با ادب، باملاحظہ ہو شیار۔۔۔ مثبت رپورٹنگ آ رہی ہے ے ے ے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی کا محاورہ ہے کہ کبھی کبھی برے کام سے بھی اچھا نتیجہ نکل آتا ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات ہمارے ملک کے ساتھ بھی درپیش ہیں اور جس نوعیت کے واقعات جس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ اچھا صلہ جلد ہی ملنے والا ہے اور شاید ہم اپنی زندگی میں ہی یہ منظر دیکھ سکیں۔

اس وقت میڈیا میں جو کہانیوں اور پیش گوئیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے ’اس سے تو لگتا ہے کہ ہم نظام میں بہتری کی بجائے اپنی اپنی نالائقی اور شکست کا ملبہ دوسروں پہ ڈالنے میں پوری شدومد سے مصروف ہیں۔ اس پہ مزہ یہ کہ کریڈٹ یا ریٹنگ کے چکر میں ہم افسوسناک اور اندوہ ناک واقعات کے بھی ایسے ایسے پہلو تراش لاتے ہیں کہ ہشت پہلو کی اصطلاح بھی کم پڑ جائے۔

حالیہ ادویات کے اضافے پہ وہ اودھم مچا ہے کہ ملبہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ ہر کوئی اپنا اپنا حصہ مباحثے میں ڈال رہا ہے لیکن بات کی اصل تہہ تک ڈبکی لگانے کو کوئی تیار ہی نہیں۔ مثلاً جن ادویات کی قیمتیں 9 سے 262 فیصد تک بڑھائی گئی ہیں وہ تو بہت ہی عام سی بیماریوں کی ہیں جیسے بخار ’سردرد‘ ملیریا ’شوگر‘ زچگی ’پیٹ درد‘ آنکھ ’ناک‘ کان ’منہ‘ گلے خراش اور فلو جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

یہ بیماریاں تو غریب طبقے کی ہے ہی نہیں۔ غریبوں کو تو ہیپاٹائٹس ’پیلیا‘ کینسر ’تشنج‘ مرگی ’بواسیر اور دمے جیسی بیماریاں ہوتی ہیں اور ان کی ادویات کی قیمت میں رتی برابر اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہ موئی تو اشرافیہ اور مافیا ٹائپ لوگوں کی بیماریاں ہیں اور حکومت نے چونکہ پہلے دن سے ان مافیاز کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہوا ہے۔ تو ان کی بیماریوں کی آڑ میں یہ انتقامی کارروائی ڈالی ہے۔ کیونکہ ان کے خلاف براہ راست تو کچھ ہو نہیں سکتا۔

پچھلے دنوں ہمارے ہر دلعزیز ’ہینڈسم اور منہ زبانی پڑھنے والے وزیراعظم صاحب نے اس قوم کوحسب روایت پیشگی متنبہ فرمایا کہ گیس کا بحران آنے والا ہے۔ یار لوگ اس پہ بھی لتے لینے بیٹھ گئے لیکن آپ غور کریں کہ اس میں کیسی دوراندیشی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک تو غریب طبقہ ابھی سے لکڑیوں کا سٹاک اکٹھا کر لے اور دوسرا وہ ذہن بنا لے کہ پانی گرم کرنا کس قدر مشکل اور کٹھن ہو گا تو بادی النظر میں آبادی میں اضافے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

ایک دور تھا جب نجومیوں ’جوتشیوں اور فال نکالنے والوں کے پاس جانا معیوب اور جاہلانہ حرکت تصور کی جاتی تھی اور دربار یا مزار پہ فاتحہ کے لئے جانا تو بدعت کبیرہ میں شمار ہوتا تھا۔ پھر اس حکومت نے اپنی درویشانہ خصوصیات کے باعث اپنی کارگزاری کا ایسا نظام مرتب کیا کہ ہر گاما‘ پھجا ’مودا‘ شیدا اٹھ کے پیش گوئی فرما دیتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ زیادہ تو پیش گوئی سچی نہیں نکلتی اور اپنا ہی تھوکا چاٹنا پڑ جاتا ہے۔

اہلیان مملکت سے التماس ہے کہ اگر کوئی خبر’ کوئی پیش گوئی یا کوئی بات سامنے آ جائے تو فوراً پنجے جھاڑ کے اس کے پیچھے نہ پڑ جائیں بلکہ حتی المقدور اس کے مثبت پہلوؤں کے بارے سوچیں۔ اور قوم کو یاد ہی ہوگا کہ یہ تاریخی الفاظ کس کے تھے‘ آپ اس پر اب من و عن عمل کریں ورنہ ۔ ۔ ۔ تسی جانو تے پٹھو جانے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •