اے پی سی سے نواز شریف کے خطاب کا پس منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو بتا چکے ہیں کہ وہ اب اے پی سی میں دلچسپی نہیں رکھتے، جب تک ان کے دو میں سے ایک مطالبات پر عمل نہ ہو۔ یا تو میاں نواز شریف خود اے پی سی میں لائیو شرکت کریں، یا پھر اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفی دینے کا اعلان کرے۔ نواز شریف نے اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا اب استعفوں پر اصرار نہیں کریں گے۔
نواز شریف کی شرکت کی وجہ سے آصف علی زرداری بھی شریک ہوں گے۔ گل ودھ گئی اے مختاریا۔

کہتے ہیں کہ جب تیسری بار سول بلکہ تاجروں سرمایہ داروں سے بات کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ کپتان رہے گا۔ کوئی کہیں نہیں جا رہا تب نواز شریف نے فون اٹھا لیا ان سب سے بات کرنی شروع کر دی جن سے وہ تب مشورہ کرتے ہیں، جب کوئی نیا چن چڑھانے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ جان لیں کہ نواز شریف کے کہنے پر ایک اہم مسلم لیگی لیڈر اک اہم سینیٹر سے معذرت کر چکے ہیں۔

نواز شریف کئی ہفتوں سے لندن میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اک اہم ترین ملاقات ان سے لندن میں عرب شریف سے آئے اک مہمان نے کی ہے۔ اس مہمان سے جو بات ہوئی اس کے منتخب حصے اپنی مرضی سے مسلم لیگی سٹائل کے عین مطابق لیک بھی کر دیے گئے۔

ایک بات ان لیک شدہ معلومات سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ہماری سیاسی قیادت ذمہ دار ہے۔ نواز شریف ہوں آصف زرداری ہوں مولانا فضل الرحمن ہوں، یا باقی لیڈر حضرات یہ حکومت میں ہوں اپوزیشن میں، یہ سب اپنی ریاستی ذمہ داری کا خیال کرتے ہیں۔

امریکہ سے نہایت دلچسپ خبریں آ رہی ہیں۔ یہ خبریں ہم سے متعلق نہیں ہیں۔ ان کے اثرات ضرور ہم پر ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی بحران جنم لے سکتا ہے۔ ایم بی ایس کی نئی قیادت کی روایتی سعودی سوچ سے اک گہری کشمکش شروع ہے۔

کچھ خبروں کے مطابق ایم بی ایس شاید اقتدار سنبھالنے کی کوشش کریں۔ ناکام رہے، کامیاب ہوئے اس کے اثرات ہوں گے۔ امریکہ میں اک مضبوط لابی چاہتی ہے کہ ایم بی ایس کے مضبوط حریف ایم بی این (محمد بن نائف) جو نظر بند ہیں، ان کی پوزیشن بحال کی جائے یا کم از کم انہیں بچایا جائے۔

شاہ محمود قریشی کا سعودی مخالف سمجھا جانے والا بیان بھی اک قسم کا اظہار ہے کہ ہم سعودی صورتحال سے تھوڑا فاصلے پر گئے ہیں۔ پاکستان سعودیوں کے لیے ایک ریسکیو سنٹر کے علاوہ پاور ہاؤس بھی ہے۔ سعودی شاہ پاکستان کو اپنی مستقل طاقت سمجھتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے پاکستان اور پاکستانیوں کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ جب ہمارے آپس میں تنازعات ہوں تو سعودی درمیان میں کود کر فریقین کو برابر چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسی ہی ایک کوشش تب بھی ہوئی جب مسلم لیگ کی حکومت تھی، کپتان کنٹینر پر تھا اسے بار بار دھرنے آ رہے تھے۔ تب مسلم لیگ نون کو صبر کرنا پڑا تھا۔ اب سعودیوں کو کرنا پڑا ہے۔ تازہ ملاقات میں اپنا اپنا صبر یاد کیا گیا ہوگا۔ یہ بس اندازہ ہی ہے خبر نہیں ہے۔

