سیاسی محاذ آرائی: شکاری کون اور نشانہ کس پر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 نواز شریف کے لندن میں موجود رہنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی شرمندگی اور غم و غصہ کے اظہار کے چند گھنٹے بعد ہی مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ایک بار پھر ملک میں موجودہ حکومتی انتظام کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے انگریز کی غلامی سے تو نجات حاصل کرلی لیکن ہمیں اپنوں نے ہی غلام بنا لیا‘۔  ادھر وزیر اعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ان حالات میں یہ جاننا دشوار ہورہا ہے کہ شکاری کون ہے اور نشانہ کسے بنایا جارہا ہے۔

نواز شریف نے طویل خاموشی کے بعد گزشتہ اتوار کو آل پارٹیز کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے دھؤاں دار تقریر کی تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان کی جد و جہد عمران خان کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان عناصر کے خلاف ہے جو انہیں اقتدار تک پہنچانے کا سبب بنے ہیں۔ آج اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے اس مؤقف کو زیادہ واضح اور دو ٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے۔ پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے، آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔ یہ بندہ (عمران خان) تو قصوروار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں۔ اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہو گا‘۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اجلاس میں موجود پارٹی لیڈروں سے سوال کیا کہ ’جس پارلیمنٹ کے آپ رکن ہیں وہ کتنی خود مختار ہے؟ مجھے لوگوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس پارلیمنٹ کو کوئی اور چلا رہا ہے۔ دوسرے لوگ پارلیمنٹ میں آ کر بتاتے ہیں کہ آج ایجنڈا کیا ہو گا۔ یہ بڑی سوچنے والی بات ہے، یہ تو پارلیمنٹ پر سمجھوتا کیا ہوا ہے۔ قوم نے ظلم، زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا تو تبدیلی برسوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی‘۔

ملکی نظام عدل میں سزا پانے والے ایک مفرور سیاسی لیڈر کا یہ لب و لہجہ ، موجودہ نظام اور اسے چلانے والوں کے اختیار کو چیلنج کرنے کے طریقہ سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ لگ بھگ دو سال کی خاموشی کے بعد اچانک نواز شریف نے گفتگو کا اتنا تند و تیز انداز کیوں اختیار کیا ہے۔  دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شہباز کی گرفتاری نواز شریف کی 20 ستمبر والی تقریر کا براہ راست نتیجہ ہے کیونکہ انہوں نے نواز شریف سے راستے علیحدہ کرنے یا ان کے اسٹبلشمنٹ مخالف رویہ کو مسترد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مریم نواز نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں واضح طور سے کہا تھا کہ شہباز شریف کو گرفتار کرکے انہیں نواز شریف کے ساتھ وفادار رہنے کی سزا دی گئی ہے۔

سیاست میں الزام تراشی اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ تقریباً ہر ملک میں ہی دیکھا جاسکتا ہے لیکن پاکستان میں پہلی بار سیاست میں فوج کے کردار کا معاملہ براہ راست سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ نواز شریف بظاہر اس مہم کی قیادت کررہے ہیں۔ انہیں عدالتوں میں اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی وہ اس خوف میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی صاحبزادی پاکستان میں ہی ہیں اور انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم سو چ سمجھ کر اور ہوش و حواس میں فیصلے کرنے کی شہرت رکھنے والے نواز شریف نے ایسے تمام اندیشوں کا حساب لگا کر ہی نیا سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔

یہ مان لینا قرین قیاس نہیں کہ نواز شریف نے دو سال کی خاموشی کے بعد سیاسی طور سے اچانک متحرک ہونے اور خاص طور سے پارلیمنٹ کی خود مختاری اور شہری آزادیوں کو موضوع بنانے سے پہلے تمام حالات کا جائزہ لے کر حتمی رائے قائم نہیں کی ہوگی۔ آج لاہور میں پارٹی اجلاس سے نواز شریف کی تقریر کو گزشتہ ہفتہ عشرہ کے دوران کئے گئے انکشافات اور رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں دیکھنا اہم ہوگا۔ ان میں اہم ترین وقوعہ شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمہ میں شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع سے انکار کردیا تھا جس کے بعد نیب نے عدالت کے احاطہ سے ہی انہیں گرفتار کرلیا۔

شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر ہونے کے علاوہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہیں پارٹی اور ملکی سیاست میں متوازن رویہ رکھنے والا قائد سمجھا جاتا ہے جو اداروں کے ساتھ مل کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ بظاہر ان کی گرفتاری کا سبب اس تاثر کو تقویت دینا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی تحریک کو ہر قیمت پر کچلنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں مزید اہم لیڈروں کی گرفتاریاں کو خارج از امکان نہیں ۔ لیکن کیا اس اقدام سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں گے یا اشتعال میں اضافہ ہوگا؟

اس حوالے سے یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ملک میں احتساب نظام کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کی موجودہ فضا میں نیب کے ہاتھوں سیاسی مخالفین کی گرفتاری سے حکومت مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ سیاسی لیڈروں کی گرفتاریاں معمول کی بات ہے ۔ تاہم احتساب کے ناقص نظام اور مشکوک ادارے کے ذریعے سیاسی قائدین کی گرفتاری سے حکومت کی الجھنوں اور مشکلات میں اضافہ ہوگا۔  کسی تحریک کودبانے کے لئے سیاسی لیڈروں کو اندیشہ نقص امن کے مختلف قوانین کے تحت بھی پکڑا جاسکتا ہے۔ اس طرح حکومت براہ راست سیاسی مقابلہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کرسکتی ہے کہ اسے اپوزیشن سے سیاسی سطح پر کوئی اندیشہ نہیں ۔ لیکن براہ راست حکومتی اختیار اور جواز کو چیلنج کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کو بدعنوانی کے عذر پر قید کرنا انتہائی نامناسب ہے ۔ اس سے حکومت وقت کی الجھنوں میں اضافہ ہوگا۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت اس پہلو پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ اسے تو یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ کرپشن اور احتساب کا نعرہ گزشتہ دو سال میں اس تواتر سے استعمال کیا گیا ہے کہ یہ اپنی معنویت کھو چکا ہے۔

20 ستمبر کو نواز شریف کی تقریر سے پہنچنے والے ’نقصان‘ کو عسکری قیادت سے اپوزیشن لیڈروں کی ملاقاتوں کے انکشافات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام رہی۔ اب نیب کو سیاسی اپوزیشن کی تحریک دبانے کے لئے استعمال کرنا بھی ویسی ہی غلطی ثابت ہوگی۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد نواز شریف کے تازہ خطاب سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اپوزیشن کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے انکشافات کا سلسلہ حکومتی ذرائع نے شروع کیا تھا لیکن جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے آرمی چیف سے منسوب باتیں عام کرکے اس راستہ کو بند کیا۔ سرکاری اور عسکری حلقوں کی جانب سے اس کے بعد چھانے والی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے ۔

اسی لئے نواز شریف نے مولانا حیدری کے اس انٹرویو کا حوالہ دیا اور پوچھا ہے کہ کیا اس کی تردید کی گئی؟ بلکہ ایک قدم آگے بڑھا کر انہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام کا نام لے کر ان پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا۔ نواز شریف نے انکشاف کیا کہ ’ظہیرالاسلام نے کہا تھا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں۔ یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے۔ آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفی نہ دیا تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ استعفی نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو‘۔ اب نواز شریف نہ تو برسر اقتدار ہیں اور نہ ہی پاکستان میں ہیں ۔ اس لئے حکومت اور اس کے سرپرستوں کے پاس انہیں دباؤ میں لانے کے امکانات بہت محدودہیں۔

نواز شریف نے نہ صرف سیاست میں فوج کی مداخلت کو چیلنج کیا ہے بلکہ انہوں نے سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین ، وزیر اعظم کے مشیر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی اربوں کی جائیداد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’گرفتار تو انہیں ہونا چاہئے تھا لیکن پکڑ شہباز شریف کو لیا‘۔ نواز شریف کی گفتگو سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ وہ کسے نشانہ بنانا چاہ رہے ہیں لیکن یہ سمجھنا آسان نہیں کہ ان کے ہاتھوں میں گولہ باری کے لئے توپ کس نے پکڑائی ہے۔ ماضی میں نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ تیز طرار بیانات سے پیدا ہونے والے ماحول میں وہ کون سے ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس نشانہ بازی میں عمران خان اصل نشانہ نہیں ہیں۔ سوال ہے کہ ان کا اصل نشانہ کون ہے اور کیا ان افراد تک بھی یہ پیغام پہنچ چکا ہے؟

موجودہ حالات میں مکتوب الیہ کا پیغام سمجھنا اور اس ٹکراؤ سے بخیریت باہر نکلنا صرف ٹھنڈے دل و دماغ سے مصالحت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اس وقت بھی وہی رویہ اختیار کیا گیا جو 2007 میں پرویز مشرف نے عدلیہ بحالی مہم کے بارے میں اختیار کیا تھا تو تصادم میں افراد کے علاوہ ادارے بھی داؤ پر لگیں گے۔ فی الحال تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج ریمارکس دینے کے جوش میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’ایک مجرم کا بیرون ملک چلے جانا پورے نظام کی تضحیک ہے‘۔ کسی آنے والے مرحلہ پر یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے والا کون تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali