مرتضی بھٹو: تیری یاد کے آنسو

نجانے کیوں آج کربلا اور شہیدان کربلا کے بارے سوچتے سوچتے مجھے پہلے پابلو نرودا اور پھر مرتضی بھٹو یاد آ گئے شاید ان کے مابین کوئی رشتہ ہے؟

شہیدان کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کا استعارہ ہیں تو پابلو نرودا کی نظموں میں مزاحمت کے پورے پورے شہر آباد ہیں اور جرات و انصاف کے نور سے دھلا شخص مرتضی بھٹو تو سر تا پا مزاحمت تھا۔

اسی مہینے کی 20 تاریخ کو مرتضی بھٹو کی نجانے برسی کا کون سا نمبر ہے جو کہ میرے لیے بالکل بھی اہم نہیں کیونکہ چاہے آج وہ ہمارے درمیاں موجود نہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں اپنے لہو بھرے کپڑے لیے تاریخ کے چوراہے پر مظلوم مزاحمت کی علامت بن کر ارنسٹ ہمینگوے کی نوبل انعام یافتہ کتاب ”The old man and the sea“ کے اس فقرے کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ
”آدمی کو مارا جا سکتا ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی“
اور یقیناً مرتضیٰ بھٹو بھی مار دیا گیا لیکن اسے شکست ابھی ہرگز نہیں ہوئی۔

Read more

کیا کراچی کو کسی خضر کی تلاش ہے؟

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں کراچی کے ایک قدیم علاقے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ کراچی نے میرے اندر اک نیا جنم لیا ہے۔ یہ میری جنم بھومی ہی نہیں بلکہ میرا وہ استاد ہے جس نے خضر راہ سے مجھے روشناس کرایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ تم جس مشنری اسکول کا حصہ بنے دراصل وہ جناح پونجا کے بیٹے کا اسکول ہے لیکن سرکاری حاشیہ بردار وثیقہ نویس ایک قائداعظم بنانے کے لئے اس اسکول

Read more