یادگار فلسفیانہ معاشقے۔ مارٹن ہیڈیگر اور ہینا اہرنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"aasem-bakhshi\"

بات چل رہی تھی وجود اور ہستی کے متعلق ہیڈیگر کے دقیق فلسفے اور اس کے فہم کے سہل طریقے ڈھونڈنے کی اور جا پہنچی ذاتیات تک۔ اورجب بات ہو ہیڈیگر کی ذاتیات کی تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے نازی نظریات اور سیاسی وابستگیوں کا ذکر نہ چھڑے۔ سیاسیات پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں اور فی الوقت ذاتیات کے باب میں اس باکمال خاتون مفکر ہینا اہرنٹ اور ہیڈیگر کے عجیب و غریب معاشقے کا مختصر سا تذکرہ کرتے ہیں۔ لیکن اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ یہ فلسفے کے گرد گھومتی صرف ایک لذیذ عاشقانہ داستان ہی نہیں بلکہ اس میں تاریخ اور انسانی نفسیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی لطف و آگہی کے سامان ہیں۔

1924 یا 1925 میں جب وہ پہلی بار ملے تو پینتیس سالہ ہیڈیگر جرمن یونیورسٹی میں تدریسِ فلسفہ کے افق کا چمکتا ستارہ تھا اور ہینا اس کی انیس سالہ ابھرتی طالبہ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے دروس کے درمیانی وقفوں میں طلباء کے گروہ ایک متجسس دیوانگی کے ساتھ اس کی پیش کی گئی فلسفیانہ گتھیوں کے ان گنت مطلب نکالنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ گمان غالب ہے کہ ان طلباء کے کان بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک یہودی طالبہ کے ان مباحثوں کا حصہ بننے پرضرورکھڑے ہوئے ہوں گے لیکن پھر آخر کاراُس معاشقے کی ابتداء ہوئی جو نہ صرف بعد از جنگِ عظیم دوئم کی نازی تاریخ بلکہ تاریخِ فلسفہ میں بھی ایک مشہور ترین واقعے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 1920 کی دہائی کے نصفِ آخر میں ہیڈیگر کو ایلفریڈ پیٹری سے رشتۂ ازدواج میں بندھے شاید چھ سات سال ہو چکے تھے لیکن وہ اپنی بیوی سے چھپ کر کسی نہ کسی طرح ہینا کے ساتھ بھی تعلق نبھاتا رہا۔ اسی اثناء میں جرمنی کے سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ ہیڈیگر کی ازدواجی مشکلات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا لہٰذا اس نے ہینا کے ساتھ تعلقات منقطع کرتے ہوئے اس کی تدریس اپنے ساتھی فلسفی کارل جیسپرز کے حوالے کردی جس کی زیرِ نگرانی 1928 میں ہینا نے’’ سینٹ آگسٹائن کی فکر میں تصورِ عشق‘‘ کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھا۔ 1929میں ہینا نے جرمن صحافی اور فلسفی گنتھر اینڈرز سے برلن میں شادی کر لی جو 1937 تک چلی جس کے بعد ان میں طلاق ہو گئی۔

\"heidegger-crop\"

اس دوران ایک یہودی ہونے کے باعث ہینا کو جرمن جامعات میں تدریسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے طور پر یہود دشمنی کے موضوعات پر تحقیق کرتی رہی اور پھر آخرکار 1933 میں گسٹاپو کے ہاتھوں گرفتار ہو گئی۔ لیکن خوش قسمتی سے گرفتاری کی یہ مدت قلیل ثابت ہوئی کیوں کہ وہ بالآخر 1933 ہی میں چیکو سلواکیہ اور وہاں سے جینوا نکلنے میں کامیاب ہو گئی جہاں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد وہ پیرس پہنچ گئی۔ 1937 میں اس سے جرمن شہریت چھین لی گئی اور 1940 میں اس نے مشہور مارکسسٹ فلسفی اور جرمن شاعر ہینریخ بلوشر سے شادی کر لی۔ آخرکار جنگ عظیم کے مشکل حالات میں اور اس کے فوراً بعد کی دہائی میں جرمنی، فرانس اور یورپ کی مختلف علاقوں میں ایک بھرپورعلمی زندگی گزارنے کے بعد اس نے آخرکار 1950 میں امریکہ کی مستقل شہریت اختیار کر لی۔ یہاں مختلف جامعات میں تدریس اور تفلسف کے ساتھ اس کے اس علمی کام کا آغاز ہوا جس کے بیان کے لئے ایک علیحدہ مستقل مضمون درکار ہے۔ بہرحال اتنا ذکر کرنا ناگزیر ہے کہ اس کا نادر علمی و فکری کام یہودیت، انسانی حالت، ریاستی تشدد کا فلسفۂ سیاست، فلسفۂ انقلاب، طاقت اور تشدد کی نفسیات، سوانح نگاری اور کئی سلسلۂ دروس پر پھیلا ہوا ہے۔
جنوری 1933 کو ہٹلر نے بطور چانسلر حلف اٹھا لیا اور کچھ ہی ماہ بعد ہیڈیگر کو فریبرگ یونیورسٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا جس کے ایک ہفتہ بعد ہی اس نے نازی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ عین اس وقت جب تقدیر ہینا کے حالات میں نسبتاً ٹھہراؤ لا رہی تھی ہیڈیگر کا ستارہ مشکلات سے دوچار ہونے کے لئے ابتدائی گردشوں میں تھا۔ یونیورسٹی میں ’ضرورت سے زیادہ‘ پرجوش تفلسف اور دوسری طرف نازی پارٹی کے گوئرنگ گروپ کے ساتھ سمبھند ہونے کے باعث وہ جنگ کے دوران مختلف اوقات میں پارٹی کے عتاب کا نشانہ بنتا رہا۔ جرمنی کے جنگ ہارتے ہی اس سے اس کا کتب خانہ تک چھین لیا گیا اوراب وہ اپنے ہی شہر میں ایک ملزم بن کر رہ گیا۔ عین اسی وقت ہینا سماجی تحقیق کےمختلف فورمز پر ریاستی اجتماعیت کے موضوع پر اپنے سلسلۂ دروس سے یورپ اور امریکہ کے سامعین کو حیرانکیے تھی۔ اس کے فلسفو ں کا رخ اب بھی ہیڈیگر سے حاصلکیے انہی ٹیکنالوجی مخالف رومانوی خیالات کی جانب ہی تھا لیکن صرف اتنا تھا کہ اس کا فلسفہ لبرل جمہوریت کی بجائے فاشزم کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ وہ بعد از جنگِ عظیم دوئم کے اس نئے مخصوص فلسفیانہ پس منظر میں اپنا لوہا منوانے کے حتمی مراحل میں تھی۔ ان حالات میں جب ہیڈیگر کو نازی عدالتی تحقیقت کے لئے طلب کیا گیا اور اس نے اپنے پرانے تعلقات کی جانب مدد کے لئے نگاہ دوڑائی تو اس کے سامنے ہربرٹ مارکیوز، سارتر، کارل جاسپرز اور ہینا اہرنٹ وغیرہ ہی کے نام تھے۔ یہاں کارل جاسپرز نے تو اس کی مخالفت کی لیکن ہینا نے اس کا مکمل ساتھ دیا۔

عدالتی تحقیقات کے دوران ہینا نے ہیڈیگر کی حمایت میں جو دفاعی نکات پیشکیے وہ کافی حد تک مضبوط تھے۔ سوال و جواب کے ایک متجسس سلسلے میں اس نے تقریباً غیر شعوری طور پر ہیڈیگر کے ذریعے واقعات کا ایک ایسا سلسلہ بیان کروایا جس سے فاضل عدالت مطمئن ہو سکے۔ اگرچہ ہیڈیگر حقیقت میں نازی جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پر تھا پھر بھی اس کی حمایت میں شاید اتنا کہا جا سکتا تھا کہ ہٹلر سے زیادہ وہ ایک ایسے آدرش کے ساتھ کھڑا تھا جسے بالآخرہٹلر ہی نے بہت ظالمانہ طریقے سے کچل دیا۔ ہیڈیگر کا خیال تھا کہ فاشزم مشینی دور کے خلاف ایک فلسفۂ بغاوت کی عملی جہت ہے لیکن وہ تو جدیدیت کا دیوانہ پن نکلا۔ آخرکار ان دونوں نے ملی بھگت سے جو دلائل پیشکیے وہ ہیڈیگر کے فلسفے کی ایک ایسی جہت تھی جسے فاشزم سے دور اور ہینا کے نظریۂ سیاسی اجتماعیت کے اختلافی نکات کے قریب رکھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی نقادوں کی رائے یہ ہے کہ یہ ہینا ہی کا فلسفہ تھا جسے ہیڈیگر نے اب اس نئے بدلتے ہوئے زمانے میں بڑی خوشی سے اپنا لیا۔

\"ہیڈیگر

ایک دلچسپ ترین بات یہ بھی ہے کہ یہ ہیڈیگر کی بیوی ایلفریڈ ہی تھی جس نے اپنے حاسدانہ جذبات پر قابو پاتے ہوئے بالآخر اسے ہینا سے ملاقات اور مدد لینے کی تجویز دی۔ ہیڈیگر کے لئے ہینا کی محبت پہلے ہی نہایت پیچیدہ تھی جس میں شاید ایک فلسفی استاد کے فلسفوں کی پوجا اورنقالی جیسے عناصر بھی شامل تھے۔ اب دوبارہ ملاقات ہوئی تو دونوں کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ ہینا اس سے کھلم کھلا محبت کی متقاضی تھی جب کہ وہ ایک عملی انسان تھا۔ اس کی سردمہری کے لئے وہ ایلفریڈ کو بھی دوش دیتی تھی، یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ اصل میں ایلفریڈ ہی تھی جس کی وجہ سے ان کا دوبارہ ملنا ممکن ہوا تھا۔ جیسے جیسے ہینا کی شہرت بڑھی اسے احساس ہوا کہ ہیڈیگر شاید اس سے حسد میں مبتلا تھا کیوں کہ اگرچہ ہیڈیگر کی اپنا ماضی تو اس کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ تھا، لیکن ہینا کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ ہیڈیگر کی طرح اس کے سامنے اپنے زمانۂ جنگ اور بعد از جنگ کے فلسفوں کو تطبیق دینے کا مسئلہ درپیش نہ تھا۔ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ ہیڈیگر نے ہینا کی کتابیں پڑھنے سے بھی انکار کر دیا۔ شاید اس کے ذہن میں وہ اب اس کی استاد کہلائے جانے کے لائق تھی۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد ہینا نے اس تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی لیکن اب شاید وہ ٹھوس سے مائع ہو چکا تھا۔

ان کے تعلقات کی مکمل تفصیلات شاید ایک عام قاری تک کبھی نہ پہنچ پاتیں اگر2003 میں ان دونوں کی پچاس سالہ مکمل خط وکتابت کتابی شکل میں سامنے نہ آ جاتی[1]۔ ہم یہاں اپنے قارئین کے لئے ایک اہم اور دلچسپ خط کا ترجمہ پیش کرتے ہیں جو 1950 میں بعد از جنگ ان کی دوبارہ ملاقات کے بعد ہیڈیگر نے ہینا کو لکھا۔

۔
فریبرگ، 19 مارچ، 1950

ہینا،

\"heidegger-and-hannah\"

میرے دل و دماغ پر تمہاری واپسی کا تحفہ اور پچیس سال کی بپتا حاوی رہی، وہ خاکہ جس میں تم سمندر پار ہوتے ہوئے بھی یہیں حال میں میرے قریب موجود تھی، اپنوں کے پاس اور ان تمام چیزوں کے قریب جن سے تم منسلک ہو۔

اگرچہ ماضی کے اُن دنوں کی ہر گذرتی ساعت تمہیں دور، بہت دور شہر کی جانب کھینچتی چلی گئی لیکن تمہارے اندر تمہاری ذات کا سب سے بڑا جزو میرے مزید قریب آتا گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تم نے اپنی نظریں نہیں پھیریں اور فاصلے ہی سے اس قرب میں زندگی کی رمق باقی رکھی۔

وقت بھی اپنے اندر ایک عجیب و غریب پُراسراریت رکھتا ہے، کیسے وہ ایک دم واپس لوٹ آتا ہے اور ہر شے بدل کر رکھ دیتا ہے! ہر چیز کے اندر جیسے ایک جدت سی بھر دیتا ہے۔ ہم کبھی اس کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے، بس اس کے شکرگزار ہی ہو سکتے ہیں کہ وہ ہمیں کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔

میں یہ سب کچھ جانتا تھا جب اس دن 6 فروری کو تمہارے سامنے کھڑا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ ہم دونوں کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے، لیکن میں یہ بھی جانتا تھا کہ محبت یہ تقاضا کرتی ہے تمام بیج بھروسے کی زمین ہی میں بوئے جائیں۔

جب میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میری بیوی کی محبت میرے دل میں اب روشن ہوئی ہے اور ایک بار پھر ہمارے تعلق میں زندگی کی لہر دوڑ گئی ہے، تو میں اس کی وفاداری پر مشکور ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کے ہم دونوں پر بھروسے اور تمہاری محبت کا بھی شکرگزار ہوں۔

جب میں ’’حسن ‘‘ کا ذکر کرتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک طرف تو رلک[2] کا وہ خاکہ ابھرتا ہے جس میں خوبصورتی کرب و دہشت کی ابتداء کے علاوہ کچھ نہیں، اور دوسری طرف ہولڈرلن[3] کا وہ تصور بھی جس میں خوبصورتی دو شدید مخالف انتہاؤں کو ایک جذبے سے بھرپور بندھن میں باندھ سکتی ہے۔ کون ہے جو حسن کے گہرے پانیوں میں غوطہ زن ہو؟ عشاق کے علاوہ کون اس مہم جوئی کی تاب لا سکتا ہے؟

ہینا، تم جب تک یہاں ہو ایلفریڈ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہو۔ خوبصورتی میں جو حصہ ہمارا ہے وہ نہ صرف مزید ہمارا ہو جائے گا بلکہ زیادہ کلی طور پر میرے اور اس سے منسلک بھی ہو جائے گا۔ مجھے اس کی محبت کی ضرورت ہے جس نے نہ صرف ان گذرے سالوں میں سب کچھ خاموشی سے سہا بلکہ اب بھی اپنے اندر اس محبت کو وسعت پذیر رکھے ہوئے ہے۔ مجھے تمہاری محبت کی بھی ضرورت ہےجو پُراسرار طور پر اولین بیج کی صورت ہی اس کی محبت کو اپنی گہرائیوں سے پھوٹنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بالکل اسی طرح، میں اپنے دل میں تمہارے شوہر سے بھی ایک خاموش دوستی کی پرورش کر رہا ہوں، جس نے اُن ایامِ کرب میں تمہارا ساتھ دیا۔

جو شے ہر انسان کے جوہر کو دوسرے سے ممیز کرتی ہے، اور خاص طور پر اس کی یکتا انفرادیت کی حفاظت کرتی ہے وہ اس کا دوسرے کی یکتا انفرادیت کا ٹھوس اعتراف ہے۔ میرے خیال میں ہم انفرادیت وندرت کے خاموش قوانین سے اب تک ناواقف ہیں اور ساتھ ہی ان کے زیرِ اثر رہنے کے لئے ایک غیر متزلزل یقین سے بھی لیس ہیں۔ شاید ہمارا کام یہی ہے کہ ان قوانین پر غور و فکر کریں اور انہیں محبت کی صورت میں متشکل کریں۔ محبت خود محبت ہی کی متلاشی ہے اور یہ اس کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔

پچھلے کئی دنوں سے میں ’’تدبر‘‘[4] کی ایک صاف ستھری جلد تصنیف کرنے میں مشغول ہوں۔ لکھتے لکھتےمجھےوہ باتیں یاد آئیں جو ہم اس سبز وادی اور قلعے کی جانب جاتے راستوں پر کر رہے تھے۔ فہم کی یہ جذباتی اور آج تک نگفتہ کیفیت کتنی خوبصورت ہے جو ایک نہایت تیزی سے تخلیق ہونے والی قربت سے نمودار ہوتی ہے، جو اتنے فاصلے سے ہم تک پہنچنے کے دوران بھی کسی بدی یا ابہام سے ذرا سا بھی منفی تاثر قبول نہیں کرتی۔ کاش ہم اپنے درمیان موجود اس تعارفانہ سی قربت کو کبھی ضائع نہ ہونے دیں، کاش یہ ہماری خواہشات، مایوسیوں اور بے کسی میں ہماری مددگار ہو۔

ہینا، جب شہر اپنی پوری سفاکیت سے تمہیں کاٹنے کو دوڑے تو اُس سرد دوپہر کی لطیف سی ہوا میں پہاڑوں کے اوپر افق تک جاتے ان سرسبز درختوں کے سلسلۂ خطوط کو یاد کر لینا۔
یورپ سے لکھے گئے اُس آخری خط، بیسل والا خط اور پیرس سے براک کی وہ شاندار پینٹنگ بھیجنے کا شکریہ۔ تمام نقوش میں مجھے وہ نورِ چشم ڈیزی کے پھول، سورج مکھی اور نیلا جگ خوبصورت ترین لگے لیکن رنگ تو سارے ہی دلکش تھے۔

ہینا، یہ پہلا اول جلول سا سلام ہے جو میں سمندر پار تمہارے دل کے نام بھیج رہا ہوں، تمہارے مضبوط دل اور اس نظر کے نام جو تم اس جانب پھیرتی ہو۔

مارٹن۔

اپنے شوہر اور رفیق کو میرا سلام دینا۔ ایلفریڈ نے بھی تمہیں سلام کہا ہے۔

حواشی:

[1] Letters, 1925-1975/ Hannah Arendt and Martin Heidegger. Edited by Ursula Ludz. Translated by Andrew Shields. Orlando: Harcourt, Inc., 2004. p. 70.۔
[2]۔ بوہیمین آسٹرین شاعر اور ناول نگار رینر ماریا رلک۔
[3]۔ جرمن شاعر جوہان کرسچن فریڈرک ہولڈرن۔
[4]۔ ہیڈیگر اس وقت 1940 سے 1950 کے درمیان میں دیے گئے دروس کے سلسلے کو کتابی شکل میں مرتب کر رہا تھا جس کا نام ’’اس میں تدبر جو ہے، اور فکر کے بنیادی اصول‘‘ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 77 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *