کیا خواتین ٹیچرز اپنے بچوں کا گلہ گھونٹ دیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر اس وقت میانوالی کی ایک ٹیچر مس عشرت کا معطلی کا آرڈر گھوم رہا ہے۔ سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے وزٹ کے دوران وہ اپنے بچے کو بہلا رہیں تھیں۔ جس پر قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار سی ای او صاحب نے ٹیچر کے معطلی کے آرڈر جاری کروا دیے اور اس طرح علم دشمن عناصر کی بیخ کنی کی اور تعلیم کی راہ ہموار کی۔ حالانکہ موصوف جس ضلع کے سی ای او ہیں وہ پنجاب میں تعلیمی لحاظ سے 26 نمبر پر ہے یعنی نیچے سے ٹاپ ٹین میں ہے، بجائے اس سکور کو بہتر کرنے کے وہ اساتذہ کو فضول باتوں پر سزائیں دے رہے ہیں۔

میں پولیس میں نوکری سے پہلے محکمہ تعلیم میں رہا اور یہ اندازہ لگایا کہ محکمہ تعلیم کے انتظامی عہدوں پر تعینات لوگ انتہائی نااہل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری زندگی یہ بطور استاد گزارتے ہیں جس میں کوئی بھی انتظامی ٹاسک نہیں ہوتا اور عمر کے اخری حصے میں ”اینڈمنسٹریٹر“ کم اور ”پھپھے کٹنیاں“ زیادہ بن جاتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی موجودہ حالت کی سب سے بڑی وجہ انتظامی امور کے لیے ایگزیکٹو سیٹ اپ کا نہ ہونا بھی ہے۔

جبکہ اس کے برعکس کچھ دن پہلے محترمہ عائشہ بٹ صاحبہ SP نے دوران ڈیوٹی اپنی بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا اور اس کی تصویر اپلوڈ کی گئی جس کو سراہا گیا اور سراہا بھی جانا چاہیے تھا کہ عورت اپنی دونوں ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کررہی ہے۔ اس تصویر پر کسی نے ان کو کوئی شوکاز نہیں دیا اور نہ ہی سرزنش کی گئی۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ان کا کیڈر تھا۔ یہاں پر یہ طبقاتی تقسیم بھی موجود ہے کہ کچھ طبقات کا کام قابل تحسین اور وہی کام اگر کوئی لوئر کیڈر کا کرے تو قابل سزا قرار پاتا ہے جیسے مذکورہ ٹیچر کی معطلی ہے۔

دنیا میں آج ورکنگ وومن کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے یہاں تک کہ مغربی دنیا میں ممبران اسمبلی اپنے بچے کو اٹھا کر تقریر کرتی ہیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسل ماں کی جاب کی وجہ سے متاثر ہو۔ لیکن پاکستان میں ہر محکمہ لایعنی چیزوں کو ایشو بنا کر اپنی نا اہلی کا جواز گھڑتا ہے۔ سی ای او میانوالی نے جس ”جہالت“ کا ثبوت دیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایجوکیشن کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار اس طرح کے افسران ہیں نہ کہ ٹیچرز۔ اس ماحول میں کیا خواتین جاب نہیں چھوڑیں گی۔ جس کے گھر میں اکیلا ایک ہی بچہ ہو اور اس عورت کو سروائیول کے لیے نوکری بھی لازمی ہو تو کیا ان افسروں کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے گلے گھونٹ دیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •