ترک صدر کی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھراٹھاتے ہوئے زور دیا ہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ گزشتہ برس بھی ترک صدر، ملیشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے اپنے خطاب میں کشمیر کے مسئلے کو پرجوش انداز سے اجاگر کیا تھا۔

وڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر جب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ اپنی پرزور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کشمیر کے باسیوں کا لہو گرمادیا۔ مقبوضہ کشمیر کے باسی 5، اگست 2019 ؁ء سے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ بھارتی حکومت نے اپنے ہی آئین کی شقیں 370 اور 35 Aجو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی تھیں اور مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کے لئے جائیداد خریدنا یا بنا نامنع کرتی تھیں کو منسوخ کرکے کشمیر اور لداخ کو بھارت میں ضم کر دیا۔

لداخ کا معاملہ چین نے حل کر لیا کہ جو حصہ بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا اسے بھارت کے چنگل سے چھڑا لیا لیکن بے چار ے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت نے غیر کشمیری ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لاکر بسانا شروع کر دیا ہے تاکہ وہاں کی مسلمانوں کی اکثریتی آبادی اقلیت میں تبدیل ہو جائے۔ بھارت کے اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے یہ سازش ہے کہ کل کلاں کو دنیا کے دباؤ کے تحت کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت رائے شماری ہوتی ہے تو مقبوضہ کشمیر کی آبادی جو ہندوؤں کے بسانے سے مسلمانوں کو اقلیت بنارہی ہے، بھارت کے ساتھ الحاق کو ترجیح دے گئی۔

گزشتہ برس یعنی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پہ بھی رجب طیب اردگان خوب برسے تھے اور کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے میں ناکام ہونے پر تنقید کی تھی۔ اس سال بھی ترک صدر نے یہ کہا ہے مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کی کلیدہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان میں اس امر پہ زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعہ حل ہونا چاہیے۔ رجب طیب اردگان جو عالمی سطح پر ایک مدبر اور دلیر رہنما کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جو اسلامی قدروں کے حامی ہیں اور دنیا بھر میں ظلم کی چکی میں پسے ہوئے مسلمانوں کے ترجمان بن چکے ہیں، نے اپنی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر میں اجا گر کیا ”ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فریم ورک کے اندر بات چیت کے ذریعہ خصوصی طور پر کشمیری عوام کی توقعات کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں ہیں۔“

گزشتہ ایک برس میں پاکستان کے اتحادی ترکی نے جموں وکشمیر کے مسئلہ کو اٹھانے کے لئے متعدد پلیٹ فارم استعمال کیے ہیں۔ تاہم یہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ ہر بار وہ ترکی کو یہ جواب دیتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ حالانکہ یہ سراسر غلط بیانی پہ مبنی ہے کیونکہ کشمیر کا خطہ متنازعہ ہے جس پر بھارت اور پاکستان کے مابین جنگیں بھی ہوئیں اور فائر بندی کے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر سے متعلق قراردادیں منظور کیں جن کا بھارت بھی پابند ہے۔

گزشتہ ہفتے ترکی، پاکستان اور اسلامی تعاون کی تنظیم نے انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں اجلاس میں کشمیر کے مسئلے کو جوش اور ولولے سے اٹھایا تھا لیکن وہاں بھی بھارت نے اپنی لغو منطق کو دہرانے کی کوشش کی تھی کہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے انتہائی ڈھٹائی سے ترک مندوب کو کہا تھا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملے پہ تبصرہ کرنے سے باز رہیں اور جمہوری آداب کے بار ے میں بہتر تفہیم اختیار کریں۔

طوطے کی رٹ کی مانند جنیوامیں بھارت کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری پون بدھے نے انسانی حقوق کو نسل میں جواب دہند گان کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ”اؤ آئی سی“ ترکی اور پاکستان کی جانب سے جموں وکشمیر بھارت سے متعلق پیش کیے گئے ریفرنس کو بھارت مسترد کرتا ہے کیونکہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ او آئی سی کے پاس کوئی لوکس اسٹینڈی نہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملے پہ تبصرہ کرے۔ مزید برآں بھارتی مندوب نے خود سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فرمایا کہ او آئی سی نے اپنے ایجنڈے کو منحرف کرنے کے لئے پاکستان کو اجازت دی۔ او آئی سی کے ممبران کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ پاکستان کو ایسا کرنے کی اجازت دینا ان کے مفاد میں ہے یا نہیں۔

صدافسوس کہ اسلامی امت خود اپنے ذاتی مفاد کو مسلمانوں کے مفاد پہ فوقیت دیتی ہے۔ ایک جانب چونکہ بیشتر عرب ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں لہذا وہ کشمیر کے مسئلہ پہ بھارت پہ تنقید کرنے سے کتراتے ہیں۔ دوسری جانب لاکھوں فلسطینی بھی اسرائیل کی فوجوں کی جانب سے ڈھائے جانے والی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات طے کرلئے ہیں۔ نہتے اور مظلوم کشمیری اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو بھاڑ میں جھونک دیا گیا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ گزشتہ برس 14 فروری کو پلوامہ کے مقام پہ جعلی خودکش حملے کا ٹوپی ڈرامہ رچا کر بھارت نے پاکستان کومورد الزام ٹھہرایا تھا اور نہتے کشمیریوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا تھا پھر پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں عبور کرکے بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے مقام پہ فرضی دہشت گردکے ٹھکانے پہ بمباری کی تھی۔ دریں اثناء اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) میں متحدہ عرب امارات نے تنظیم کی چوٹی کا نفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی کے طور پر شرکت اور خطاب کی دعوت دی تھی۔

پاکستان کے شدید احتجاج کے باوجود شریمتی سشماسوراج نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ بھارت نے اسے اپنی سفارتی فتح قراردیا تھا کیونکہ 1969 ؁؁ء سے او آئی سی معرض وجود میں آئی تھی، پاکستان نے مسلمان ممالک کی اس تنظیم میں بھارت کی شرکت کی شروع سے لغت کی تھی اور جواز یہ پیش کیا تھا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں نہتے مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کرنے والے صرف ترکی اور پاکستان ہی رہ گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •