صحرائے تھر ایک اعجوبہ ہے، ایسا اعجوبہ جسے آپ جتنا مرضی جانتے ہوں، لیکن جونہی ہوا چلتی ہے، ریت سرکتی ہے تو دیکھنے کو کچھ نیا نکل آتا ہے۔ حتیٰ کے وہ مناظر جنہیں آپ نے دیکھ رکھا ہو، وہ بھی ایک نئے روپ میں آپ کے سامنے جلوہ گر ہو جاتے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کہ اگر بارش ہو جائے تو تھر ہے ورنہ بر۔ حقیقت یہ ہے کہ صحرا کی سیاحت اور اس میں موجود آثار قدیمہ کو دیکھنے کا صحیح لطف بارشوں کے موسم میں ہی آتا ہے۔ گیت گاتے اور چہچہاتے پپیہے، رقص کرتے مور، سحر زدہ کر دینے والی شامیں، ریت کے اداس ٹیلے، بے ضرر لوگ، تاریخی مندر، قدیم مساجد، صدیوں پرانے تالاب اور کنویں جن کے کنارے بیٹھ کر صدیوں سے اچھے وقت کے انتظار میں بانسری بجاتے زمین زاد صحرائے تھر کی پہچان ہیں۔
ہم خوش قسمت رہے کہ ہمیں اگست میں تھر میں بارش نصیب ہوئی اور وہ بھی ایک ایسی تاریخی جگہ پر، جسے تین مذاہب کے ماننے والوں کا مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ صحرائے تھر کسی زمانے میں جین مت کے ماننے والوں کا مرکز رہا ہے۔ نہ صرف مرکز بلکہ خوشحال مرکز جہاں آس پاس اور دور دراز سے پجاری پوجا اور عبادت کے لیے کھنچے چلے آتے۔ یہاں ان کی عبادت کے لیے نہ صرف خوبصورت مندر موجود تھے، بلکہ قیام کا بھی اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ سکونت کے لیے کمرے مندر کے ساتھ ہی ملحق ہوتے تھے تاکہ تپسیا میں خلل نہ پڑے۔
Read more