سمندر پار پاکستانی اور پی آئی اے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے ملک کو کثیر زر مبادلہ بھیجنے والے سمندر پار پاکستانیوں پر کوئی مشکل وقت آئے اور حکومت پاکستان اور قومی ائرلائن، پی آئی اے ان کا استحصال نہ کرے اور ان کو ذلیل نہ کرے ایسا ممکن نہیں۔

کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھ ماہ سے بیروزگار اور اپنے گھروں میں محصور سمندر پار پاکستانیوں کے لئے 15 ستمبر خوشی کی ایک نوید لے کر آیا جب سعودی عرب اور یو اے ای نے اپنے فلائیٹس آپریشن دوبارہ بحال کرتے ہوئے پاکستانیوں کو بھی واپس اپنی ڈیوٹی پر آنے کی اجازت دی۔

ایسے میں قومی ایئر لائن پی آئی اے نے ایک ٹکٹ سیٹلمنٹ پلان جاری کیا کہ جن لوگوں کے پاس پی آئی اے کا ریٹرن ٹکٹ تھا اور وہ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹریول نہیں کر سکے وہ 200 ڈالرز کے عوض اپنے ٹکٹ ری شیڈول کرا سکتے ہیں۔ یہ ریٹرن ٹکٹ ری شیڈول پالیسی پی آئی اے کی آفیشل ویب سائیٹ پر بھی موجود ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ پالیسی صرف ایک سٹیٹمنٹ کی حد تک اور اوورسیز پاکستانیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی حد تک ہی ہے۔

15 ستمبر سے بیچارے اوورسیز پاکستانی پی آئی اے کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں لیکن ان کو کوئی ٹکٹ ایشو نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی ریفنڈ دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ان محنت کش محسنوں سے اس گھٹیا قومی ادارے کا سلوک انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ ان سے وہاں بد سلوکی کی جا رہی ہے، دھوپ میں کھڑا کیا جا رہا ہے اور ان سے ہر روز یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی سیٹ ہی موجود نہیں۔ جو کہ ایک سفید جھوٹ اور غلط بیانی ہے۔ وہاں پر موجود عملہ ان ٹکٹ ہولڈرز کو روز یہ کہ کر واپس بھیج دیتا ہے کہ اپنا نام اور نمبرلکھوا جائیں جب سیٹ دستیاب ہوگی تو آپ کو کال کریں گے۔

لیکن آج پانچواں دن ہے، نہ تو ان ریٹرن ٹکٹ ہولڈرز کے لئے کوئی سیٹ نکلی اور نہ پی آئی اے سے ان کو کوئی کال ہی آئی۔ دوسری طرف باکمال سروس کا دعویٰ کرنے والی وہی پی آئی اے نئی ٹکٹس لینے والوں کو ایک لاکھ سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے میں اکانومی کلاس کی ٹکٹیں دھڑادھڑا بیچ رہی ہے۔ ڈھٹائی، بے شرمی اور ظلم کی انتہا ہے۔

یہ گھٹیا ادارہ اور کرپٹ حکومت صرف اور صرف عوام کا خون چوسنے اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے قائم ہیں۔ پی آئی اے نے اپنی ساری ٹکٹس پرائیویٹ ٹکٹنگ ایجنٹس کو بیچ دی ہیں اور وہ منہ مانگے پیسے لے کر اسی پی آئی اے کی ٹکٹیں ایشو کر رہے ہیں۔

صرف سعودی عرب میں تقریباً اڑھائی ملین پاکستانی اپنے ملک کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہر سال سب سے زیادہ زر مبادلہ سعودی عرب سے ہی پاکستان کو حاصل ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے ابتدائی طور پر تارکین وطن کی واپسی کی ڈیڈ لائن 30 ستمبر مقرر کی ہے۔ 30 ستمبر کے بعد کوئی خارجی سعودیہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یعنی اگر 30 ستمبر سے پہلے یہ پاکستانی سعودیہ داخل نہیں ہوتے تو ان کے ویزے کینسل ہو جائیں گے۔ اور یوں حکومت اور پی آئی اے کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک محنت کش، غریب پاکستانی کا تقریباً 7 سے 8 لاکھ روپے کا نقصان ہو جائے گا۔ وہ مستقل بیروز گار بھی ہو جائے گا اور پاکستان ایک کثیر زرمبادلہ کے سورس سے بھی محروم ہو جائے گا۔

کسی کو احساس ہے اس ملک گیر سانحے کا؟ کیا حکومت نے کوئی سپیشل اقدام کیا ہے ان اوورسیز کے لیے ؟ پی آئی سے سوال کرنے والا کوئی ہے اس ملک میں؟ یہ مزدور، سمندر پار پاکستانی پی آئی اے کے دفتروں میں دھکے کھا رہے ہیں اور ایجنٹ پیسہ بنانے میں مصروف ہیں۔

کہیں کبھی کوئی ادارہ تو صحیح کام کرے۔ کبھی تو کوئی موقع خالی جانے دیا جائے جب اس ملک کی عوام کا خون نہ نچوڑا جائے۔ کبھی تو اخلاق اور ایمانداری سے کوئی سروس دی جائے۔ کبھی تو مشکل وقت میں اپنے لوگوں کا احساس کیا جائے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لئے بڑا درد رکھنے والا اور لمبی لمبی تقریریں کرنے والا عمران خان کہاں ہے؟ کیا اس کو کسی حساس معاملے کا ادراک ہے؟ یا واقعی لوگ صحیح کہتے ہیں کہ حکمران بھنگ پی کر سو رہے ہیں اور مافیا عوام کی بوٹیاں نوچ رہا ہے؟ ان غریب سمندر پار پاکستانیوں کا کیا قصور ہے؟

یاد رہے کہ پہلے کورونا لاک ڈاؤن میں اپنے گھروں کو واپس آنے کے لئے ان اوورسیز پاکستانیوں نے اسی پی آئی اے کی 70,000 والی ٹکٹیں دو دو لاکھ میں خریدیں اور اب ان مہنگی ترین ٹکٹوں کا ان کو نہ تو کوئی ریفنڈ مل رہا ہے اور نہ ہی ری شیڈول ہو رہی ہیں۔

بھنگ کی کاشت میں مصروف وزیر اعظم اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی سے گزارش ہے کہ خدارا اس نازک معاملے کا فوری نوٹس لیں اور اس مشکل گھڑی میں سمندر پار پاکستانیوں کا ساتھ دیں۔ اور ان کے ٹکٹس کے معاملے کو بخوبی حل کر کے شکریے کے ساتھ واپس ان کو ان کی ڈیوٹیوں پر بھیجا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مسعود اختر باجوہ کی دیگر تحریریں