وجہ قتل: احمدی ہونا

مولانا فضل الرحمان سے لے کر علی محمد خان تک سارے سیاستدانوں کو مبارک ہو، ان کا احمدی کارڈ مسلسل رنگ لا رہا ہے۔ ایک اور احمدی کو تہ تیغ کر دیا گیا اور ہمیشہ کی طرح خنجر پہ کوئی داغ نہ ہی کسی دامن پہ کوئی چھینٹ۔ بس ایک اور سہاگ اجڑا، تین معصوم یتیم ہوئے اور والدین کے ناتواں کندھے مزید جھک گئے۔ قاتل اور اس کے سہولت کار اگلا شکار ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور سلامتی

Read more

احمدی۔ خون خاک نشیناں تھا سو خاک ہوا

ضلع ننکانہ صاحب کی ایک یونین کاونسل ”مڑھ بلوچاں“ میں آج ایک نوجوان ڈاکٹر طاہر محمود کو محض اس وجہ سے ”قتل“ کر دیا گیا کہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا۔ اس مضمون میں لفظ قتل کی جگہ میں کچھ اور لکھنے کا خواہش مند ہوں، لیکن اکثریت کے جبر اور بنائے گئے قوانین کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ اگر وہ لفظ لکھ دوں تو کم از کم تین برس کے لیے مجھے جیل جانا ہوگا۔ عقیدہ کی بنیاد پہ چند ہی دنوں میں متعدد احمدیوں کو تہہ تیغ کیا گیا ہے، لیکن نہ میڈیا کو خبر دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی حکومتی عہدیداران میں اتنی جرات ہے کہ وہ اس قتل کی مذمت کرسکیں۔ ملک میں فساد برپا کردینے والے مولوی کی وفات پہ وزیراعظم صاحب کو ٹویٹ کرتے دیر نہیں لگتی، لیکن ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے مسلسل مظالم پہ لب کشائی کرنے کی توفیق ارزاں نہیں ہوتی۔

Read more

تاریخی گوڑی مندر اور سسی کی پکار

صحرائے تھر ایک اعجوبہ ہے، ایسا اعجوبہ جسے آپ جتنا مرضی جانتے ہوں، لیکن جونہی ہوا چلتی ہے، ریت سرکتی ہے تو دیکھنے کو کچھ نیا نکل آتا ہے۔ حتیٰ کے وہ مناظر جنہیں آپ نے دیکھ رکھا ہو، وہ بھی ایک نئے روپ میں آپ کے سامنے جلوہ گر ہو جاتے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کہ اگر بارش ہو جائے تو تھر ہے ورنہ بر۔ حقیقت یہ ہے کہ صحرا کی سیاحت اور اس میں موجود آثار قدیمہ کو دیکھنے کا صحیح لطف بارشوں کے موسم میں ہی آتا ہے۔ گیت گاتے اور چہچہاتے پپیہے، رقص کرتے مور، سحر زدہ کر دینے والی شامیں، ریت کے اداس ٹیلے، بے ضرر لوگ، تاریخی مندر، قدیم مساجد، صدیوں پرانے تالاب اور کنویں جن کے کنارے بیٹھ کر صدیوں سے اچھے وقت کے انتظار میں بانسری بجاتے زمین زاد صحرائے تھر کی پہچان ہیں۔

ہم خوش قسمت رہے کہ ہمیں اگست میں تھر میں بارش نصیب ہوئی اور وہ بھی ایک ایسی تاریخی جگہ پر، جسے تین مذاہب کے ماننے والوں کا مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ صحرائے تھر کسی زمانے میں جین مت کے ماننے والوں کا مرکز رہا ہے۔ نہ صرف مرکز بلکہ خوشحال مرکز جہاں آس پاس اور دور دراز سے پجاری پوجا اور عبادت کے لیے کھنچے چلے آتے۔ یہاں ان کی عبادت کے لیے نہ صرف خوبصورت مندر موجود تھے، بلکہ قیام کا بھی اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ سکونت کے لیے کمرے مندر کے ساتھ ہی ملحق ہوتے تھے تاکہ تپسیا میں خلل نہ پڑے۔

Read more

جناب زاہد کاظمی، ایک روپے والا اسکول اور تیس ہزاری لائبریری

کیا آپ کسی ایسے آدمی کو جانتے ہیں جس کا کام کتابیں اکٹھی کرنا، دوستوں کو تحفہ دینا اور دوستوں کی کتابیں شائع کرنا ہو؟ نہیں نا! تو آئیے ہم آپ کو ایک ایسی ہستی سے ملواتے ہیں جو اس دور بے ہنراں میں بھی نہ صرف علم کی شمع جلائے ہوئے ہیں بلکہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلائے چلے جاتے ہیں۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والے ہمارے پیارے دوست، بہت ہی مشفق اور علم دوست شخصیت جناب زاہد کاظمی صاحب نے اپنے گھر میں ایک لائبریری قائم کر رکھی ہے۔

اس لائبریری میں تیس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ ان کتب میں سب سے بڑا ذخیرہ خودنوشت سوانح سے متعلق ہے۔ یہ پاکستان میں خودنوشت سوانح کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں۔ ان کی لائبریری کے دروازے تو طلبہ و محققین کے لیے ہمہ وقت کھلے ہی ہوتے ہیں، ان کا مہمان خانہ بھی ہمہ وقت آباد رہتا ہے۔ آپ کوئی حوالہ تلاش کرنے پہنچے ہیں تو پہلے چائے پیجیے اور پھر حوالہ ڈھونڈیے گا۔ ہاں اگر حوالہ تلاش کرتے کرتے دیر ہو گئی ہے اور کھانے کا وقت ہو گیا ہے تو آپ کھانا کھائے بغیر یہاں سے نہیں جا سکتے۔

Read more

منٹو اور ان کا ٹائپ رائٹر

اردو کے مایہ ناز ادیب سعادت حسن منٹو جہاں ایک منجھے ہوئے صاحب اسلوب افسانہ نگار تھے وہیں وہ زمانے سے ہم آہنگ ہونے والے جدید ذہن کے مالک بھی تھے۔ نئی ایجادات کے منٹو نہ صرف مداح تھے بلکہ انہیں برتنے کا فن بھی جانتے تھے۔ اردو ادب میں متعدد جگہ منٹو کے ٹائپ رائٹر کا تذکرہ ملتا ہے اور بعض جگہ منٹو نے خود بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ”ہم سب“ پہ شائع شدہ ایک مضمون https://www.humsub.com.pk/211955/zulfiqar-khan-2/

Read more

قادیانی مسئلہ اور عاطف میاں… محمد اظہارالحق کے جواب میں

یہ فقیر گذشتہ دس سال سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے متنوع کالم نگاروں کا باقاعدہ قاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پہ لکھنے والے دانشوروں کی تحریریں بھی دیکھ رہا ہے۔ ایک بات پہ ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ ہر قسم کے موضوعات پہ معتدل،منطقی اور نسبتا سچ بات کرنے والے جونہی احمدیت کے حوالہ سے بات کرتے ہیں تو ایک روایتی کجرو مولوی کے جوتوں میں پاوں ڈال لیتے ہیں۔ نہ

Read more

کیا جماعت احمدیہ غدار ہے؟ (1)

ظفر الاسلام سیفی صاحب کا ایک مضمون "ہم سب” کی زینت بنا ہے جس میں آنجناب نے احمدیوں کی ملک و ملت سے کی جانے والی "غداریوں” کا تذکرہ فرمایا ہے۔ بے حوالہ، بے دلائل اور "سنا گیا ہے” یا "بتایا جاتا ہے” پر روایات کا استناد بتلا رہا ہے کہ مضمون کس قبیل کا ہے۔ باقاعدہ شہادت ڈاکٹر صفدر محمود جیسے "جید” مورخ سے دلوائی گئی ہے. موصوف کے اعتراضات کا خلاصہ دیکھئے۔ 1.          جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے

Read more

فطرت کے میوزیم میں مقدس تالاب

فطرت کے میوزیم میں مقدس تالاب صوبہ سندھ کے انتہائی مشرق میں ہندوستانی بارڈر کےساتھ  واقع ضلع تھرپارکربہت سی خصوصیات کا حامل ضلع ہے۔تھر کے لیے سندھ کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے کہا تھا کہ تھر ’’فطرت کا میوزیم ہے‘‘۔تھرکےشمال میں میرپور خاص اور عمرکوٹ کے اضلاع واقع ہیں جبکہ، مشرق میںہندوستان کے بارمیر اور جیسلمیر کے اضلاع اور مغرب میں بدین اور جنوب میں رن کچھ کا متنازع علاقہ ہے۔تھرپارکر کا کل رقبہ 19،638 مربع کلومیٹر ہے۔ تھردلچسپ تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ سے بھرا ہوا ہے۔پرانی مساجد،قدیم مندر،مقبرے،کنویں اور آشرم

Read more