حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے چین کی قانون سازی، دنیا کے لئے مثال

عالمی حیاتیاتی تنوع میں کمی اور انحطاط کے بارے میں پوری انسانیت فکرمند ہے۔ دنیا کے 12 بڑے حیاتیاتی تنوع والے ممالک میں سے ایک کے طور پر، چین کو بعض انتہائی سخت چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ان معاملات کو حل کرنے کے لئے متعدد پالیسیاں وضع کیں ہیں۔

Read more

کثیرالجہتی اور تعاون: دنیا میں امن کے لئے دو راستے

اس وقت ایک مرتبہ پھر دنیا کے مختلف ممالک اور خطے تقسیم در تقسیم اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ سبق جو اقوام متحدہ کے قیام کا سبب بنا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کا نقصان ہی ہوتاہے ایک مرتبہ پھر بھلایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی کے حق میں نہیں ہے نہ ان کے جو خود کو طاقتور سمجھتے ہیں اور نہ ان کے جو کمزور ہیں۔ ایسی صورتحال

Read more

ٹرمپ کی چین پالیسی اور گیلپ سروے کے نتائج

گیلپ نے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں 30 جولائی سے 12 اگست تک امریکہ کے اندر ایک سروے کا انعقاد کیا۔ سروے کے 1031 بالغ امریکی شہریوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 41 فیصد شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ یہ تعداد فروری کے شروع میں کیے گئے سروے کے 48 فیصد سے 7 فیصد کم ہے۔ تقریباً 57 فیصد نے صدر کی چین پالیسی کو رد کیا ہے۔ اگر چہ یہ نہیں بتا یا گیا کہ اس سروے کو کس طرح تشکیل دیا گیا اور اس کے لئے کون سا طریقہ کار اپنا یا گیا یا آیا شرکا زیادہ سخت پالیسی چاہتے ہیں تاہم پھر بھی اس سے ٹرمپ کی موجودہ چین پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار ضرور ہوتا ہے۔

Read more

بھارت کی چین سے سے ڈی کپلنگ کی مہم

جب کورونا پھوٹا اور مختصر عرصے کے بعد عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا تو میرا ذاتی احساس یہ تھا کہ یہ وائرس پوری دنیا کو متحد کرے گا۔ کیونکہ مختلف قوموں کو جب ایک ہی قسم کی مصیبت یا چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو وہ آپس کی رنجشیں اور اختلافات بھلا کر اس چیلنج کے خلاف متحد ہو جاتیں ہیں۔ تاہم میرا یہ احساس خام ثابت ہوا۔ دنیا زیادہ تر پرانے ڈگر پر ہی چل رہی ہے۔ کووڈ۔ 19 کی تباہ کاریوں کے باوجود بعض ممالک اپنے روایتی سیاسی انداز میں معاملات آگے بڑھا رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ملک کے اندر کورونا کو قابو کرنے کی بجائے اپنی توجہ چین پر مرکوز کیے رکھی ہے اور نہ صرف خود چین کے مختلف اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی چین کے خلاف اکسانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات اپنی جگہ کون صحیح کون غلط یہ بحث ایک طرف ؛ موجودہ وقت میں جب کورونا نے دنیا کی معیشت اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ایسے میں بہتر ہوتا امریکہ جیسے بڑے ملک کا صدر اتفاق و اتحاد کی بات کرتا وبا کے خلاف مل کر لڑنے کی بات کرتا اور عالمی ادارہ صحت کو مضبوط کرنے کی بات کرتا۔ افسوس کہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر امریکی صدر کے کردار اور رویے نے مایوس کیا ہے۔

Read more

ڈالرائزیشن سے ڈی۔ ڈالرائزیشن

گزشتہ سات دہائیوں میں د نیا کے مالیاتی امور پر ڈالر کا راج رہا ہے زیادہ تر ممالک کے درمیان اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں لین دین اور معاہدوں میں لاگت کے تخمینے کے لیے ڈالر کا استعما ل ہوتاہے۔ اس عمل کے لئے ڈالرائزیشن کی اصطلاح استعما ل ہوتی ہے۔ ڈالرائزیشن کے کچھ فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ وہ ممالک جن کی معیشتیں کمزور ہوتی ہیں اور جہاں افراط زر زیادہ ہوتاہے دیگر ممالک ان کے ساتھ

Read more

کیا امریکہ کا بطور سپر پاور زوال شروع ہوچکا ہے

حالیہ کچھ عرصے کے دوران عالمی سطح پر اور امریکہ کے اندررونما ہونے والی تبدیلیوں نے عالمی سطح پر امریکہ کے کردار کے بارے میں مختلف سوالات اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ علامہ اقبال کے مشہور شعر کا مصرعہ ہے ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں کیا عالمی سطح پرطاقت کے توازن میں بھی تبدیلی آ رہی ہے؟ حال ہی میں امریکہ کے بارے میں یورپ کے رویے نے امریکی اثرورسوخ کے خاتمے کے بارے میں

Read more

بھارت کا چین کے ساتھ تناؤ اور گریٹڑ انڈیا کا خواب

چین کے ساتھ سرحدی تصادم کے بعد بھارت میں چین مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے۔ بھارت معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے دیگر مقاصد کا حصول چاہتاہے۔ وہ مقاصد کیا ہیں آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔ بھارت نے حال ہی میں انسٹھ چینی ایپس پریہ کہہ کر پابندی عائد کردی کہ یہ ایپس ”بھارت کی خودمختاری، سالمیت، سلامتی، دفاع، سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لئے متعصبانہ ہیں۔“ بھارت میں چینی مصنوعات اور کمپنیوں کے حالیہ بائیکاٹ

Read more