چین میں لوٹے نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں ہم نے ڈائیوو سے بڑی گاڑی نہیں دیکھی تھی۔ ویسے اسلام آباد سے شکر گڑھ ساری کھٹارا بسیں چلتی ہیں۔ اس لیے اپنے گاؤں کی طرف اچھی گاڑی میں جانے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔ غریب آدمی بہت ترقی کرے تو موٹرسائیکل سے مہران پہ آ کے زندگی کی شام ہوجاتی ہے ‌۔ خیر میرے علاقے یہ بیڈ فورڈ بسوں کو وہی مقام حاصل ہے، جو حکومتی بنچوں میں اسد عمر کو حاصل ہے۔ خیر ہمارے علاقے میں میاں صاحب جلسہ کرنے ہیلی کاپٹر پہ آیا کرتے تھے۔

اب تو وہ ہمیں یوں نظر آتے ہیں، جیسے ہمارے علاقے میں بھولا بھٹکا جہاز آ جاتا تھا، تو تمام بچے چھتوں پہ چڑھ کے جاج ای اوئے ، جاج ای اوئے کے نعرے لگاتے ہیں۔ ہماری بھی بچپن سے اس دور اڑتے جہاز میں بیٹھنے کی تمنا تھی، جو خدا خدا کر کے دو ہزار سترہ میں پوری ہوئی۔

پہلی دفعہ جہاز دیکھا، تو شدید صدمہ ہوا۔ ڈائیوو، ناٹکو کی دو بسیں ملا لو تو جہاز بن جاتا ہے۔ خیر ہماری فلائٹ اسلام آباد سے ارومچی کی تھی۔ عام طور پہ جہاز کا سفر مکمل پاکستان کے مستقبل کی طرح مکمل دھندلا ہوتا ہے۔

مگر یہاں صورتحال یکسر مختلف تھی۔ چائنہ سدرن کے پائلٹ نے آدھا سفر ہمیں مکمل کوہ ہمالیہ کے سلسلوں (پہاڑوں، گلیشئرز) کا سفر کروایا۔ ارومچی پہنچ کے ہمیں سب سے پہلے کلچرل شاک لگا۔ سب ایک جیسے چہرے، نہ زبان کی سمجھ آئے، نہ چہرے۔ یوں لگ رہا تھا ایک نئے جنم کی طرف جا رہے ہیں۔ خیر ہمیں ایک گارڈ نے کوسٹر میں آٹے کی بوری کی طرح لاد دیا۔ کوسٹر ہوٹل کی طرف چل پڑی۔ ہوٹل بھی فور سٹار تھا، الگ کمرہ، مفت وائے فائے۔

ہمیں یوں لگا ہم تو پاکستانی اشرافیہ میں شامل ہو گے ہیں۔ رسیپشن پہ کچھ بات کہی گئی تھی۔ جس میں ہمیں پانچ بجے صبح کی سمجھ آئی۔ صبح صبح نہا دھو کے جب ہوٹل رسیپشن پہ پہنچے تو معاملہ بالکل گڑ بڑ لگ رہا تھا۔ ہمیں اس نے بہت کچھ کہا مگر میں مکمل گونگا بہرہ ہو چکا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ خیر ہم نے اشاروں میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ رسیپشن پہ جا کے ٹیبل پہ ہم نے ہاتھ کو جہاز کی شکل میں بنا کے کاؤنٹر پہ اڑا دیا، اور منہ سے آواز نکالی شو شو ششش۔ ساتھ کہا ہاربن ہاربن۔ تو محترمہ نے موبائل ٹرانسلیٹر نکالا۔ کچھ مخصوص الفاظ کہے۔ جس میں یہ درج تھا تمہاری فلائٹ چھے دن کے لیے کینسل ہو گئی ہے۔ تمہارے کھانے پینے رہنے کا تمام خرچہ ائر لائن برداشت کرے گی۔ اب واپس کمرے میں آ کے پھر دوبارہ سو گیا‌۔ پیٹ میں شدید مروڑ اٹھا تو بھاگا واش روم چلا گیا۔ میں نے آج تک واش روم میں لوٹا دیکھا تھا۔ وہاں واش بیسن کے پاس پانی پینے والا گلاس رکھا ہوا تھا۔ پورا ہفتہ اسی کو لوٹے کی طرح استعمال کرتا رہا۔

روز تین وقت کا مفت کھانا کھا کے ارومچی کے کونے چھانتا تھا‌۔ خیر چھے دن بعد ہمیں منزل مقصود پہ پہنچا دیا گیا۔ وہاں ایک رات دوست کے پاس رکے۔ صبح صبح ہم جب یونیورسٹی کے دفتر میں بیٹھے، ایک دم واش روم کی حاجت ہوئی۔ بھاگے بھاگے واش روم پہنچ گے۔ جب طبعیت کچھ درست ہوئی تو پتہ چلا یہاں نہ لوٹا تھا اور نہ بیوقوفوں نے شیشے کا گلاس رکھا تھا۔ اب جیب میں ڈالر پڑے تھے۔ وہ ہم لوٹے کی جگہ ضائع نہیں کر سکتے تھے۔ اسی طرح اٹھ کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔

پھر دوست نے بتایا، یہاں لوٹے کی جگہ ٹشو استعمال ہوتا ہے۔ آئندہ بیگ میں ٹشو اور خالی چھوٹی بوتل ضرور رکھنا، تاکہ پاک صاف رہ سکو۔ میں مارے حیرت کے سوچتا رہ گیا۔ کیسا ملک جو لوٹے استعمال نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں لاکھوں ڈالر کے لوٹے خریدے جاتے ہیں۔ مکمل پیتل سٹیل کے لوٹے، جن کے پاس ہر ایک کے راز ہوتے ہیں۔ ہر کوئی لاپرواہی سے ٹشو پیپر کی طرح ان لوٹوں کا بیجا استعمال کرتا ہے۔ مگر وہ جتنے رگڑے، مانجھے جاتے ہیں، اتنے ہی مہنگے اور قیمتی ہوتے جاتے ہیں۔

لیکن میں نے ایک نکتہ نوٹ کیا ہے۔ بیرون ممالک کے واش روم انتہائی نفیس صاف ستھرے ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے، کہ ان کے واش روم خشک ہوتے ہیں۔ کیونکہ لوٹے سے پانی بھی زیادہ ضائع ہوتا، اور سارا واش روم گندا غلیظ ہوتا ہے۔ ایسی غلیظ چھینٹے بہت سے سفید پوشوں نیکوں کے دامن گندے کرتے ہیں۔ ٹشو پیپر بیرون ممالک کی دریافت ہے، عارضی استعمال کریں ‌۔ گند غلاظت راز لے کے واپس چلی جاتی ہے۔ میرا اب پاکستان کی واش روم منیجمنٹ کو مشورہ ہے کہ وہ لوٹوں کی بجائے ٹشو پیپر لائیں تا کہ نیک پرہیز گار لوگوں کے دامن بچائے جائیں۔ ورنہ جس طرح یہ لوٹے گند پھیلا رہے ہیں۔ کوئی بھی اس حمام میں پاک نہیں رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •