سائنس کی دنیا سے۔ (حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


1۔ سائنسدانوں نے ایک نئی دوا ایجاد کی ہے جو اینٹی بائیوٹک مزاحم جراثیم کو ختم کر سکتی ہے۔

کیمیکل سائنس نامی جریدے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے تحقیق کار ایک نئی دوا ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو اینٹی بائیوٹک مزاحم گرام پازیٹیو اور گرام نیگٹیو دونوں طرح کے جراثیم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ یہ نئی دوا جراثیم کی حفاظتی دیواروں سے گزر کر ان کے جینیاتی مواد کو متاثر کر سکتی ہے۔

جراثیم کش دواؤں کے خلاف جراثیم کی مزاحمت ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور ماہرین اسے ایک عالمی میڈیکل ایمرجنسی قرار دے رہے ہیں۔ جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے ہر سال صرف یورپ میں 25 ہزار ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 تک ایک کروڑ سے زیادہ لوگ ہر سال اینٹی بائیوٹک مزاحم جراثیم کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وسیع حیطہ عمل والی نئی جراثیم کش ادویات اشد ضروری ہیں۔ واضح رہے کہ پچھلے پچاس سال میں گرام نیگیٹو بیکٹیریا کے خلاف کوئی نئی دوا ایجاد نہیں ہوئی اور نہ ہی 2010 سے اب تک کوئی ممکنہ اینٹی بائیوٹک کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو سکی ہے۔

2۔ مسلسل ڈراؤنے خواب آنا دل کی بیماریوں کی نشانی ہو سکتی ہے۔

جریدہ سلیپ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق مسلسل اور شدید ڈراؤنے خوابوں اور دل کے مسائل، بلند فشار خون اور ہارٹ اٹیک میں تعلق ہو سکتا ہے۔ یہ تعلق ڈپریشن، سگریٹ نوشی اور PTSD وغیرہ جیسے عوامل کو خارج کرنے کے باوجود بھی نمایاں رہا۔ تحقیق میں شامل ماہرین نفسیات کے مطابق اس تعلق پر مزید تحقیق کے بعد ڈراؤنے خوابوں کا علاج دل کے جملہ مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

3۔ معاشرتی اضطراب کا شکار بہت سے لوگ شرمیلے اسٹیریو ٹائپ کے بجائے محض ”بیچین ملنسار“ طرح کے بھی ہو سکتے ہیں۔

معاشرتی اضطراب کا اظہار مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے تاہم اس کا شکار لوگ عام طور پر دوسروں کے برعکس شرمیلے ہوتے ہیں۔ تاہم PLoS One جریدے میں شائع شدہ ایک تحقیق ”بے چین ملنسار“ لوگوں کی صورت میں اس عام کلیے سے ایک واضح استثنا کا اظہار کرتی ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق لوگوں کی شخصیات کے اعصابی، ملنسار، کشادہ طبع، دیانتدار اور رضامند جیسے پانچ بنیادی پرتو ہو سکتے ہیں جو اضطراب کی صورت میں مختلف رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

ماہرین نفسیات نے اس استثنائی صورت کو اضطراب کے مریضوں اور نارمل لوگوں کے دو گروپوں کے مشاہدات پر تحقیق کے بعد اخذ کیا۔

4۔ خلائی تحقیق کاروں نے دو بلیک ہولز کا اب تک کا سب سے بڑا انضمام دریافت کیا ہے۔

خلائی سائنسدانوں کے مطابق یہ شدید انضمام آج سے سات ارب سال پہلے ہوا جس کے نشان اب ہم تک پہنچے ہیں۔ یہ تباہ کن واقعہ بلیک ہول جیسے پرجوش کائناتی اجسام کی پیدائش کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

دو بلیک ہول جس میں سے ایک سورج سے 66 گنا اور دوسرا تقریباً پچاسی گنا بڑا تھا، ناقابل یقین رفتار سے گھومتے ہوئے قریب آئے اور ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے۔ اس انضمام سے توانائی کا ایک تباہ کن دھماکا ہوا جس نے پوری کائنات میں لرزہ خیز موجیں پیدا کیں اور سورج سے 142 گنا بڑے ایک نئے بلیک ہول نے جنم لیا۔

درمیانے سائز کے بلیک ہولز کے انضمام کا یہ پہلا مشاہدہ ہے کیونکہ اس سے پہلے ابھی تک سائنسدان دو طرح کے بلیک ہولز کا مشاہدہ کر سکے تھے جن میں سے کچھ سورج سے صرف چند گنا اور باقی لاکھوں کروڑوں گنا بڑے تھے۔

مستقبل میں درمیانے بلیک ہولز کے انضمام کے مزید مشاہدات کی بھی امید ہے جس سے خلائی سائنسدانوں کو کائنات کی موجودہ شکل کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملے گا۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے درمیانے بلیک ہولز بار بار ایک دوسرے میں مدغم ہو کر کہکشاؤں کے مرکز میں موجود انتہائی بڑے بلیک ہولز کی پیدائش کا باعث بنے ہوں گے۔ اسی لئے خلائی سائنسدان درمیانے سائز کے بلیک ہولز کو کائنات میں انتہائی بڑے پیمانے پر کھوج رہے ہیں۔

5۔ زمینی ماحول چاند کو زنگ لگنے کا سبب ہو سکتا ہے۔

خلائی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چاند کو زمین کی وجہ سے آہستہ آہستہ زنگ لگ رہا ہے اور وہ سرخ ہو رہا ہے۔ یہ خیال چاند کی سطح کے مختلف سائنسی جائزوں کے بعد ظاہر کیا گیا ہے۔ چاند کی قطبی سطح پر فولادی چٹانوں اور زمین پر اسی طرح کے ہیماٹائٹ نامی زنگ کی طرح کے مادے میں مطابقت پائی گئی ہے جو بظاہر چاند کے ماحول میں ناممکن ہے۔

لوہے کے زنگ پکڑنے کے لیے آکسیجن کی موجودگی ضروری ہے جب کہ چاند پر آکسیجن کا وجود نہیں ہوتا۔ خلائی سائنسدانوں کے خیال میں زمینی ماحول سے انتہائی کم مقدار میں آکسیجن کا چاند پر پہنچنا ہی اس مظہر کا باعث ہو سکتا ہے۔

تاہم زنگ کے لئے پانی کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ چاند پر پانی موجود نہیں ہے تاہم چاند کے گڑھوں میں برف کے موجودگی کے آثار ملے ہیں۔ سائنسدانوں کے خیال میں گرد کے ذرات چاند کی تہوں میں موجود برف سے پانی کے کچھ سالمے حاصل کرکے لوہے کے ساتھ آکسیجن کی موجودگی میں زنگ کے لیے درکار تعامل ممکن بنا سکتے ہیں۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •