کیا خونریزی انقلاب کا لازمہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب کا نام آتے ہی ہمارے ذہنوں میں تشدد و خون ریزی کا تصور پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ تصور اپنی جگہ درست ہے کیونکہ اگر دنیا میں برپا ہونے والے نماٰیاں انقلابات کا مطالعہ کیا جائے تو تشدد کا عنصر لازمی نظر آتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تشدد واقعی انقلاب کی خصوصیت ہے؟ سماجی علوم کے ماہرین کی نگاہ میں تشدد انقلاب کی خصوصیت نہیں ہے اور انقلابی کا متشدد ہونا اس کی تربیت کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ تشدد کو انقلاب کا لازمہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ جہاں بھی انقلابی تحریکیں اٹھتی ہیں وہاں سب سے پہلا خطرہ موجودہ حکومت کو لاحق ہوتا ہے اور وہ ان تحریکوں کو سرکوب کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہیں۔

بعض اوقات اس حکومتی تشدد کے ردعمل میں انقلابی تحریکیں بھی تشدد کا مظاہرہ کرتی ہیں یا انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب مخالف افراد کو سزائیں دینے کا کام بھی تشدد کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں گزشتہ دو سو سالوں کے اندر تشدد کا عنصر مشترک طور پر تمام انقلابی تحریکوں میں ملتا ہے اور شاید اسی لیے تشدد کو انقلاب کی خصوصیت سمجھا جانے لگا۔ تشدد در حقیقت بیرونی عوامل کی وجہ سے مراحل انقلاب میں پیدا ہوتا ہے جبکہ خود انقلاب کے اندر ایسا کوئی تقاضا موجود نہیں ہوتا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی انقلاب بذات خود تشدد نہیں چاہتا بلکہ حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ تشدد پیدا ہوجاتا ہے اور اس تشدد کا درجہ اور شدت کیا ہوگی، یہ مختلف عوامل پر انحصار کرتا ہے۔

پہلا عامل خود وہ حکومت ہے جس کے خلاف انقلابی تحریک شروع ہوئی ہے، اگر حکومت کے مزاج کے اندر زیادہ شدت پسندی ہوگی تو انقلابی تحریکوں میں زیادہ خون خرابہ اور تشدد وجود میں آئے گا۔ زیادہ تر انقلابات آمر حکومتوں کے خلاف کامیاب ہوئے ہیں اور تمام آمرانہ حکومتوں کے اندر سفاکیت کی خصوصیت مشترک طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 1962 میں الجزائر کے اندر انقلابی تحریک کا ہر آٹھواں فرد قتل ہوا اور مجموعی طور پر لاکھوں افراد کا قتل کیا گیا، اسی طرح 1975 میں ویتنام کے اندر امریکہ نے لوگوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔ بعض انقلابات کے اندر بہت کم درجے کا تشدد پیدا ہوا، مثلاً کیوبا اور نکاراگوئے کے اندر چند ہزار لوگ قتل ہوئے۔

انقلابی قیادت اور انقلابی افراد کا رویہ بھی تشدد کو کم یا زیادہ کرنے کا ایک اہم عامل ہے۔ اگر قیادت سوجھ بوجھ رکھنے والی اور تجربہ کار ہو تو تشدد کو کم ترین سطح پر لے آتی ہے لیکن اگر قیادت با بصیرت نہ ہو اور مناسب فیصلے نہ کرے تو غیر متوقع مقامات پر بھی سخت ترین تشدد پیدا ہوجاتا ہے۔ انقلاب اسلامی کے دوران 11 فروری کی رات امام خمینی نے حکم دیا کہ کل تمام ملت گھروں سے باہر نکل آئے اور حکومت وقت کے خلاف مظاہرہ کرے۔ انقلابی تحریک کے نمایاں اور اہم افراد نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور قتل عام ہونے کا خدشہ ظاہر کیا لیکن امام خمینی نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا اور پھر سب نے دیکھا کہ اس روز حکومت کی طرف سے عوام پر کوئی بھی تشدد نہیں ہوا بلکہ شاہ ایران کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

دراصل یہ امام خمینی کی قائدانہ بصیرت کا نتیجہ تھا ورنہ اگر یہ کام عین اسی دن نہ کیا جاتا تو شاید انقلاب کی کامیابی موخر ہوجاتی۔ آج ہم عالم اسلام کے بے بصیرت قائدین کو دیکھتے ہیں کہ اسرائیل جیسی سفاک اور ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے میں عافیت سمجھ رہے ہیں جبکہ اس احمقانہ فیصلے سے اسرائیل کی طرف سے تشدد اور غارت گری میں مزید اضافہ ہوگا۔

عالمی رائے عامہ بھی تشدد کو بڑھانے یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر انقلابی تحریک ملکی اور عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے پر کامیاب ہو جائے تو حکومتیں زیادہ تشدد نہیں کرتیں لیکن اگر حکومت عوام کو انقلابی تحریک کے خلاف بھڑکانے میں کامیاب ہو جائے تو شدید خون ریزی وجود میں آتی ہے اور کسی کو کوئی حساسیت بھی نہیں ہوتی بلکہ اس حکومتی تشدد کو درست سمجھا جاتا ہے۔

جین شارپ نے پر تشدد انقلاب کے مقابلے میں مخملی انقلاب یا نرم انقلاب کا نظریہ پیش کیا، جین شارپ نے سماجی علوم اور مختلف ملکوں کی ثقافت کا بغور جائزہ لے کر ایک مکمل تھیوری پیش کی، جس کے مطابق کسی بھی حکومت کو بغیر کسی تشدد کے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ اس کا یہ نظریہ در حقیقت مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی تحریک کا مرہون منت ہے۔ جین شارپ نے 198 روشیں ذکر کی ہیں جن کی مدد سے کوئی بھی توڑ پھوڑ کیے بغیر حکومت کا تختہ الٹا جا سکتا ہے اور اتفاقاً اس کی یہ تھیوری بہت سے ملکوں میں کامیاب بھی ہوئی۔ مثال کے طور پر یوکرائن، جارجیا اور قازقستان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیاں پیش کی جا سکتی ہیں۔

لیکن یہاں یہ نکتہ سمجھنا لازمی ہے کہ جیسے انقلاب روس صرف کمیونزم کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوا بلکہ اس کے اندر دیگر عوامل بھی کار فرما تھے، اسی طرح مہاتما گاندھی کی تحریک بھی (جو اپنی جگہ ایک منظم اور کامیاب تحریک تھی) صرف سول نافرمانی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئی بلکہ اس کامیابی کے اندر ایک بڑا اور اہم عنصر برطانوی حکومت کی کمزوری تھی جو اس کے اندر دوسری علمی جنگ میں شکست کے بعد پیدا ہوئی۔ برطانوی راج عالمی جنگ میں شکست کے بعد اس قدر ناتواں ہو چکا تھا کہ اس کے لیے اس خطے میں مزید رکنا ممکن نہیں تھا۔

ایک اور اہم پہلو جو جین شارپ کے نظریے کو انقلاب کی خصوصیات سے جدا کرتا ہے وہ نظام کی تبدیلی سے متعلق ہے۔ انقلاب کی اہم خصوصیت موجودہ نظام کا مکمل خاتمہ اور اس کی جگہ نئے اقدار کے ساتھ نئے نظام کا قیام ہے جبکہ جین شارپ کے نظریے کی بنیاد پر آنے والی سیاسی تبدیلیوں میں کہیں بھی نظام تبدیل نہیں ہوا بلکہ حکومتیں اور چہرے تبدیل ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان تحریکوں کا آغاز عوام ہی کی طرف سے ہوا لیکن کہیں بھی منظم آئیڈیالوجی کارفرما نہیں تھی بلکہ جذباتی اور حالات سے تنگ عوام نے سول نافرمانی جیسی تحریکوں کو کامیاب کیا۔

رسول اکرم ﷺ نے بہت ہی عظیم اسلامی انقلاب برپا کیا جس کے تمام مراحل میں انقلابی افراد پر سخت تشدد کیا گیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد رسول اکرم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا، اسی طرح صلح حدیبیہ بھی نرم رویے کا عظیم شاہکار ہے۔ البتہ یہاں یہ نکتہ بھی مد نظر رہے کہ جس معاشرے میں آپ ﷺ نے انقلاب برپا کیا وہاں آج کی طرح کوئی منظم حکومت نہیں تھی، ابو سفیان کے بیرونی دنیا سے تعلقات اور روابط نہیں تھے۔

اب جب کہ حکومتیں اپنی اندرونی اور بیرونی حمایت یافتہ طاقتوں کے ساتھ زیادہ منظم اور طاقتور ہیں تو ممکن ہے وہی اقدامات آج موثر ثابت نہ ہوں۔ اسی طرح انقلاب اسلامی ایران کے دوران بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی فوجی کی بندوق سے عوام پر گولی چلتی تھی تو کوئی جا کر اس بندوق کی نالی میں پھول لگا دیتا اور اس غیر متشدد روش نے انقلاب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا لہذا تشدد رکن انقلاب نہیں ہے لیکن اکثر بیرونی عوامل کی وجہ سے تشدد انقلاب کا لازمہ بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •