مرتضی بھٹو: تیری یاد کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجانے کیوں آج کربلا اور شہیدان کربلا کے بارے سوچتے سوچتے مجھے پہلے پابلو نرودا اور پھر مرتضی بھٹو یاد آ گئے شاید ان کے مابین کوئی رشتہ ہے؟

شہیدان کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کا استعارہ ہیں تو پابلو نرودا کی نظموں میں مزاحمت کے پورے پورے شہر آباد ہیں اور جرات و انصاف کے نور سے دھلا شخص مرتضی بھٹو تو سر تا پا مزاحمت تھا۔

اسی مہینے کی 20 تاریخ کو مرتضی بھٹو کی نجانے برسی کا کون سا نمبر ہے جو کہ میرے لیے بالکل بھی اہم نہیں کیونکہ چاہے آج وہ ہمارے درمیاں موجود نہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں اپنے لہو بھرے کپڑے لیے تاریخ کے چوراہے پر مظلوم مزاحمت کی علامت بن کر ارنسٹ ہمینگوے کی نوبل انعام یافتہ کتاب ”The old man and the sea“ کے اس فقرے کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ
”آدمی کو مارا جا سکتا ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی“
اور یقیناً مرتضیٰ بھٹو بھی مار دیا گیا لیکن اسے شکست ابھی ہرگز نہیں ہوئی۔

لیکن کیا یہ بات وہ لوگ بھی جانتے ہیں جو گزشتہ برس ہا برس سے مرتضیٰ بھٹو کی نعش اور انصاف کے درمیان ایک دربان، شمشیر بکف کوتوال اور پیٹر پین بن کر کھڑے ہیں مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہوئے بہت سے برس گزر چکے لیکن مرتضیٰ کے جس لاشے سے ابھی تک لہو رس رہا ہے وہ آج بھی دونوں ہاتھ پھیلائے انصاف کے حصول کا سوال لیے ”قومی چوراہے“ پہ کھڑا ہے یاد رہے کہ یہ وہ نازک دور ہے

جب بدعنوان حکمران اشرافیہ کے پیدا کردہ سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کی وجہ سے عوام مایوسی کی حالت میں قابل قبول انصاف کی اپنی آخری توقعات کو انصاف کے نام پہ قائم حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ ہائے عالیہ و عظمی کی دہلیز پر دم توڑتا دیکھ رہے ہیں اور یہ توقع آخری چارہ کار کے طور پہ عوامی جدوجہد سے وابستہ ہو چکی ہے کیونکہ تاریخ کی زمین کبھی بانجھ یا بنجر نہیں ہوتی، اس کی کوکھ سے ہمیشہ نئے نظریاتی، جدید فلسفی اور ایسے رہنما پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں جو محکوم لوگوں کی آزادی والے خوابوں کو ”تعبیر آنکھیں“ دینے کے لیے عوامی جدوجہد کے سرخ رنگ گلاب مہکائے رکھتے ہیں۔

پابلو نرودا نے اپنی ایک نظم میں ایسے لوگوں کو زندہ شہر قرار دیا ہے اور خوش قسمتی سے ہماری تاریخ میں ایسے بہت سے زندہ شہر آباد ہیں اور ہمارا تاریخی ورثہ ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والے بہت سے بہادروں کی داستانوں سے پر مایہ ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کی لاتعداد محیرالعقول کہانیاں ایسی بھی ہیں جو اس خطے کی اصل تاریخ ہیں لیکن بوجوہ انہیں عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا ہے۔

ایسی ہی ایک کہانی اقتدار اور المیہ کی دہری کیفیت کے شکار بھٹو خاندان کے اس جواں رعنا مرتضیٰ بھٹو کی ہے جس نے اپنے وقت کے ”زیوس“ سے بغاوت کی اور پھر جرات و انصاف کے نور میں دھلا یہ شخص بڑے دھیمے انداز میں کچھ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔

یہ جلاوطن باغی ہی نہیں ایک انقلابی کا قصہ ہے جو آزادی، جرات اور عزت کے خواب کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے جوان لہو میں ڈوب کر ایسا ابھرا کہ تاریخ میں ایک ایسی صبح کا عنوان بن گیا جو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے لڑنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

یہ نوحہ لکھتے ہوئے میرے سامنے بہت سارے سوالات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کیا کسی غاصب یا آمر کے خلاف مزاحمت کرنا یا صدیوں سے گمنام رہنے والی عوام کے دفاع میں بندوق اٹھانا کوئی جرم ہے؟

یہ محض مرتضیٰ بھٹو کی بے گناہی کا سوال نہیں ہے بلکہ تمام قوم کی بقا کا راز اس ایک سوال کے جواب میں مضمر ہے کیونکہ ”فتح یا موت“ کا یہ راستہ اس نے کسی شوق کی خاطر اختیار نہیں کیا تھا بلکہ ایک آمر حکومت کے خلاف مزاحمت کا آئینی و قومی فرض کفایہ ادا کیا جو کہ ایک ایسا راستہ ہے کہ جو قابل بحث ضرور ہے اور اس کے درست یا غلط ہونے پر بھی بڑے طمطراق سے فتویٰ دیا جا سکتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ فتویٰ دینے والوں میں کتنے ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے لیے کوئی نیا راستہ بنانے کی کوئی کوشش کی ہوگی۔

ضیاء آمریت کے خلاف مرتضیٰ بھٹو کی جدوجہد کو نتیجہ خیز قرار نہ بھی دیا جائے تو وہ شاندار ضرور ہے اور جہاں تک بات اس مزاحمت کے درست یا غلط ہونے کی ہے تو یہ فتویٰ دینے والا علم میرے پاس تو ہرگز بھی نہیں ہے ویسے بھی یہ تاریخ کا کام ہے کہ وہ اس جدوجہد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے مرتضیٰ بھٹو کی مزاحمتی تحریک کے درست مقام کا تعین کرے لیکن یہ المیہ بھی ایک اہم قومی سچائی ہے کہ عوام کی جدوجہد سے حاصل ہونے والا پاکستان ہنوز اپنی تاریخ سے ہی محروم ہے۔

بہرحال مرتضیٰ بھٹو کا یہ کمال ہمیں جلد یا بدیر تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے طبقے سے اٹھ کر ہم عوام سے آ ملنے والوں کی قطار میں سب سے پہلا فرد تھا وہ پسے ہوئے طبقات کے اندر سما کر تبدیلی کا مطالبہ کرنے والا پہلا جاگیردار تھا اور وہ جانتا تھا کہ اگر تم ظالم و جابر فرمانروا کو اس کے تخت سے اتارنا چاہتے ہو تو پہلے اس تخت کو تباہ کرو جو اس منصب کہ حصول کے لیے تم نے اپنے اندر سجا رکھا ہے مرتضیٰ بھٹو اپنے اندر سے اس تخت کو تباہ کر کے ایک ایسا دہقان سپاہی بن گیا تھا جس کے سینے میں مشین گن کا مورچہ ہمیشہ آباد رہتا ہے۔

بھٹو کا یہ بیٹا تاریخ کا طالبعلم تھا اور یہ جانتا تھا کہ برصغیر کی قدیم قومیں آج بھی اپنی تاریخی شخصیتوں کا ذکر بڑے احترام سے کرتی ہیں اور برصغیر کے عوام جنگ و جدل اور مذہبی گروہ بندیوں کی وجہ سے نفسیاتی طور پر شخصیت پرست بن چکے ہیں لیکن اس حقیقت کے ادراک کے باوجود اس نے پاکستان لوٹنے کے بعد بھی یہاں کی کرپٹ سیاسی روایات کا حصہ بننے کے بجائے اپنے سیاسی سفر میں اصولوں کا دامن تھامے رکھا اور مکمل طور پر یہ ایک سیاسی کارکن کے قالب میں ڈھل گیا لیکن پھانسی گھاٹ پر سبزہ اگتے کس نے دیکھا ہے؟

لہذا مرتضی بھٹو قتل کیس میں عام لوگ کم از کم قابل قبول انصاف کے حصول میں عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ چند مورچوں، تعزیرات اور دفعات کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی آخری جنگ ہے اس لیے عدلیہ کو حکومتی دہشت گردی اور انسان و وطن دشمن نظام کے خلاف مدد کے لئے پکارا جا رہا ہے اس امید پر بار بار پکارا جا رہا ہے کہ شاید اب چھوٹی چھوٹی لفظی بغاوتوں سے ہی ایوان عدل کے در کھل جائیں

خدا ہمارے عوام کو سچائی کے مورچوں پر کھڑا ہونے اور صرف دفاعی نہیں بلکہ فیصلہ کن فتح کے لیے ایک جارحانہ جنگ لڑنے کی توفیق دے۔
کاش کہ، پاکستان کے غریب عوام آزادی، جمہوریت، مساوات اور اعلان حق کے ہر میدان میں فاتح رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غلام شہباز بٹ کی دیگر تحریریں