نواز شریف نے سعودی ملاقاتی سے لازمی پوچھا ہو گا، سناؤ پھر بادشاہو ہنڑ آرام اے۔

اس آرام اے کا لطیفہ یہ ہے کہ کپتان جیسے کسی کو روٹی کھاتے دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ تھوڑی کھا گندم کا بحران آنے والا ہے۔ پنکھے بند کر کے انگڑائی لیں رضائی نکالیں کچھ اچھا سوچیں محبتاں وغیرہ کا تو کپتان نے بیان دے دیا ہے کہ خبردار اس بار سردی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو گی۔ یہ دل پاڑ گیت کپتان صرف ہمیں ہی نہیں سناتا باہر بھی ایسے ہی سر لگاتا ہے۔

ایران میں ایرانی رہبر کو ایرانی انقلاب پر اک لمبا خطاب کر چکا ہے۔ سعودیوں کو بتا چکا ہے کہ ایرانی ان سے کتنے تگڑے ہیں کیسے خود کش دھماکوں کی ٹیکنالوجی پر عبور رکھتے ہیں کہ چس آ جاوے۔ ایسے ہی چینیوں کو بتا چکا ہے کہ تمھارے انٹرسٹ یعنی سی پیک کو پاکستان میں خطرہ ہے۔

اب یہ ساری باتیں لطیفے ہی لگتی ہیں، لطیفہ ہی ہوں گی۔ کپتان پر یہ سب لطیفے ویسے ہی فٹ آتے ہیں۔ جیسے ہر الٹا کام زرداری صاحب پر ڈالا جائے تو نگینے کی طرح فٹ بیٹھتا ہے۔ ان سب باتوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ کپتان حکومت کے لیے سفارتی محاذ پر سب اچھا نہیں ہے۔

اپنے خبری کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر پاکستان کے ریاستی موقف کا اظہار کیا ہے۔ سعودیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے رابطے استعمال کر کے صورتحال کو بگڑنے سے بچائیں۔ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ جب تک معاملات ہمارے ہاتھ میں تھے، ہم نے آپ کے مفادات کا خیال رکھا۔ جب ہم باہر ہوئے تو ایران سے روایتی مسئلہ تھا آپ کا، اب ترکی سے بھی شروع ہو گیا۔ یہ ہم نے کبھی ہونے نہیں دیا تھا۔ تو اب آپ کو کچھ سمجھ آئی کہ ہمارا کیا فائدہ تھا آپ کو۔

ہم سے دور ہوئے ہیں تو اسرائیل تک جانا پڑ گیا ہے آپ کو۔ ہمارے ہوتے ہوئے یہ نوبت آتی؟

چلیں اس بلاگ سے نکل آئیں، گپیں ہی ہیں زیادہ دل پر نہ لیں۔ افغان کہتے ہیں کہ پاکستان میں اب جٹ سٹائل میں حکومت چل رہی ہے۔ ہم اس سے اک تھریٹ فیل کرتے ہیں کہ رنجیت سنگھ نے بھی ہمیں اک پل چین نہیں لینے دیا۔ اک جاٹ چودھری جو پاپا جونز پیزے سے سڑ وڑ گیا، اس کا کہنا ہے کہ شکر ہے باجوے چودھری نہیں لکھتے۔ ہم کدھر سے پیزے کھلاتے پھرتے۔

آپ کنفیوز ہو گئے ہوں گے؟ تو پھر سیدھی بات یہ ہے کہ اپوزیشن ایگزٹ سٹریٹجی پر غور کرے گی کہ جدھر سب جا پھنسے ہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی باعزت راستہ نکالا جائے۔ مل جائے تو ٹھیک ورنہ بے عزت ہو کر نکلتے ہیں پھر اس سب سے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 392 posts and counting.See all posts by wisi