EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کثیرالجہتی اور تعاون: دنیا میں امن کے لئے دو راستے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ایک مرتبہ پھر دنیا کے مختلف ممالک اور خطے تقسیم در تقسیم اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ سبق جو اقوام متحدہ کے قیام کا سبب بنا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کا نقصان ہی ہوتاہے ایک مرتبہ پھر بھلایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی کے حق میں نہیں ہے نہ ان کے جو خود کو طاقتور سمجھتے ہیں اور نہ ان کے جو کمزور ہیں۔ ایسی صورتحال جب برقرار رہتی ہے تو ترقی کا پہیہ الٹ چلنے لگتاہے اور جس ترقی کے لئے سالہا سال لگتے ہیں اور جس میں نسلوں اور کروڑوں لاکھوں لوگوں کی محنت اور قربانی شامل ہوتی ہے بہت کم عرصے میں جنگ اور اختلافات کی نذر ہوجاتی ہے۔ تاہم اس وقت صورتحال اس لیے مختلف ہے کہ اقوام متحدہ ا پنی 75 سالہ تاریخی حقیقت کے ساتھ کھڑا ہے۔ دنیا کا ایک اہم اور امن پسند ملک چین اقوام متحدہ کے ساتھ کھڑاہے جو دنیا کے لئے باعث امید ہے۔

30سال قبل اقوام متحدہ کے معاہدوں کی نگران تنظیم کے مبصر گروپ کی حیثیت سے شرکت کے ساتھ چین نے اقوام متحدہ میں اپنی خدمات کو جو آ غاز کیا، اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت شورش زدہ اور آفت زدہ علاقوں میں امن برقرار رکھنے کا ایک عہد بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ہونے کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر، عالمی امن برقرار رکھنے میں چین کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں فوجیوں کی تعداد کے لحا ظ سے نہ صرف سب سے زیادہ حصہ ڈالتا رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے فنڈ میں بھی دوسرا بڑا عطیہ دہندہ ہے۔ 30 سال اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ چینی فوجیوں نے اقوام متحدہ کے نیک مقصد کے لئے وفاداری اور دل و جاں سے اپنے فرائص کی انجام دہی کی ہے۔ اور اس عظیم راہ پر چلتے سولہ ساتھیون کی قربانی بھی دی ہے۔

چینی فوجیوں نے جن ممالک اور خطوں کے عوام کی خدمت کی ہے انھوں نے ان کو خوب سراہا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی اپنے فرائض کی بطریق احسن انجام دہی پر ان کی تعریف کی ہے تاہم اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ خدمات چین کے پرامن تشخص اور مشق کی خوب نمائندگی کرتی ہیں۔

ماضی میں جنگوں اور غیر ملکی حملوں سے دوچار ملک کی حیثیت سے چین سب سے بڑھ کر امن کا احترام کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن اسے شورش زدہ علاقوں میں امن کی بحالی اور برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یا د رہے کہ امن برقرار رکھنے کے مقصد کے تحت ہی چینی صدر شی جن پھنگ نے ستمبر 2015 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے قیام امن سے متعلق رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امن کی بحالی کے لئے 8000 رکنی اسٹینڈ بائی ملٹی ٹاسک فورس بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایک اور حقیقت یہ ہے کہ چینی فوج دنیا کی جدید ترین فوجوں میں سے ایک ہے، لہذا چینی امن فوج کی جدت کاری سے اقوام متحدہ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

اس وقت بڑھتی ہوئی یک طرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور اجارہ داری کے رجحانات سے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان خطرناک رجحانات کا موثرمقابلہ صرف اور صرف کثیرالجہتی اور تعاون سے کیا جاسکتا ہے، یہی وہ دو بڑے اصول ہیں جن پر 75 سال قبل اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

اس لیے چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے رواں ماہ کے شروع میں اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر بین الاقوامی سیمینار میں اپنی تقریر میں کہا، ”اگلے 75 سالوں کے لئے، ہم تمام اقوام سے کثیرالجہتی کے تحفظ کے لئے ٹھوس کوششیں کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، آئیے سب ترقی کے دائیں طرف کھڑے ہوں، اور اقوام متحدہ کے کام کو ایک نئی سطح پر لے جائیں“ ۔

یہ کثیرالجہتی کے احترام کا جذبہ ہی ہے جس کے تحت صدر شی جن پھنگ بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ چونکہ اقوام متحدہ کثیرالجہتی اور امن کا مجسمہ ہے، لہذا اقوام متحدہ اور اس کی تما م تنظیموں میں فعال شرکت کے ذریعے امن اورترقی کو فروغ دینے کیلے چین اپنی خدمات سر انجام دینے کا عزم رکھتاہے۔

وبا اور معاشی چیلجز کے تحت اس وقت دنیا کو امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور امن کے لئے ایک دوسرے کے احترام اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ بالفاظ دیگر کثیرالجہتی اورتعاون وہ دو پروانے ہیں جو دنیا میں دیرپا امن قائم کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •