قصہ ایک جنگل کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگل میں کھلبلی مچی ہوئی تھی، کھلبلی کی وجہ جنگل کے سابق بادشاہوں کا اکٹھا ہونا تھا، جنگل میں چاروں طرف اس نشست کا چرچہ تھا۔ جنگل کی کوریج کرنے والی میڈیا کی طرف سے پل پل کی خبر پورے جنگل تک پھیلانے کی وجہ سے جنگل کا ماحول مزید گرمایا ہوا تھا۔ اس بار طویل خاموشی کے بعد جنگل میں بوڑھے شیر کی دھاڑ بھی گونجنے والی تھی۔ اس نشست سے ایک دن پہلے بھیڑ بکریوں کے مجمع سے بھی خوب للکارنے کی آوازیں آئیں جس نے سابق بادشاہوں کے اس جھنڈ میں مزید جان ڈال دی اور جنگل کی توقعات بھی ان سے بڑھ گئیں۔

شاید جنگل کے حکمران ٹولے نے ان بھیڑ بکریوں اور سابق بادشاہوں کے صبر کے پیمانے کو اتنا لبریز کر دیا کہ ان کو اپنے آواز کو چیخ و پکار میں بدلنا پڑا۔ نشست شروع ہونے تک تو سب ٹھیک تھا لیکن اس نشست میں بوڑھا و زخمی شیر ایسا دھاڑا کہ بڑے بڑے جانوروں کے پسینے چھوٹ گئے۔ ضرور اس دھاڑ کی وجہ سے شیر کے مجمع میں موجود جانوروں کو تکلیف بھی آئے گی یہ بات شیر کو یاد ہی نہ رہی شاید اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شیر خود محفوظ ٹھکانے پر ہے۔ نشست میں محروم گھوڑے نے بھی خوب شکوہ کیا جس سے ابھی تک صرف شیر اور لومڑ کے سہولت کار کا کردار لیا گیا تھا جس کے باوجود گھوڑے کا احساس محرومی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

نشست کے بعد اس کے اعلامیے میں بھی خوب چھکے لگائے گئے لیکن جنگل میں بوڑھے شیر کی دھاڑ کی گونج دور سے دور پھلتی جارہی تھی اس دھاڑ نے پوری نشست کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جنگل کے بادشاہ نے شیر کی دھاڑ کو مزید دور تک پھیلانے کی اجازت جو دے دی تھی۔

اس جنگل کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ یہاں پر بادشاہ کے اوپر بھی بادشاہ ہوتے ہیں۔ چھوٹے بادشاہ پر جتنا کیچڑ اچھالنا ہے اچھال لو لیکن بڑے بادشاہ کو ایک چھینٹا بھی نہیں لگنا چاہیے لیکن شیر کی دھاڑ نے اوپر تک غصہ دلایا ہے وہ شیر جو خود بھی کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، وہ خود بھی کبھی موجودہ بادشاہ کی طرح بہت عزیز تھا، اس کا کھانا بھی ہواؤں میں سفر کرتا تھا، وہ بھی خود کو کبھی لا متبادل سمجھتا تھا، کسی وقت میں پورا جنگل اس کے کنٹرول میں ہوا کرتا تھا، اس نے بھی اپنا ہی قانون بنایا ہوا تھا، یہ بھی کبھی آنکھوں کا تارا ہوا کرتا تھا لیکن ایک دم سے وقت اور ہوا ایسے تبدیل ہوگئی کہ شیر کو بھی مچھر کاٹنے لگے، شیر کے سینکڑوں متبادل سامنے آ گئے، شیر کو تخت بادشاہت سے تو اتارا ہی گیا ساتھ میں جنگل سے ہی باہر کر دیا گیا۔ شیر ایسے شیروں سے الجھ بیٹھا کہ جس کے بعد اس کی ایک بھی نا چلی۔

شیر کہ اس دھاڑنے میں شدید بے بسی کا عالم چھپا ہوا ہے، شیر کو پتا ہے کہ وہ تو جنگل میں نہیں لیکن پیچھے شیر کا قافلہ ہے جس میں اکثریت چوہوں کی ہے اور وہ جنگل میں اور ان کی چاروں طرف خون خوار جانور ہیں اور چوہے تکلیف برداشت نہیں کر سکتے، شیر تو خود جنگل سے باہر اس لئے محفوظ سمجھا جا رہا ہے لیکن شیرنی کو تکلیف آ سکتی جو شیر شاید برداشت نہ کر سکے۔

جس نشست میں شیر دھاڑا اس نشست میں بوڑھا لومڑ بھی موجود تھا اور لومڑ کو بھی کودنے کا بھرپور موقع ملا لیکن لومڑ جذبات سے کم اور چالاکی سے زیادہ مستفید ہوا۔ لومڑ نے سخت باتوں کو بھی بہت ہی احسن انداز میں پیش کیا۔ اس لیے جنگل کے معاملات میں گہری نظر رکھنے والے لومڑ کی تکلیفوں میں فی الحال زیادہ چڑھاؤ نہ آنے کی نوید سنا رہے ہیں۔

جنگل میں اس وقت ایک ملاقات کا چرچا بھی عروج پر ہے جو اس نشست سے پہلے ہوئی تھی جس میں کہا یہ جا رہا ہے کہ زخمی جھنڈ کی بہت سرزنش ہوئی۔

جنگل کے معاملات پر بہت گہری نظر رکھنے والے اور اشاروں کی زبان میں بات کرنے والے ایک کوے نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں جنگل کے سب سے معتبر جانوروں کے جھنڈ میں ستمبر۔ اکتوبر میں آٹھ بڑی تبدیلیوں کی پیشنگوئی بھی کی ہے۔

جنگل کا پارہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے، اس وقت جنگل میں منگل کا سا سماں ہے، جنگل میں آنے والے سال کے مارچ میں بڑا میلہ سجنے والا ہے جس کے لئے بہت سے حلقوں نے کمر کس لی ہے اگر وہ میلہ بھی موجودہ بادشاہوں نے لوٹ لیا تو یقیناً سابق بادشاہوں کے لئے تکلیف مزید بڑھ جائے گی۔

سابق بادشاہوں کا جھنڈ پہلے بھی بہت بار ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے لیکن ہمیشہ اپنے اپنے مفادات کے خاطر مکر گئے جس کی وجہ سے جنگل کا قانون کبھی تبدیل نہ ہو پایا ہے، پہلے بھی بہت میثاق کیا گیا۔ پہلے بھی ایک دوسرا کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چلنے کے وعدے کیے گئے لیکن اپنا اپنا مطلب نکال کر چلتے بنے۔ اس بار دیکھتے ہیں کہ ان کے بلند و بانگ دعوؤں کا کیا بنتا ہے گو کہ ان سے ان کی جھنڈ میں بیٹھے چوہے نہیں سنبھلتے جو وقت آنے پر ہمیشہ غائب ہو جاتے ہیں۔ جس کا عملی نمونہ کچھ دن پہلے جنگل کی قانون ساز اسمبلی میں دیکھا گیا۔

Latest posts by بابر علی پلی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بابر علی پلی کی دیگر تحریریں