ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا بہترین حکومتی فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان نے کی، تاریخ میں پہلی بار عوام کی بھلائی کی خاطر جان بچانے والی ادویات کی قیمت میں دو سال میں چوتھی پانچویں بار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ قیمت میں 9 تا 262 اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت خاص طور پر لائف سیونگ ادویات، بلڈ پریشر، شوگر، امراض قلب، اینٹی بائیوٹکس، سردرد، پیٹ درد، آنکھ، کان، دانت، منہ، اور بلڈ انفیکشن، بخار، ملیریا، گلے میں خراش اور فلو کی ادویات پر توجہ دے رہی ہے۔ قیمت بڑھانے کا کی ایک حکمت تو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتائی ہے یعنی اب یہ ادویات بلیک میں نہ ملیں بلکہ محلے کی فارمیسی میں با آسانی بلیک سے زیادہ قیمت پر دستیاب ہوں۔ دوسری وجہ جو ہر صاحب دانش پر عیاں ہے، اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پہلے چند خبروں پر نظر ڈالتے ہیں۔

جمعہ 5 اپریل 2019، اردو نیوز کے مطابق ”پاکستان میں 450 سے زائد ادویات کی قیمتوں میں دگنا تک اضافے کے بعد جہاں عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسلام آباد کیمسٹ ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری عارف یار خان نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے اس کاروبار میں ہیں مگر آج تک انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں یک دم اتنا زیادہ اضافہ نہیں دیکھا۔ بلڈ پریشر کی دوا (ٹرائفورج) کی قیمت 186 روپے سے 485 روپے ہو گئی جو کہ ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہے اسی طرح شوگر کی دوا (گلائی سیٹ) جو پہلے 272 روپے کا پیکٹ تھا اب 460 روپے میں دستیاب ہے۔“

مورخہ 8 اکتوبر 2019، ہم نیوز کے مطابق ”ادویات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے، ذیابیطس، بلند فشار خون (بلڈ پریشر) اور السر کے علاج کی ادویات 46 روپے تک مہنگی کر دی گئی ہیں، ذیابیطس پر قابو پانے کی دوا کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ تیزابیت کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی قیمت میں 46 روپے اضافہ ہوا ہے۔“

مارچ 2020، چینل 92 نیوز کے مطابق ”وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام ہیں، بھرپور کوشش ہے کہ ادویات ملک میں آسانی سے دستیاب ہوں، حکومت کی اولین ترجیح عوام ہیں۔ کوشش ہے عوام کو زندگی بچانے والی اور دیگر ضروری ادویات مناسب قیمتوں پر ملیں۔“

مورخہ 24 ستمبر 2020،
جیو نیوز: ”وفاقی حکومت نے 94 دواؤں کی قیمتوں میں 9 تا 262 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی۔“

ایکسپریس نیوز: ”ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ جن دواؤں کا ذکر ہو رہا ہے سستی لائف سیونگ اور پرانے فارمولے پر ہیں ان دواؤں کی قیمتوں پر مناسب تبدیلی نہ آنے کی وجہ سے مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں۔ غائب ہونے والی دوائیں بلیک میں ملنے لگتی ہیں۔ وہ ادویات جو لوگوں کو مہنگی مل رہی تھی اب مناسب وقت میں دستیاب ہو گئی۔ ہم نے ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ ہم ادویات ساز کمپنیوں کے دباو میں نہیں آئے۔“

آپ نے ان خبروں میں ایک تسلسل نوٹ کیا ہو گا کہ حکومت ادویات کو مسلسل محور نگاہ بنائے ہوئے ہے۔ یہاں پہلی بات یہ ہے حکومت نے ادویات ساز کمپنیوں اور بلیکیوں کے دباؤ میں آنے سے انکار کر دیا ہے اور قیمت اس سے بھی زیادہ بڑھا دی ہے جتنی بلیک مارکیٹ میں بڑھائی جاتی تھیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ نتیجہ یہ ہو گا کہ بلیک مارکیٹ ختم ہو جائے گی۔

دوسری چیز یہ نوٹ کریں کہ شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب اور اس قسم کے دائمی امراض پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور انفیکشن پر عام۔ قیمتیں بڑھانے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ ان امراض میں مبتلا ہونے سے گریز کریں گے، اور جو افراد اپنی فطری نا اہلی کے سبب ان امراض میں مبتلا ہو گئے ہیں، ان سے قوم کو نجات مل جائے گی۔ یہ افراد خواہ مخواہ دھرتی پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور ہسپتالوں میں رش ڈال کر حکومت کو بدنام کر رہے ہیں اور یوں دشمنوں کے ہاتھ میں کھیل کر سی پیک کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

ڈارون کا نظریہ ارتقا یہی بتاتا ہے کہ یہ سروائیول آف دی فٹسٹ کا کھیل ہے، یعنی جو فٹ ہو گا وہی زندہ رہے گا۔ اس قدرتی قانون کو نافذ کرنے پر لوگ قدرت سے احتجاج کریں اور ڈارون کے پتلے جلائیں، حکومت کو بدنام مت کریں۔ ویسے بھی قدیم دانش کہتی ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ غالباً قدیم زمانے میں بھی ادویات ایسی ہی مہنگی ہوتی ہوں گی۔

ویسے بھی جدید طبی تحقیق کے مطابق شوگر، بلڈ پریشر اور امراض قلب کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ ٹینشن زیادہ لیتے ہیں اور نتیجتاً ان امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب وزیراعظم عمران خان نے بارہا بتایا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے، تو یہ کیوں گھبراتے ہیں؟ اب بھگتیں اپنی بیماری کو اور سکون پائیں جو وزیراعظم بتا چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے زمانے میں صرف قبر میں دستیاب ہے۔

نوٹ کرنے والی تیسری چیز یہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ جلد بازی سے کام لیتے ہوئے ایسے ہی ہبڑ تبڑ میں نہیں کر دیا ہے۔ اس کے پیچھے دو سالوں کا تجربہ ہے (مدیر اعلیٰ سے گزارش ہے کہ اس جملے میں حسب عادت سالوں کو برسوں کرنے سے گریز کریں، سال اردو کا عام استعمال ہونے والا لفظ ہے جبکہ برس سے برسی یاد آ جاتی ہے جو امراض کا ذکر کرتے ہوئے مناسب لفظ نہیں ہے، یہاں جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں بڑھانے کے تناظر میں ”دو سالوں“ کی ترکیب مناسب ہے ) ۔

پہلے چینی کے معاملے میں یہ ہوا کہ حکومت نے قیمت کم کرنے کی کوشش کی تو چینی ملک سے غائب ہو گئی اور بلیک میں ملنے لگی۔ پھر جب حکومت نے چینی کی قیمت ایسی بڑھائی کہ آزاد معیشت کے اصولوں کے مطابق بلیکیوں کا اس سے مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا اور وہ اس سے زیادہ قیمت میں چینی فروخت کرنے سے قاصر رہے، تو بلیک مارکیٹ خود بخود ختم ہو گئی۔

یہی معاملہ تیل کا ہوا۔ جب حکومت نے قیمت گھٹائی تو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو تین ہفتے کے لیے تیل نایاب ہو گیا۔ اس سے قبل کی نا اہل حکومتوں کے زمانے میں قیمت گھٹانے سے محض دو تین دن کے لیے تیل نایاب ہوا کرتا تھا لیکن وہ مصنوعی طریقے سے تیل فراہم کر کے قلت ختم کر دیتی تھی۔ اب موجودہ حکومت نے مرض کی جڑ اکھاڑنے کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے تیل کی قیمت اتنی زیادہ بڑھا دی کہ بلیک میں تیل فروخت کرنا ممکن ہی نہ رہا کیونکہ پٹرول پمپ اس سے بھی زیادہ سرکاری ریٹ پر تیل فروخت کر رہے تھے جتنا عوام برداشت کر سکتے ہیں۔ یوں تیل کی بلیک مارکیٹ بھی ختم ہو گئی۔

اب یہی آزمودہ فارمولا ادویات کے بلیکیوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو اس مرتبہ بھی جیت حکومت کی ہو گی اور بلیکیوں کا منہ کالا ہو گا۔ گھبرانا نہیں ہے بس۔ یہ پاکستان میں شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب، انفیکشن، بخار، سر درد، پیٹ درد، دانت درد، کھانسی، کینسر، اور ایسے دیگر امراض کے خاتمے کی طرف ایک سوچا سمجھا قدم ہے۔

اگر قوم سے ان امراض کا خاتمہ کرنا مقصود نہیں ہے تو پھر وہ کرنا پڑے گا جو نا اہل اور کرپٹ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھٹو دور میں کیا تھا۔ بعض ناسمجھ لوگ ابھی بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے رہنما اور پاکستان ڈرگ لائرز فورم کے صدر نور محمد مہر یہی کہہ رہے ہیں کہ ”حکومت کو چاہیے کہ ادویاتی برانڈ ختم کر کے صرف سالٹ کی قیمت مقرر کی جائے، ادویات کی قیمتوں میں 700 فیصد تک کمی ہو جائے گی۔“ یعنی عوام کو سستی ادویات دیں تاکہ وہ ان امراض کا شکار ہوتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar