جمہوریت کا پتلی تماشا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے دور میں سب سے پسندیدہ طرز حکومت جمہوریت ہے اور جن ممالک میں یہ طرز حکومت ہے وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس سے بہتر کوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا اور واقعی اگر یہ طرز حکومت درست طریق سے لاگو ہو تو بہترین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

جمہوریت کی اصل روح دراصل ایک مہذب اور متمدن معاشرے کا قیام اور انسانی ہمدردی سے عبارت ہے اور اس صورت میں واقعی اس سے بہتر طرز حکومت نہیں ہو سکتا ۔ جہاں اپنے ساتھ رہنے والوں کو برابری کا درجہ دیا جائے اور ہم وطنوں کی مشکلات اور ضرورتوں کا احساس کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے اور کسی کے ساتھ ظلم یا جبر محض اس لیے روا نہ رکھا جائے کہ یہ طبقہ اقلیت میں ہے اور اکثریت ان کے بارہ میں جو چاہے فیصلے کرے۔ قانون بنائے اوراقلیت کو اپنے بنائے ہوئے قوانین کا پابند کرنے کی کوشش کرے کسی اقلیت کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اکثریت کے خلاف آواز بلند کرسکے۔

جمہوریت دراصل عوام کی حکومت کو کہا جاتا ہے نہ کہ اکثریت گردی کو مثلاً اگر ایک شخص بیمار ہواور شور سے تکلیف ہوتی ہو تو اس کے گرد موجود دس پندرہ آدمی محض اس بنیاد پر شور نہیں کر سکتے کہ ہم اکثریت میں ہیں اور یہ اکیلا ہے۔ جمہوریت دراصل مہذب معاشرے کا آئینہ ہے جس میں تہذیب کی ایک خاص سطح سے بلند ہو کر حکومت کی جاتی ہے۔

تیسری دنیا کے ممالک میں بد قسمتی سے جمہوریت کو عوام کی حکومت کی بجائے عوام پرحکومت کرنے اور اپنے فوائد کے حصول کا ذریعہ بنالیا گیاہے۔ ہمارے یہاں انتخابات کسی شخص کی ذاتی قابلیت کی بجائے ذات برادری، دولت اور اثر ورسوخ کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ کہیں جٹ برادری، کہیں گجر برادری، کہیں آرائیں برادری کے نعرے لگتے ہیں اور امیدوار انتخاب جیتنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں۔ اگر تو کوئی امید وار خدمت خلق کے جذبے سے سر شار ہوکر ملک و قوم کی خدمت کے لیے انتخاب میں حصہ لیتاہے تو اس کے اس جذبے کے کچھ نہ کچھ آثار تواس علاقہ میں پہلے سے نظر آنا چاہئیں۔

مثلاً اس نے اپنے علاقہ میں عوام کی بہبود کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ، کوئی ہسپتال یا کوئی اور عوامی خدمت کاکام کیاہو۔ تب تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ امیدوار عوامی خدمت کا دعویٰ کرنے میں سچا ہے۔ مگر اگر وہ صرف انتخابات کے دنوں میں ووٹوں کے حصول کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہو اور صرف انہیں دنوں میں عوام سے رابطہ میں ہوتو ظاہر ہے کہ اس کا مقصد محض کامیابی حاصل کرنا ہے اوراصل مقصد اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد اپنے خرچ کیے ہوئے کروڑوں روپے میں دگنا اور تین گنا اضافہ کرنا ہے۔

اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد ایک نیا کھیل شروع ہوجاتا ہے عموماً سیاسی پارٹیوں کو بہت واضح اکثریت حاصل نہیں ہوتی اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف امیدواروں کے اپنے ساتھ شامل کرکے اکثریت حاصل کریں۔ چنانچہ وہ امیدوار جو چھوٹی چھوٹی غیر اہم جماعتوں کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوتے ہیں ان سے بھاوٴ تاوٴ اور جوڑ توڑ شروع ہوجاتا ہے ۔ اس طرح ایک نہایت غیر اہم سیاسی جماعت جس کے بمشکل چار۔ پانچ امیدوار ہی عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہوئے ہوتے ہیں اچانک ایک اہم پوزیشن حاصل کرلیتی ہے۔

اور اپنے ناجائز مطالبات سے ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سرپر سوار ہوجاتی ہے۔ جسے اسمبلی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ان مطالبات کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔ چنانچہ عوام کی حکومت اب مرتکز ہو کر ان غیر اہم اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کے چند نمائندوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ جو اپنے جائز ناجائز مطالبات گلے پر انگوٹھا رکھ کر منواتے ہیں اور جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی حکومت اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے تمام عوام کی رائے کا انہی تین چار نمائندوں کی ذاتی خواہشات کے عوض سوداکر لیتی ہے۔ ایسی کمزور حکومت اب اس پتلی کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جو بظاہر تو حرکت کرتی نظر آتی ہے مگر دراصل اس کی حرکات نادیدہ ہاتھوں کی حرکات کے تابع ہوتی ہیں۔

اسکے بعد ایک اور کھیل شروع ہوتاہے حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں باہمی کشمکش اور کھینچا تانی شروع ہوجاتی ہے حزب اقتدار کی تمام تر کوشش حزب اختلاف کو بدنام کرنے میں صرف ہونے لگتی ہے۔

دوسری طرف حزب اختلاف بھی ہر موقع پر حزب اقتدار کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے پر گندے الزامات کاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔

حزب اقتدار چونکہ حکومت میں ہوتاہے اس لیے اس کام کے لیے ایک طریق یہ بھی استعمال کرتا ہے کہ افسر شاہی میں اپنی پسند کے افسر محکموں میں تعینات کرکے ان ذریعہ نہ صرف فوائد حاصل کرتاہے بلکہ حزب مخالف کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بھی بناتاہے نتیجةً سیاستدان ایک دوسرے پر کیچٹر اچھالنے کے علاوہ کوئی مثبت کام نہیں کرتے۔ عوام بے چاری مسائل کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے جن کے حالات کو بدلنے کا دعویٰ کرکے یہ لوگ اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہوئے تھے۔

اس کا ایک خطرناک منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں صحت مند مقابلہ کا رجحان ختم ہوجاتا ہے اور سیاستدان اور افسر شاہی مل کرملک میں ایسی فضا قائم کر دیتے ہیں جس میں اعتماد اور اعتبار کے خوبصورت اور مضبوط رویے ختم ہو جاتے ہیں اور ہر طرف بد ظنی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور ملک کا انتظامی تانابانا ٹوٹنا شروع ہوجاتا ہے اور کوئی سمجھدار، تعلیم یافتہ بردبار شخص سیاست کے اس کیچڑ میں ہاتھ ڈالنے سے پرہیز کرنے لگتاہے جو مستقبل کی نسلوں پر بھی منفی رنگ میں اثر انداز ہونا شروع ہوجاتا ہے اوربالآخر کسی ملک کی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔ جان ایلیا کا ایک شعر ہے
دلیل تھی نہ حوالہ تھا کوئی پاس ان کے

عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے۔

آج کل ٹیلی وژن کے مختلف پروگرام دیکھیں تو مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے نظر آئیں گے۔ ملک میں مہنگائی کاسیلاب ہے۔ تعلیم اور صحت کا نظام ابتر ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ لا ٴ اینڈ آرڈر کے حالات محل نظر ہیں۔ مگر گفتگو ہے تو صرف یہ کہ کس کس سیاستدان نے کس قدر بدعنوانی کی اور کون سی پارٹی ملک کے لیے کتنی نقصان دہ ہے۔

عوام کے مسائل پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ بلکہ آج کل ایک اور اصطلاح سٹیک ہولڈر کی استعمال ہوتی ہے۔ جیسے ملک نہ ہوا کوئی لمیٹڈ کمپنی ہوگئی جس میں حکمران اور افسر شاہی شراکت دار ہیں اور صرف انہیں کو فائدہ یانقصان پہنچ سکتاہے حالانکہ کسی ملک کے اصل سیٹک ہولڈر اگر کوئی ہیں تو عوام ہیں۔ جن کا جینا مرنا اور اولادوں کا مستقبل اسی دھرتی سے وابستہ ہے۔

سو جب تک عوام میں اپنے ووٹ کی قدر وقیمت کا احساس نہ ہو اور جب تک وہ اسے کسی امانت دار کے حوالے نہ کریں حالات کے سدھرنے کی امید رکھنا موہوم ہے۔

جب تک ہم اسمبلی میں بھیجے جانے والے اپنے نمائندگان کی سیرت، کردار، سنجیدگی اور نیک نیتی کا اندازہ نہ کریں۔ ہم صحیح رنگ میں اس طرز حکومت سے فوائد حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر ایک حلقہ میں ایک سنجیدہ اور بردبار نمائندہ محض اس لیے اسمبلی میں نہ جاسکے کہ اس کے مخالف امید وار نے کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ووٹ خریدے ہیں اور اس وجہ سے لاکھوں ووٹوں میں سے چند ووٹ زیادہ حاصل کرکے عوامی نمائندہ منتخب ہوگیا ہے تو قابل غور بات ہے کہ اس سے نقصان کس کا ہوا؟ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تیسری دنیا کی جمہوریت میں یہی طریق رائج ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •