جب کورونا پھوٹا اور مختصر عرصے کے بعد عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا تو میرا ذاتی احساس یہ تھا کہ یہ وائرس پوری دنیا کو متحد کرے گا۔ کیونکہ مختلف قوموں کو جب ایک ہی قسم کی مصیبت یا چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو وہ آپس کی رنجشیں اور اختلافات بھلا کر اس چیلنج کے خلاف متحد ہو جاتیں ہیں۔ تاہم میرا یہ احساس خام ثابت ہوا۔ دنیا زیادہ تر پرانے ڈگر پر ہی چل رہی ہے۔ کووڈ۔ 19 کی تباہ کاریوں کے باوجود بعض ممالک اپنے روایتی سیاسی انداز میں معاملات آگے بڑھا رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ملک کے اندر کورونا کو قابو کرنے کی بجائے اپنی توجہ چین پر مرکوز کیے رکھی ہے اور نہ صرف خود چین کے مختلف اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی چین کے خلاف اکسانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات اپنی جگہ کون صحیح کون غلط یہ بحث ایک طرف ؛ موجودہ وقت میں جب کورونا نے دنیا کی معیشت اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ایسے میں بہتر ہوتا امریکہ جیسے بڑے ملک کا صدر اتفاق و اتحاد کی بات کرتا وبا کے خلاف مل کر لڑنے کی بات کرتا اور عالمی ادارہ صحت کو مضبوط کرنے کی بات کرتا۔ افسوس کہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر امریکی صدر کے کردار اور رویے نے مایوس کیا ہے۔
Read more