ناگ کنڈلی اور جیون دان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھن کاڑھے سیہ مار اس کے سامنے تھا۔ ناگ جھومنے لگتا تواس کی پھنکار تن بدن میں آگ لگا دیتی۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا۔ سدھو بھی اس کے ساتھ ساتھ مست ہو تا جاتا۔ ڈنک مارنے کے لئے کالا پھنیئر جب اس کی طرف بڑھتا تو وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتا۔ ناگ کے پھن کے گردا گرد اس کا ہاتھ بھی تیزی سے گھومتا رہتا تھا۔ دوسرے ہاتھ میں موجود بین وہ ہونٹوں سے لگائے مسلسل بجاتا رہتا۔ کالے ناگ پھنکارتا تو اس کے منہ سے نکلنے والی گرم پانی کی پھوار سدھو کے ہاتھ کو جلا دیتی۔ ناگ کے ساتھ اس کا یہ کھیل ایک مدت سے جاری تھا۔ آخر تھک کر وہ کیڑا نڈھال ہوجاتا اورسر نیچے پھینک دیتا۔ وہ آگے بڑھ کر اس کی گردن کو مضبوطی سے تھام لیتا۔ سانپ اس کی کلائی کے گرد بل کھاتا جاتا۔

سدھو کو گورو ناتھ سرکار کی سیوا میں آئے چودہ برس بیت چکے تھے۔ اس آسن پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی سیس نواتے تھے۔ دور دراز کے لوگ سانپ کے کاٹے کا علاج کروانے اس ٹلے پر آتے۔ یہ علاقہ خطرناک سانپوں کی آماجگاہ بھی تھا۔ ڈھائی گھڑیے، کوڑیالے، سنگ چور جو کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ پانی بھی نہ مانگے اور پدم جو چلنے نہ دے ایک قدم، سب اس جنگل میں پائے جاتے تھے۔ یہ شوکتے پھنپھناتے پٹھے جب اس دربار پر حاضری دیتے تو چڑھاوے کا بہتا ہوا دودھ پی کر، سر نیہوڑا کر واپس چلے جاتے۔

اس کے چیلے رات بھراپنی کٹیا میں بیٹھے چلا کشی کرتے دکھائی دیتے۔ زمین پر آلتی پالتی جمائے خود میں گم، سرجھکائے، بوسیدہ بوسیدہ پتروں میں کھوئے ہوئے، علم کے سمندر میں غوطہ زن نظر آتے۔ دن کو یہ ”کن پاڑ“ کیسری رنگ کی پگڑی اور چوغہ پہنے، اپنی زنبیل کندھے پر لٹکائے، شہروں کی طرف چل پڑتے۔ سورج ڈھلنے سے پہلے ہی یہ سب واپس آجاتے۔ شام کوگورو کا بھاشن ہو تا اور اس کے بعد کنگ، سنکھ اور بین کی دھن پر سانپوں اور چیلوں کا سپیرا ڈانس شروع ہو جاتا۔

گورو ناتھ سرکار کی ایک عمرعبادت اور تپسیا میں گزری تھی۔ ان کی آنکھوں میں پورنیما کا چاند جگمگاتا تھا۔ وہ بہت بڑے گیانی تھے۔ شام کے بھاشن میں سینکڑوں لوگ جمع ہوتے۔ گرو کا کہنا تھا،

”ندی کو بند باندھا جا سکتا ہے۔ بہتے ہوئے پانی کی دھارا کوایک خاص مدت تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بلآخر اس کوئی راستہ دینا ہی پڑتا ہے۔ برکھا کے موسم میں جب پانی کے ریلے آتے ہیں توبندھ بھی کھولنے پڑ جاتے ہیں۔“ پھر وہ خاموش ہو گئے۔ گرو کے پاس سانپوں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا۔ وہ سب کنڈلی مار کر یوں بیٹھے ہوئے تھے جیسے گرو کے ایک ایک شبد کو سمجھ رہے ہیں۔ گرو ناتھ بولا ”یہ سب ناگ کی فطرت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس کی فطرت ہے ڈنک مارنا۔ ایک مرتبہ سانپوں کے مرشد گگا پیر کے گاؤں میں ایک بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو ناگ نے ڈس لیا۔ پیر کے آنے سے پہلے ہی وہ مر گیا۔ گگا بہت ناراض ہوا۔ اب وہ روزانہ جنگل جاتا، خطرناک سانپوں کو پکڑ کر لاتا۔ ان کو اینٹھ کر چارپائی بنتا اور اس لجلجے، پھنکارتے بستر پر سو جاتا۔ صبح ہوتے ہی درانتی سے اس چارپائی کو کاٹ ڈالتا۔ پھر ایک رات جب وہ دھت سویا ہوا تھا تو ایک پھنئیر نے اپنا سر نکال کر وہ زور کا ڈنک مارا کہ گورو کا سارا جسم نیلا پڑ گیا۔ اور وہ گگا جو کہتا تھا،“ گوگا بڑا کہ بھگوان ”اس کے منتروں کا کوئی شبد، کوئی منکا اس کے کام نہ آیا اور وہ کرب کی شدت سے زمین پر سر پٹختا مر گیا۔“

اپدیش دینے کے بعد جب گرو ناتھ سرکار اپنی کٹیا میں چلے گئے تو سدھو بھی ان کے پیچھے پیچھے اندر پہنچ گیا۔ صدق یقین کے ساتھ گرو کے چرن چھو کر بولا، ”سرکار! میرا جیون بھی پھنیئر ناگ نے اجیرن کر رکھا ہے۔ گرو یہ اتھرا ناگ قابو میں آتا ہی نہیں۔“

ناتھا پیر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ”دیکھ منس! اس پر قابو پانا پڑے گا۔“

”سرکار! اس کے خوف سے میری راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ یہ ناگ ایک نہ ایک دن مجھے ڈنک مار کر کاٹ لے گا اور پھر میرا سریر بھی بھسم ہو جائے گا۔“

”مورکھ! سب سریر اس کے ساتھ جیون گزارتے ہیں۔ ۔ تیری ریڑھ کی ہڈی جہاں ختم ہوتی ہے وہاں یہ ناگ کنڈلی مارے بیٹھا ہوا ہے۔ یہی ناگ کنڈلی تجھے پریشان کر رہی ہے۔ یہ اتھری فطرت ہے، اسے دور نہیں کیا جا سکتا لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ اننت ناگ ہے جس نے پوری دھرتی کو سہارا دیا ہوا ہے۔ اسی پر سوار ہوکر وشنو اپنی بیوی لکشمی کے ساتھ پانی پر تیر رہے ہیں۔ اس ناگ سے ہی جیون دھارا بہتی ہے۔ یہ جیو کو جیون دان کرتا ہے۔

جا! تو نے بہت تپسیا کر لی ہے۔ میں تجھے شکتی دیتا ہوں، اس ناگ کوسدھ کرنے کی شکتی۔ کل صبح آنکھیں بند کرکے اس جنگل سے گزر جانا۔ یاد رکھنا اگر ادھر ادھر دیکھا تو تیری ساری تپسیا بھنگ ہو جائے گی۔ جہاں جنگل ختم ہوتا ہے وہاں ندی کنارے تجھے ایک ناگن مل جائے گی۔ اسے اپنی پٹاری میں ڈ ال لینا۔ یہ ناگن تجھے ناگ پر قابو پا نے میں مدد دے گی۔ اس کے ساتھ جیون بتانا۔ اس کے بعد یہ اننت ناگ تیری دنیا کو بھی آباد کردے گا۔“

جہان سن سمادھ کی منڈلی ہے اتے جوتنا ہے رم جھم میاں (وارث شاہ)

سن سمادھ، مردہ تھاں۔ منڈلی، ٹولی گروہ۔ جوتنا، ہل چلانا کاشت کاری کے قابل بنانا۔ رم، ہمبستری۔ جھم، چھل فریب۔

(وارث شاہ کے سالانہ عرس کے موقع پر لکھا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •