مہنگی دوائیں کیسے خریدیں گے غریب عوام؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجانے وہ دن کب آئیں گے جب عوام خوشحال زندگی بسر کریں گے۔ انہیں کوئی غم نہیں ہو گا۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہوگی۔ وہ شاداب چہروں کے ساتھ اپنا سفر حیات طے کر رہے ہوں گے!

کہا جا سکتا ہے کہ جب تک حکمران اپنی حکمرانی کا انداز نہیں بدلتے عوام کو سکھ کا سانس بھی نہیں آئے گا اور وہ خود کو نہیں بدلیں گے۔

دراصل بنیادی طور سے وہ عوام بیزار ہیں انہیں کیڑے مکوڑے تصور کرتے ہیں ان کے نزدیک وہ سہولتوں کے حق دار نہیں انہیں آسائشیں نہیں چاہیں کہ اگر یہ پر کیف زندگی گزارنے لگیں گے تو ان کی ”سیاسی دکانداری“ کو متاثر کریں گے اسی نقطہ نظر کے تحت وہ (حکمران طبقہ ) آئے روز عوام کو مشکلات سے دوچار کرتے رہتے ہیں!

کبھی اشیائے ضروریہ اور کبھی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس سے عوام دہل جاتے ہیں ان کی زندگیاں خطرات کی زد میں آجاتی ہیں۔

اس وقت بھی کچھ ایسی ہی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے کہ وفاقی کابینہ نے چورانوے دواؤں کو اس قدر مہنگا کرنے کی منظوری دے دی ہے کہ غریب لوگ جو پہلے ہی جاں بلب تھے کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ چند ماہ پہلے بھی دوا ساز کمپنیوں نے اپنی دواؤں کی قیمتیں بڑھا دی تھیں اب پھر ان میں سات سے دو سو باسٹھ فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ حکمران بھی عوام سے متنفر ہیں انہیں ووٹ دینے کے سوا اور کوئی حق نہیں دینا چاہتے۔

اگرچہ موجودہ حکومت نے اس وقت چیخ چیخ کر کہا تھا جب وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہی تھی کہ وہ اس فرسودہ نظام کو بدل دے گی کیونکہ اس نے ملک کو پستیوں کی طرف دھکیل دیا ہے جس سے عوام خط غربت کی لکیر کے انتہائی نیچے چلے گئے ہیں نئی نسل کو اپنے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا ہے وہ اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجائے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں یہ نظام روک دیتا ہے۔

سب کچھ جاننے والی اس حکومت نے دو برس کے بعد بھی کوئی مثال قائم نہیں کی کہ جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا جا سکے کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ میرٹ کی گویا دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ رشوت اور سفارش کلچر پہلے کی طرح موجود ہے اس کا خاتمہ نہیں ہو سکا یوں مایوسی ہر سمت تیزی سے پھیل رہی ہے مگر حیرانی یہ ہے کہ کسی کو بھی اس کی پروا نہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ کوئی مرتا ہے تو مرے کسی کو کیا؟

کوئی احتجاج کرتا ہے توبھی کسی کی اس پر توجہ مبذول نہیں ہوتی بے حسی کی اخیر ہو چکی ہے اس سے پورا سماج اثر لے رہا ہے لہذا اب عام آدمی حالات سے لاتعلق ہوتا دکھائی دیتا ہے اور یہ لاتعلقی عام انتخابات میں واضح طور سے نظر آئے گی کہ جب وہ انتخابی عمل سے باہر ہوں گے صرف تیس چالیس فیصد طوعاً و کرہاً اپنا ووٹ کسی امیدوار کو ڈالیں گے کیا حکمران یہی چاہتے ہیں؟

باتیں سبھی جمہوریت کی کرتے ہیں مگر جمہور کو جمہوری دھارے میں شامل کرنے کی سعی نہیں کی جاتی وہ کر بھی کیسے سکتے ہیں انہیں ان کو حقوق دینا پڑتے ہیں جو انہوں نے نہیں دینا ہوتے لہذا وہ چند فیصد کے ووٹوں سے اقتدار میں آ جاتے ہیں یہ چند فیصد ان کے انتہائی قریبی ہوتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کچھ چھوٹے موٹے مفادات حاصل کیے ہوتے ہیں لہذا ان کے ووٹوں سے اقتدار میں آ کر خوب مزے لوٹتے ہیں پھر ایک دوسرے کو (حزب اختلاف اور حزب اقتدار ) برا بھلا کہتے ہیں جبکہ یہ سب دکھاوا ہوتا ہے اندرون خانہ مل کر کھانا کھاتے ہیں قہقہے لگاتے ہیں اور ہاتھوں پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو کیسا بیوقوف بنا رکھا ہے؟

ہاں تو دوبارہ آتے ہیں دواؤں کی طرف کہ وہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں کوئی روٹی کی فکر کرے یا دواؤں کی؟

روزگار کے ذرائع ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود ہوتے جا رہے ہیں جس سے بے روزگاری خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے نتیجتاً جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے روزانہ لوگ ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں نوجوان اور ایسے نوجوان جو تعلیم یافتہ ہیں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں مگر حکمران خاموش ہیں اور مافیاز کو طاقتور کہہ کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں اب اگر مافیا نے ہی دوائیں مہنگی کرائی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کہاں کھڑی ہے؟ عوام کا خیال رکھنا اس کا فرض نہیں ہے کیا؟

یقیناً ہے کیونکہ آئین کے مطابق ریاست شہریوں کی صحت کی ذمہ دار ہے لہذا دوا ساز کمپنیوں سے واضح طور سے کہا جائے کہ وہ اپنے منافع کو کم کریں عوام میں اتنی سکت نہیں کہ وہ انہیں خرید سکیں چلئے وہ ایسا نہیں کرتیں تو حکومت خود میڈیکل سٹوروں کا قیام عمل میں لائے جہاں وہ ان کمپنیوں سے دوائیں خرید کر عوام کو سستے داموں فراہم کرے۔

اگرچہ سرکاری ہسپتال موجود ہیں مگر ان میں بھی دوائیں مفت نہیں ملتیں وہاں تو غریبوں کا خون تک کشید کر لیا جاتا ہے۔ چنگی آئی اے عمران خان دی حکومت کہ ہر چیز مہنگی کیے جارہی ہے ادھر بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے حکمرانوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ عوام کو جینے کا حق ہے کہ نہیں؟ وہ بولتے نہیں تو وہ سمجھتی ہے کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں لہذا وہ (حکومت) مہنگائی پے مہنگائی کیے جارہی ہے مان لیتے ہیں کہ مافیاز طاقتور ہیں مگر کیا اختیارات کا قلمدان اس کے پاس نہیں؟

وہ انہیں استعمال میں لائے۔ فی الحال مجموعی صورت حال کے پیش نظر اگر لوگ یہ سب برداشت کر بھی لیتے ہیں تو کیا اہل اقتدار ان سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا ہمیں نہیں لگتا کہ جب حکومت دوسروں کے ذہن سے ( آئی ایم ایف و ورلڈ بینک وغیرہ) سوچے گی تو مسائل بڑھیں گے کیونکہ انہیں عوام سے کوئی ہمدردی نہیں لہذا کہا جا سکتا ہے کہ جلد یا بدیر عوام سڑکوں پر ہوں گے اور ان کی قیادت کوئی عام آدمی کر رہا گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •