تاریخی گوڑی مندر اور سسی کی پکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحرائے تھر ایک اعجوبہ ہے، ایسا اعجوبہ جسے آپ جتنا مرضی جانتے ہوں، لیکن جونہی ہوا چلتی ہے، ریت سرکتی ہے تو دیکھنے کو کچھ نیا نکل آتا ہے۔ حتیٰ کے وہ مناظر جنہیں آپ نے دیکھ رکھا ہو، وہ بھی ایک نئے روپ میں آپ کے سامنے جلوہ گر ہو جاتے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کہ اگر بارش ہو جائے تو تھر ہے ورنہ بر۔ حقیقت یہ ہے کہ صحرا کی سیاحت اور اس میں موجود آثار قدیمہ کو دیکھنے کا صحیح لطف بارشوں کے موسم میں ہی آتا ہے۔ گیت گاتے اور چہچہاتے پپیہے، رقص کرتے مور، سحر زدہ کر دینے والی شامیں، ریت کے اداس ٹیلے، بے ضرر لوگ، تاریخی مندر، قدیم مساجد، صدیوں پرانے تالاب اور کنویں جن کے کنارے بیٹھ کر صدیوں سے اچھے وقت کے انتظار میں بانسری بجاتے زمین زاد صحرائے تھر کی پہچان ہیں۔

ہم خوش قسمت رہے کہ ہمیں اگست میں تھر میں بارش نصیب ہوئی اور وہ بھی ایک ایسی تاریخی جگہ پر، جسے تین مذاہب کے ماننے والوں کا مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ صحرائے تھر کسی زمانے میں جین مت کے ماننے والوں کا مرکز رہا ہے۔ نہ صرف مرکز بلکہ خوشحال مرکز جہاں آس پاس اور دور دراز سے پجاری پوجا اور عبادت کے لیے کھنچے چلے آتے۔ یہاں ان کی عبادت کے لیے نہ صرف خوبصورت مندر موجود تھے، بلکہ قیام کا بھی اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ سکونت کے لیے کمرے مندر کے ساتھ ہی ملحق ہوتے تھے تاکہ تپسیا میں خلل نہ پڑے۔

مندر کے ساتھ ہی غسل وغیرہ کے لیے تالاب کا انتظام بھی ہوتا تھا۔ تھر میں جین مت کے بہت سے مندر موجود ہیں۔ کچھ کے آثار باقی رہ گئے ہیں اور کچھ شکست و ریخت سے برسر پیکار ہیں۔ میرپور خاص سے مشرق کو جاتی سیدھی سڑک پر سفر کریں تو تقریباً 200 کلومیٹر کے بعد صحرا کے عین بیچوں بیچ ایک شہر ’اسلام کوٹ‘ آباد ہے۔ یہاں سے مشرق کی جانب سفر کریں تو تھر کول پراجیکٹ کے قوی ہیکل آثار سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی بڑے شہر کے صنعتی علاقہ میں سیر کر رہے ہیں، لیکن اگر آپ اپنا سفر جاری رکھیں تو محض 50 کلومیٹر بعد آپ ایسے علاقہ میں ہوں گے جہاں ریت کے چٹیل میدان میں ہزار بارہ سو برس پرانا مندر آپ کو خوش آمدید کہے گا اور اس کی خوبصورت مگر شکستہ عمارت آپ کو ماضی کے جھروکوں سے گزرے وقت کی دھندلی سی تصویر پیش کرے گی۔

اگر آپ آثار قدیمہ کے دلدادہ ہیں تو آپ بیک وقت خوش بھی ہوں گے اور غمگین بھی۔ خوشی آپ کو اس بات پر ہوگی کہ تاحد نظر چہار سو پھیلی ریت میں آپ کو ایسی سندر اور تاریخی عمارت کا دیدار نصیب ہو رہا ہے اور غم آپ کو اس علاقہ کی ویرانی اور عمارت کی شکستگی پر ہو گا۔ یہ مندر ’گوڑی جو مندر‘ کے نام سے معروف ہے جو مرکزی سڑک سے بائیں طرف کو مڑتی سڑک پر 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرکزی راستے پر موجود بورڈ آپ کی رہنمائی کریں گے۔

ہم سر شام اسلام کوٹ سے مندر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم ایک گھنٹے میں مندر تک پہنچ جائیں گے، لیکن تھرکول کے نئے فیز کی وجہ سے راستہ بند تھا۔ متبادل راستہ بہت طویل تھا، چنانچہ جب ہم مندر کی دہلیز پر پہنچے تو سورج مغرب میں ڈبکی لگانے ہی والا تھا۔ لیکن ہماری ساری تھکن اور سفر کی کثافت عمارت کی خوبصورتی دیکھ کر ہی ہوا ہو گئی۔ مندر کے سامنے ایک مرجھائے ہوئے درخت کے نیچے چند مقامی فنکار شاہ لطیف کا کلام گا رہے تھے۔ مندر کی دیکھ ریکھ کرنے والے کمزور سے بابا جی جو مقامی باشندے ہیں، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور بطور پرساد ایک ایک ٹافی دی۔

وہ مندر جس کے متعلق لوک روایات ایک سے زیادہ اور متنازع ہیں، لیکن جو چیز غیر متنازع اور یقینی ہے وہ ہے اس مندر کا جادوئی حسن۔ وہ حسن جو صدیوں سے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتا رہا ہے۔ بابا جی نے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ مندر پارس ناتھ نے بنوایا تھا اور یہ مدت مدید تک جین مت کے پجاریوں کا مندر رہا ہے۔ جین مت کے یہاں سے ختم ہونے کی وجہ سے بدھ مت کے پجاری یہاں عبادت کرتے رہے اور آج کل یہاں سناتن دھرم (موجودہ ہندومت) کے لوگ عبادت کرتے ہیں۔

بدھ مت کے متعلق تو بابا جی کی روایت کی تصدیق کرنا قدرے مشکل ہے، لیکن باقی دونوں مذاہب کے متعلق یہ بات تاریخی طور پر درست ہے۔ اگر تاریخی کتب کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ برہمنوں کی اجارہ داری کے خلاف جو توانا تحریکیں ابھریں، ان میں جین مت اور بدھ مت بہت نمایاں تحریکیں تھیں۔ یہ آج بھی موجود ہیں۔ جین ازم کے کل 24 گرو گزرے ہیں، جن میں سب سے نمایاں نام مہاویر کا ہے۔ مہاویر کے پیشرو ’پارس ناتھ‘ تھے، جنہیں پارشوناتھ اور گوڑیچا بھی کہا جاتا ہے۔ گوڑی مندر اسی گوڑیچا کے نام سے موسوم ہے۔

اس مندر میں گوڑیچا کا مجسمہ بھی دھرا رہتا تھا جس کی عبادت کرنے دور دراز سے لوگ یہاں آتے تھے، لیکن پھر یہ مجسمہ اس علاقہ کے حکمران نے اٹھوا لیا اور اسے دولت کمانے کا ذریعہ بنا لیا اور سال بعد ایک میلہ منعقد کر کے کمائی کی جاتی ہے۔ مذکورہ حکمران کی وفات کے بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور چونکہ اس کے علاوہ مجسمہ کا کسی کو علم نہیں تھا کہ اسے کہاں چھپایا گیا ہے اس لیے پھر وہ مجسمہ دفن ہو گیا اور آج تک اس کا نشان غائب ہے۔ مقامی لوگ ابھی تک یہ روایت اس مندر پر آنے والوں کو سناتے ہیں۔

کیپٹن اسٹینلے نیپئر ریکنز 1865 ء میں تھرپارکر میں مجسٹریٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے واپس جا کر اپنی یادداشتیں Memoir on the Thurr and Parkur Districts of Sind کے نام سے تحریر کیں۔ اس میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’گوڑی مندر میں پارس ناتھ کا مجسمہ دھرا رہتا تھا جو کہ ڈیرہ فٹ کا تھا۔ اسے پارکر کے لوگ گوڑیچا بھی کہتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مندر کا نام گوڑی مندر پڑ گیا۔ سوڈھا حکمران ستوجی نے اسے 1716 ء میں یہاں سے غائب کیا تھا جو ویراواہ (مندر کے قریب آباد شہر جو، ابھی بھی آباد ہے ) کے موجودہ حکمران لدھاجی کا پردادا تھا۔

ستوجی اس مجسمہ کو ’باکھاسر‘ لے گیا۔ (باکھاسر موجودہ گجرات ہندوستان میں ہے ) اور ہر سال ایک میلہ منعقد کیا جاتا تھا، جس میں یہ مجسمہ رکھا جاتا تھا۔ اس میلے میں بھاری رقوم کے عوض اس مجسمے کی زیارت کروائی جاتی تھی۔ ایک عورت نے 9 ہزار روپے دے کر مجسمے کی زیارت کی۔ اس کے بعد مختلف علاقوں میں ایسے میلے منعقد ہوتے، جہاں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ پہنچ کر زیارت کرتے۔ ہندو بنیے بہت بڑی رقوم دے کر اس مجسمہ کی زیارت کرتے۔ 1832 ء تک یہ میلے منعقد ہوتے رہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ وہ مجسمہ کہیں کھو گیا۔ جس حکمران کے پاس یہ مجسمہ تھا وہ اسے چھپانے کے لیے کہیں دفن کر دیتا تھا۔

اس کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مجسمہ کہاں ہے، چنانچہ مجسمہ کھو گیا۔ اس مجسمہ کی گوڑی مندر آنے کی کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک ترک مسلمان تاجر کے پاس ایسے 3 مجسمے تھے جس میں سے ایک مجسمہ ’میجھا شا‘ نامی بنیے نے 1376 ء میں ایک سو روپے کا خرید کر گوڑی مندر میں رکھوایا تھا۔ ’گوڑی مندر میں گوڑیچا کا مجسمہ بھی دھرا رہتا تھا جس کی عبادت کرنے دور دراز سے لوگ یہاں آتے تھے کیپٹن اسٹینلے کی اس روایت سے ایک بات تو بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ یہ پرانے مندروں کے آس پاس مدفون خزانوں کی جو کہانیاں ہیں ان میں کسی نہ کسی حد تک صداقت ضرور ہے کیونکہ لوگ دور دراز سے یہاں آتے اور چڑھاوے چڑھاتے۔

گوڑی مندر کی عمارت کے پاس چند ایک سرنگوں کے آثار ابھی بھی باقی ہیں، جن کے متعلق بعض روایات کے بقول دھن رکھا جاتا تھا۔ بعض لوک روایات کے بقول یہ سرنگیں ہندوستان تک جاتی تھیں اور بعض کے نزدیک یہ سرنگیں قریب ہی موجود شہر ویراواہ تک جاتی ہیں، جہاں اس علاقے کا حکمران رہتا تھا۔ مؤخرالذکر روایت حقیقت سے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ مجسمہ انہوں نے ہی یہاں سے اٹھایا تھا اور میلہ بھی وہی منعقد کرتے تھے۔ مندر کے باہر آویزاں بورڈ کے مطابق یہ مندر 1376 ء میں تعمیر کیا گیا۔

یہ مندر سنگ مرمر کے خوبصورت پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق یہ پتھر جودھ پور سے لائے گئے۔ مندر کے شروع میں ایک بہت بڑا اور خوبصورت سنگ مرمر کا بنا گنبد ہے۔ جس کے اوپر مختلف قسم کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ یہ تصویری کہانیاں ہیں، جن میں جین مت کی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گنبد کے آس پاس کی دیواروں پر بھی اسی طرح کے نقوش و نگار ہیں۔ گنبد سے متصل ہی مسقف حصہ ہے۔ مسقف عمارت بھی گنبدوں سے تعمیر شدہ ہے۔

یہ ڈیزائن شاید صحرا کی گرمی کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تاکہ عمارت تادیر ٹھنڈی رہے۔ مسقف عمارت کی تینوں اطراف چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں، جہاں پجاری پوجا پاٹھ کرتے تھے اور قیام بھی کرتے تھے۔ عمارت کو بہت سا نقصان بھی پہنچا ہے اور کچھ حصہ گرنے کے باوجود بھی عمارت کا حسن قائم و دائم ہے۔ اکثر کمرے اب بھی اصل حالت میں موجود ہیں۔ گو ان میں اب چمگادڑوں کے ڈیرے ہیں۔ درمیان میں ایک گنبد کے اندر کچھ اگربتیاں روشن ہیں اور ہندوازم کے کچھ بتوں کی تصویریں آویزاں ہیں۔

اس مندر کے موجودہ رکھوالے بھی ہندو مت سے تعلق رکھتے ہیں۔ صحرا میں ڈھلتی شام میں جب سورج بادلوں کی اوٹ میں کہیں غروب ہو رہا تھا، تو مندر کے سامنے درخت کے نیچے بیٹھے مقامی لوک فنکار، شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام گا رہے تھے۔ برکھا کی آمد آمد تھی بلکہ پھوار پڑنی شروع ہو گئی تھی۔

یہاں سے رخصت ہونے کا من نہیں تھا۔ دل کر رہا تھا کہ تادیر اس عمارت اور اس کے فسوں کا نظارہ کیا جائے جو صدیوں سے یہاں موجود ہے۔ جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور ابد کے سفر پر روانہ ہو گئے، لیکن عمارت کی تازگی اور خوبصورتی میں فرق نہیں آیا۔ زمانے کی شکست و ریخت جس کے حسن کو گہنانے میں ناکام رہی۔ ہم روانہ ہونے لگے تو فنکاروں نے تان اٹھائی جس میں سسی کہہ رہی کہ ’اپنے محبوب کے قدموں میں گر کر اس کو کہوں گی کہ آج رات بھنبھور میں ہی رک جاؤ‘ ۔ یہ سن کر یوں لگا جیسے مندر کی عمارت ہمیں زبان حال سے یہی کہہ رہی ہے کہ آج کی رات گوڑی میں ہی رہ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 25 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad