اسلام آباد میں ایک سالگرہ کا فنکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اب سے چند برس پہلے کا واقعہ ہے مجھے بن بلائے اسلام آباد میں منعقد ایک سالگرہ کے فنکشن میں شریک ہونا پڑا۔ دراصل جس شخص کو مدعو کیا گیا تھا اسے اچانک کسی کام سے لاہور جانا پڑا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر مجھے حاضری یقینی بنانے کا فرض سونپ دیا گیا۔ موقع کو غنیمت جان کر میں اپنی امی جان کو بھی ساتھ لے گیا کیونکہ اتفاق سے وہ کچھ روز گزارنے میرے پاس موجود تھیں۔ یہ فنکشن مارگلہ روڈ کے ایک گھر میں منعقد کیا گیا تھا۔ محل نما گھر میں داخل ہوتے ہی انواع و اقسام کے کھانے، ان کا اپنا ذاتی ہوٹل جو گھر کے ساتھ ملحق تھا اور مہمانوں کی تواضع کا عالم دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان ایسے غریب ملک میں بھی اشرافیہ کے لئے بلند معیار زندگی کی کوئی کمی نہیں۔

اس تحریر کا موضوع قطعاً اس گھر کی خوبیاں بیان کرنا نہیں۔ اس بات کا اندازہ آپ کو کچھ دیر میں ہو جائے گا۔ خیر دعوت جناب میزبان کی بیٹی کی پہلی سالگرہ کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی۔ خوراک سے تواضع کے بعد محفل سماع کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں عصر حاضر کے ایک معروف قوال گروپ کو جلوہ افروز کیا گیا۔ ہم بھی قوالی سے لطف اندوز ہونے بیٹھ گئے اور اسی دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس سے میرے سوچ کے بند دریچے کھل گئے اور ان لمحات کا کھوکھلا پن شدت سے محسوس ہونے لگا۔

ہوا یوں کے مہمانوں میں سے ایک خاتون کی ملازمہ ان کا نو عمر بچہ لئے دور قریب ایک میز پر تشریف آور تھی۔ اتفاق سے ہمیں بھی جگہ اسی میز پر مل سکی۔ قوالی کے دوران جب ’علی دا ملنگ‘ پیش کی گئی تو میری امی کو دھیمی دھیمی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ دیکھا تو وہ ملازمہ اشکبار تھی لیکن اس نے خود کو سمیٹا ہوا تھا اور رنگارنگ روشنیوں کے جھرمٹ میں اس کے آنسو کم از کم میرے ایسی گناہگار آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں تھیں۔

میری امی جو کہ خود سادہ طبیعت کی مالک ہیں نے اس سے رونے کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے انسیت اور ان کے نام سے منسوب قوالی کے دوران اس محفل کی کم مائگی پر افسردہ ہے۔ کہنے لگی کے یہاں موجود لوگوں کو ادراک ہی نہ کہ کس بلند ہستی کا نام لیا جا رہا ہے اور وہ کس انداز میں اس کلام کا دنیاوی لطف و کھیل میں تمسخر اڑا رہے ہیں۔ بلآخر محفل تمام ہوئی اور وہ گمنام ملازمہ بھی چلی گئی لیکن اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کے ہم اس دنیاوی زندگی میں کس قدر غافل ہو گئے ہیں اور اخلاقی پستی کی کس حد تک گر گئے ہیں کہ جن ہستیوں نے اپنا سب کچھ دین کی سلامتی میں صرف کر دیا، آج ان کی اطاعت تو دور بلکہ ان کے نام کو از راہ تفریح استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہماری اشرافیہ ہو یا غریب عوام، سب اخلاقی اور مذہبی طور پر پست زندگی گزار رہے ہیں۔ جھوٹ، دکھاوا، منافقت، فریب، بغض اور جہالت ہماری سرشت بن چکی ہے۔ جو علم رکھتے ہیں، وہ بھی عمل میں بہت پیچھے ہیں۔ پیسے کو ہم نے خدا بنا لیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالٰی نے بہت جگہوں پر دنیاوی زندگی، مال و دولت، اور اولاد کو لے کر اللہ کی یاد سے غافل ہونے کو منع فرمایا ہے۔ اس محفل میں اللہ کی یہ نمائندہ خصوصی جس کے اپنے بچے شاید گھر میں بن ماں رو رہے ہوں گے، لیکن وہ رزق حلال کھانے والی غریب عورت باقی حاضرین سے تقوی میں بہت اوپر تھی۔

مال و دولت بیشک انسان کو گمراہ کر دیتی ہے اور افراط زر ہونا اسے اللہ کا کرم محسوس ہونے لگتا ہے نہ کہ اس کی آزمائش۔ اور اللہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کر دے۔ یہ میری زندگی کی پہلی محفل سماع تھی جس سے میں لطف اندوز نہیں ہو سکا لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے ان جگمگاتی روشنیوں میں اچھائی کی کرن ضرور ملی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •