طاقت ور پٹواری اور ننگے حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wisi-baba\"

ہم لوگوں کو ڈیرے پر سلانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ آخری بھرپور کوشش کرتے ہوئے ہمارے بزرگ نے ہمیں اپنا دیسی کھسہ اتار کر دکھایا تھا۔ یہ ایک لگ جاتا تو اس کا نشان کئی دن تک برقرار رہتا تھا۔ ہم لوگ ترنت لیٹ گئے تھے۔

ہمارا دل چاہ رہا تھا جا کر کرتوتی میں نہانے کو۔ کرتوتی ہمارے پنڈ سے گذرتی نہر کا نام ہے۔ ہم سب کزن لیٹے ہوئے اب منصوبے سوچ رہے تھے کہ ڈیرے سے کیسے فرار ہوا جائے۔ سب کو ایک ساتھ ہی آفتاب کا خیال آیا جو ہمارا کزن تھا۔ ویسے تو آفتاب گونگا بہرہ تھا لیکن شیطان اس کا مرید تھا۔

سر پر ہاتھ پھیرا ناک پکڑی کر اک غوطہ لگانے والا ایکشن کیا تو آفتاب سمجھ گیا کہ ہمیں نہر پر جانا ہے۔ وہ اٹھا اور اٹھ کر پاس بندھے سنڈے کے پاس گیا۔ اس بہت ہی پلے ہوئے غصہ ناک سنڈا صاحب کی ایک ہولناک باں ہی ہمیں سنائی دی تھی پھر۔ آفتاب نے اس کی کوئی دکھتی رگ دبا دی تھی۔

سنڈے نے باں کی تو ایک کزن بولا ابا سنڈے نوں گرمی لگ رئی یعنی ابا سنڈے کو گرمی لگ رہی ہے۔ ابے نے جواب میں ایک بہترین قسم کی دیسی گالی دی جس کے ساتھ کزن کو ایک آپشن بھی دیا کے سنڈے کو بے بے کے پاس لے جائے۔

ابے نے سنڈے کو عیاشی بلکہ گرمی دور کرنے کے لئے جو پیشکش کی تھی۔ اس کے جواب میں کزن بولا ابا میں گھر دس دینا ای یعنی میں نے گھر بتا دینا ہے۔ اس دھمکی کے ساتھ ہی التجا بھی کی کہ ابا ہم سنڈے کو نہر پر لے جائیں نہلانے کے لئے۔ ابا ایک ہی جملے میں موجود دھمکی سوال سب سمجھ گیا۔

اجازت ملنی تھی مل گئی پھر بھی کزن نے اپنے ابے کو دھمکی دینا ضروری سمجھا کہ ابا میں وڈے ابے یعنی دادا کو ضرور بتاؤں گا۔ یہ سن کر کزن کا ابا بولا یار اسے ہر بات نہ بتایا کر پھر اس کے منہ میں کتا بھونکنے لگ جاتا ہے۔

ہم لوگوں نے سنڈا کھولا۔ اردگرد کے ڈیروں سے کزنوں کو آواز دی اور نہانے کے لئے نہر کی جانب روانہ ہو گئے۔ کزن نے راستے میں سنڈا ایک انتہائی آرزو مند بھینس اور اس کے مالک کسان کو تھوڑی دیر کے لئے فراہم کر کے کافی سارے پھیکے خربوزوں کا بندوبست بھی کر لیا تھا جن پر ڈالنے کے لئے گھر سے چھپائی ہوئی شکر ہمارے پاس بہت تھی۔

نہر پر پہنچے تو پتہ لگا کہ پندرہ عدد شیر جوانوں کے پاس نہانے کے لئے لنگوٹیاں نیکر وغیرہ کل ملا کر پانچ چھ ہی ہیں۔ اگر ہم اپنی شلواروں میں نہاتے تو ان میں پھنسی ریت دیکھ کر گھر میں ہمیں پھڑکانا مارنا ہماری ماؤں پر فرض ہو جانا تھا۔

ایک درخت کی اوٹ میں کپڑے اتار کر نیکر پہننے کو تیار ہو رہا تھا۔ آفتاب آیا میرے کپڑے اور نیکر لے کر بھاگ گیا۔ اک مسکین ننگے مسافر کا شور سن کزنوں کا سارا لوفر ٹولہ پاس پہنچ گیا۔ انہیں دیکھ کر شدید صدمہ ہوا سب ہی ننگے تھے۔

\"buffalo

مہر جو سب سے بڑا کزن تھا بولا ویرے کچھے پورے نہیں تھے۔ اس لئے ہم ننگے ہی نہا لیتے ہیں۔ دیکھ سنڈا بھی تو ہمارا بھائی ہی ہے کس طرح مزے سے نہر میں ننگا بیٹھا نہا رہا۔ تم بھی آ جاؤ میں نے تو صاف انکار کیا۔ مہر نے کہا اچھا ٹھیک ہے پھر بیٹھا رہ یہاں ایسے ہی ننگا۔ ان سب نے اکٹھے دوڑ کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ ایک شرمناک نظارہ تھا۔

پنڈ جا کر مجھے اپنے پاس چھوٹی کلہاڑی رکھنے کا مستقل شوق ہوتا تھا۔ اب میرے پاس بس ایک کلہاڑی ہی تھی۔ ٹاہلی (شیشم) کے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ کزنوں کو دیکھتا رہا نہاتے۔ خود بہت محنت محبت سے مسواکیں گھڑنے لگ گیا۔ اس کام میں اتنا مگن تھا کہ پتہ ہی نہ لگا کہ کب محکم انہار کا پٹواری اپنی ماں اور دلہن کو موٹر سائکل پر بٹھائے ہمارے سر پر پہنچ گیا۔

اس نے درخت کے نیچے سائکل روک کر اوئے ننگے اتر نیچے کا نعرہ لگایا۔ میں ڈر گیا۔ پٹواری صاحب شیر ہو گئے۔ ہمارا بعد میں یہ مشترکہ خیال تھا کہ وہ اپنی بیگم کو سسرال سے پہلا چکر لگوا کر لا رہا تھا اسے مکلاوا کہتے ہیں۔ اس کو اپنی افسری بلکہ آج کی اصطلاح میں گڈ گورننس دکھانے کا شوق ہوا۔ دس گیارہ سال کے ایک ننگے لڑکے پر رعب ڈال کر ایسا کر کے شاید وہ اپنی منکوحہ کو زیر کرنا چاہتا ہوگا عمر بھر کے لئے۔ میں نیچے اتر آیا کہ نہر کے اندر سے مہر ہمارے راہنما نے پٹواری کو آواز دی کہ کون ہو تم لڑکے کو کیوں بلایا ہے۔

نہر میں نہانا جانور لے کر گھسنا جرم ہوتا۔ پٹواری صاحب جو ایک ننگے لڑکے پر رعب ڈال کر ہی منکوحہ کو مستقل رام کرنا چاہتے تھے۔ پندرہ عدد پینڈو لڑکوں کے جتھے سے نمٹنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھے۔ اب بہادری دکھانی تھی کہ صرف منکوحہ ہی نہیں بلکہ ماں بھی ساتھ تھی۔ اس لئے اپنا جی کڑا کر کے بولے باہر نکلو تسی سارے۔

وہ سب جب ننگ دھڑنگ باہر نکل کر ذاتی اسلحے کی نمائش کرتے پٹواری صاحب کی جانب آنے لگے تو پٹواری کی ماں اس سے بولی در فٹے منہ کنجرا تیرا۔ اپنی رن نوں ایہی دکھانا سی۔ بولا تو اس نے کچھ اور تھا آپ یہی سمجھیں کہ ماں نے کہا کہ اتنے ننگے دکھانے تھے۔

اس ممتا بھری پھٹکار میں اتنی طاقت بھری تھی کہ پٹواری کا دل پاٹ گیا۔ اس نے بہت روتی آواز میں التجا کی کہ اوئے نہر میں وڑ جاؤ سارے۔ اس التجا میں اتنا درد کہ بھاگ کر وسی بابا بھی کرتوتی میں کود گیا۔

بہت بچپن میں ہی یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ طاقت کا بلاوجہ مظاہرہ شرمندہ کراتا ہے۔ تب ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جب خود کمزور پوزیشن پر ہوں۔ ورنہ پھر سامنا ایسے ننگے حقائق سے بھی ہو سکتا۔ پھر ساری زندگی ضرورت کے وقت بھی یہ مظاہرہ کرنے کا یارا نہیں رہتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 375 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *