صحافت اور آزادی اظہار – نیو اور دن نیوز کے نام


\"haiderبرصغیر میں تقسیم کے بعد پاکستان میں آئین جلد نہ بننے کے سبب برطانوی قانون کا ہونا تھا اور ہمارے حکمران طبقے نے بھی کوئی ہمت نہ دکھائی اور بنا آئین کے ہی ملک چلتا رہا اور یہ آئین کہیں جا کر 1956میں بنا۔ اس کی وجہ سے بے شمار بنیادی غلطیاں ہوئیں اور قوانین کو نافذ کرنے میں پریشانی کا سامنا کرناپڑا اگر بات کریں صحافت کی تو صحافیوں پر سب سے پہلے 8اکتوبر 1949 میں سب سے پہلا امنتاعی قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا جس کا مقصد صحافیوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا اس میں صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی تھی۔ سنسر شپ جیسا مہلک ہتھیار اپنایا گیا اور اگر اس قانون کی کوئی خلاف ورزی کرتا تو اسے 3 سے 5سال تک قید و سزا اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس قانون کے تحت 1949 سے صحافتی آزادی پر تلوار لٹکنی شروع ہوئی اور شاید اب بھی لٹک رہی ہے۔

اس سے آگے آئیں تو 1959 میں پروگریسو پیپرز لیمیٹڈ کے اخبارات پاکستان ٹائمز اور امروز کو قومی تحویل میں لیا گیا اور نامور صحافی فیض احمد ضیض، سبط حسن، مظہر علی خان، احمد ندیم قاسمی اور دیگر کی گرفتاری اسی قانون کے ہوئی۔ اخبارات کو سرکاری تحویل میں لینا صحافتی آزادیوں پر وار تھا جو ہمیں بعد میں پی پی آئی اور نیشنل پریس ٹرسٹ کی صورت میں نظر آیا جس نے صحافی برادری کو تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد ایک اور صحافت دشمن قانون معرض وجود میں آیا جس کا نام پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس ایکٹ تھا۔ اس میں کہا گیا کہ کوئی بھی اخبار اجراء قوانین کا پابند ہو گا۔ جب ایک اخبار کا اجازت نامہ منسوخ ہو جائے گا تو ناشر کو نیا اجازت نامہ داخل کرنا ہو گا۔ ہفت روزہ کو ایک ماہ میں دو دفعہ شائع کرنا ضروری ہو گا پندرہ روزہ اخبار کو ایک ماہ میں ایک بار اور ماہنامہ رسالہ کو دو ماہ میں ایک بار شائع ہونا ہو گا۔ اس کے بعد پبلک سیفٹی ایکٹ آیا جس میں پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس مجریہ اور پریس ایمرجنسی پاور ایکٹ لائے گئے۔ اس کے بعد پریس ایمرجنسی پاور ایکٹ آیا جس میں درج تھا کہ مجسٹریٹ ناشر سے اجازت نامہ جمع کرنے کا مطالبہ کرنے کا مجاز ہو گا۔ اس کا پہلا شکار ہفت روزہ پٹریاٹ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ وقتاً فوقتاً ایسے قوانین بنائے گئے جو صحافیوں کے لئے بہت پریشان کن تھے جس میں ایک ایسا قانون بھی شامل کیا گیا تھا جس میں حکومت کے خلاف یا اشاروں میں کی گئی کسی بھی خبر کی اگر عوامی شکایت آجائے یا حکومت محسوس کرے تو اس ادارے کے خلاف حکومت کوئی بھی کارروائی کر سکتی ہے۔

اس سے ملتا جلتا یا تقریباً ایسا ہی قانون لارڈ میکالے نے بھی متعارف کروایا تھا۔ اس میں سزا تین تا پانچ سال تھی۔ اس کے علاوہ پریس اینڈ رجسٹریشن، تحفظ ریاست ایکٹ، پریس ایمرجنسی پاور ایکٹ بھی بنائے گئے جو آزادی اظہار پر کاری ضرب تھے اور ثابت ہوئے۔ اس میں اشاروں اور تشبیہات سے اگر مذہبی منافرت پھیلانے کا اندیشہ بھی ہوا تو سزا اور اگر بیان یا افواہ بھی لگی تو سزاہو گی۔ ایک غیر اہم قانون جو اسرار سرکاری کے نام سے بنا جو اسمبلی رپورٹ کو روکنے کے لئے بنایا اس پر مختلف اخبارات نے سخت موقف اپنایا تھا اور حکومت کو لچک دکھانی پڑی اور اس کے ساتھ تعلقات خارجہ کی نام پر ایک ریاستی سطح کا قانون نافذ کیا جس میں کہا گیا کہ اگر کسی ریاست کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں تو اس کے خلاف کوئی خبر نہیں لگے گی۔ پھر ٹیلی گراف ایکٹ آیا اور پوسٹ آفس ایکٹ بھی اسی طرح کا تھا جس میں تار بھیجنے کی طرح ڈاک سے پابندی کی گئی پھر سمندری ایکٹ آیا جس میں سمندر کے ذریعے پابندی عائد کی گئی۔

سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ بھی لایا گیا اس کے بعد ایک سخت ترین آرڈر آیا جسے نیوز پرنٹ کنٹرول کہا گیا۔ اس میں اخباری کاغذ کی فراہمی کو کنٹرول کیا گیا اور یحییٰ خان نے اس میں ایک شق کا اضافہ کیا کہ تاجروں کے نام سرکاری گزٹ میں شامل کئے۔ پھر مشہور زمانہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 499 اور 500 میں ترمیم کی گئی جس میں افسران کے خلاف حق اور سچ پر مبنی خبر کو بھی قابل سزا جرم کہا گیا اور اس پر صحافیوں نے بڑی جدوجہد کی اور بعد میں یہ ترمیم منسوخ ہوئی۔ پھر مغربی پاکستان امن عامہ آرڈیننس بنا اس کے ساتھ 56 کا آئین آگیا جس میں واضع کہا گیا تھا کہ آزادی اظہار ہر شہری کا حق ہے۔ اس پر بھی اعتراض ہوا کہ یہ صحافیوں کے لئے آزادی اظہار نہیں۔ پھر وزیر اعظم نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ قوانین آزادی اظہار کے لئے ہر شعبے کے لئے یکساں ہیں۔ اس کے بعد جب 58 میں ایوب خان نے اپنے محسن اسکندر مرزا کا پتہ صاف کیا تو پھر ایک امن عامہ آرڈیننس لایا گیا جس میں فحش مواد پر سزا کا حکم نامہ جاری ہوا۔ اس کے بعد پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس آیا جس کے ذریعے دوبارہ حکومت سے اجازت نامہ لینا تھا۔ پھر قانون مطبوعات و صحافت جس کی رو سے مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہوتی تھی۔ اس کے اختیارات مجسٹریٹ تک آگئے جو نگران بن گیا۔ اس کے بعد ایک خبر رساں ادارہ اے پی پی سرکاری خبر رساں ادارہ بن گیا جس کی وجہ سے خبروں کی فراہمی کے آزادانہ ذرائع پر سرکاری تسلط قائم ہو گیا۔ پھر ایک ایسا ادارہ نیشنل پریس ٹرسٹ قائم ہوا جو تمام حکومتوں کے گن گاتا رہا ایوب خان تھا تو ایوب خان کا وفادار ضیاالحق آیا اس کے ہو لئے اور رخصتی پر ان کے خلاف توپ کا رُخ کردیتا۔ بھٹو صاجب نے تو اِسے بند کرنے کے لئے باضابطہ الیکشن میں نعرہ بھی لگایا تھا لیکن جیسے سابقہ پالیسی تھی ویسی ہی اب بھی رہی اور یہ ادارہ بھٹو صاحب کو مائی باپ لکھنے اور پڑھنے لگا تو بھٹو صاحب کو ترس آگیا اور ادارہ بند کرنے کے دعوے سے پیچھے ہٹ گئے۔ پھر ایک کمزور سے وزیر اعظم نے اسے ختم کیا۔
اس کے تحت بھی اخبارات کو سر کاری تحویل میں لیا گیا تھا جو صحافت کا گلا گھوٹنے کے مترادف تھا۔ اس کے بعد ایوب خان نے 65 کی جنگ کے نتیجے میں اخبارات پر پابندی کا قانون بنایا۔ پھر یحیی خان کے دور میں اس کا خاتمہ ہوا لیکن ایک مارشل لاء کے بعد دوسرا مارشل لاء آنے پر پرانے قوانین صرف معطل ہوئے لیکن تبدیلی نہیں آئی۔ اسی طرز کا کوئی نیا قانون آجاتا۔ پھر نیوز پیپر کنٹرول آرڈیننس آیا اس کے بعد73 کا آئین آیا تو تقریر و تحریر کی آزادی ہوئی۔ اس کے ساتھ ایک قانون بھی شریک سفر رہا وہ رجسٹریشن آف پرنٹنگ پریس اینڈ پبلیکیشن کا تھا جس میں چھاپا خانے سرٹیفکیٹ کے لئے سخت قوانین بنائے گئے۔ بعد میں ایک قانون بنایا گیا جو جاننے کے حق سے متعلق تھا اور اسی طرح کا ایک قانون معراج خالد کے دور میں آیا جو اطلاعات کے حصول کے متعلق تھا۔ مشرف دور میں ایک آرڈیننس لایا گیا پریس کونسل آف پاکستان 2002 جس میں اخباری تنظیم، صحافی تنظیم، اسمبلی کے نمائندے تھے اس میں پیشہ وارانہ اور اخلاقی معیار برقرار رکھنے کے لئے قوانین وضع کئے گئے جو اب کمزور حیثیت میں ہے جس کا کردار ہمیں ڈان لیکس میں کم ہی نظر آیا۔

اسی کے ساتھ آتی ہے باری آزادی صحافت پر قائد اعظم کیا سمجھتے تھے اس جملے کو سمجھنے کی۔۔۔ قائد اعظم آزادی اظہار کی حمایت کرنے والے پاکستان کے سب سے پہلے وکیل تھے اور وہ آزادی اظہار کے قائل تھے جس کا اندازہ اُن کی 1913 کی تقریر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے امپیریل لیجیسلیٹو کونسل میں Indian extradition bill اورIndian criminal law  پر بھر پور دلائل دیئے اور اظہار کی آزادی کے خلاف ہر عمل کی مخالفت کی۔ قائد اعظم نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت بمبئی کرانیکل کے مدیر مسٹر ہیورمیمن کے خلاف کارروائی کی مذمت کی تھی اور 1919 میں بھی قائد اعظم نے اخبارات کی آزادی کے خلاف قانون پر کونسل کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا جو یقیناً پاکستانی صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب سمجھا جاتا ہے اور ہماری اور صحافتی آزادی کے لئے مضبوط دلیل ہے۔ یہ تو قائد اعظم تھے جب کہ پاکستان بننے کے بعد اخبارات نے مل کر بھی ایک اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کو بند کروا دیا تھا جس نے کشمیر پر ایک خبر شائع کی تھی جس کے بعد مغربی پاکستان کے تمام اخبارات نے اداریہ شائع کیا سوائے روزنامہ امروز کے جس کے مدیر نے ایک دن بعد اداریہ شائع کیا۔ 7 مئی 1949 کو امروز میں وہ اداریہ شائع ہوا جس کے بعد سول اینڈ ملٹری گزٹ پر 2 ماہ کے لئے پابندی لگ گئی۔

آزادی اظہار کے خلاف ہماری حکومتوں نے جو کچھ کیا وہ یقیناً شرمندگی کا سبب ہے اور قائد اعظم کے نظریات اور افکار کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور آزادی اظہار پر جو بھی قدغن لگاتا ہے وہ یقیناً قائداعظم کے نظریات کو نہ سمجھتا ہے نہ جانتا ہے۔ آزادی اظہار کسی بھی قوم کو ترقی کی بنیاد ہے اس لئے صحافتی اداروں پر بری نظر رکھنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

Facebook Comments HS