی کا ڈر ہے نہ لحاظ۔ قانون بدمعاشیہ کو تحفظ دینے پر مامور جبکہ مظلوم اور کمزور پر ناخن تیز کیے بیٹھا ہے۔ عدالتی نظام اتنا گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ مظلوم اس کے قریب پھٹکنے سے بھی بھاگتا ہے لیکن مجرم کو قانون کے کمزور پہلو اچھی طرح معلوم ہیں۔ ہر روز جرائم کی ایسی کریہہ صورتیں سامنے آتی ہیں کہ انسانیت منہ چھپانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ بے لگام اور ہر طرح کی اخلاقی قید سے آزاد لیکن تیز تر ذرائع ابلاغ کی وجہ سے بعض مخصوص جرائم کی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور معاشرے کے بے بس طبقات کی روز افزوں مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

عوام کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ سے ظالمانہ بے تعلقی اور انصاف تک بے حد مشکل رسائی نے ریاست سے مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے میں اللہ پاک ہی سے کرم کی امید رکھتے ہوئے دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک ہم سب اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کو ہر طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیت سے محفوظ رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •