ذیابیطس کے علاج میں اہم پیشرفت، زہرہ پر زندگی کے آثار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سالک انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ٹائپ ون ذیابیطس کے محفوظ اور کامیاب علاج کا ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے سٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انسولین بنانے والے ا۶نسانی لبلبے کے خلیے تیار کیے جو پیوند کاری کے بعد نہ انسانی دفاعی نظام کو متحرک کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے امیونو سپریسنٹ دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔

ٹائپ ون ذیابیطس زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں کی بیماری ہے جس کے لیے ساری زندگی انسولین لینی پڑتی ہے۔ اس تجربے کے بعد ممکن ہو گیا ہے کہ مریضوں کے انسولین پیدا کرنے والے خراب شدہ خلیے لیبارٹری میں تیار کردہ انہی جیسے خلیوں سے تبدیل کر دیے جائیں جو انسانی جسم کی ضرورت کے مطابق انسولین پیدا کرتے رہیں۔ واضح رہے کہ ٹائپ ون ذیابیطس ایک تا عمر بیماری ہے جس میں بعض اوقات خود کار انسولین انجیکٹ کرنے والے جدید آلات سے بھی خون میں شکر کی سطح نارمل رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس مجوزہ پیوندکاری سے آلات اور دواؤں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔

2۔ سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ کائنات میں ہیروں سے بنے ہوئے کھربوں سیارے موجود ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایک معدن سلیکان کاربائیڈ جو کاربن سے بھرے سیاروں میں موجود ہوتا ہے کو انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ میں پانی کے ساتھ ملایا تو یہ معدن ہیرے اور سلیکان میں تبدیل ہو گیا جو اس مفروضے کی تصدیق کرتا ہے۔ زمین پر ہیرے اپنی کمیابی کی وجہ سے بہت قیمتی تصور ہوتے ہیں جبکہ کائنات کے دوسرے سیاروں پر ہیرے عام پتھروں کی طرح موجود ہو سکتے ہیں۔

3۔ سیارہ زہرہ پر زندگی کے لیے ضروری ایک ممکنہ عنصر موجود پایا گیا۔ ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے سیارہ زہرہ کے بادلوں میں فاسفین نامی ایک کمیاب سالمے کی نشاندہی کی ہے۔ زمین پر یہ گیس صرف صنعتی طور پر بنائی جاتی ہے یا ان جراثیم میں بنتی ہے جو آکسیجن کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کئی دہائیوں سے یہ خیال ظاہر کر رہے تھے کہ زہرہ کے بادل کچھ خاص جراثیم کی افزائش کے لیے ضروری ماحول فراہم کر سکتے ہیں جو انتہائی درجہ حرارت اور تیزابیت کو برداشت کر سکتے ہوں۔

فاسفین کی موجودگی ہوا میں زندہ رہنے والی خلائی مخلوق کا اہم سراغ ثابت ہو سکتی ہے۔ جزیرہ ہوائی کی رصد گاہ میں موجود انتہائی حساس جیمز کلرک میکسویل دوربین سے جب زہرہ کے بادلوں میں فاسفین کی موجودگی کا سراغ ملا تو سائنسدان حیران رہ گئے۔ انتہائی حساس آلات سے حساب کرنے کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ زہرہ کے بادلوں میں ہر ایک ارب سالموں میں سے بیس سالمے فاسفین کے ہیں جن کا غیر حیاتی طریقوں سے اتنی بڑی مقدار میں بننا ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ زمینی جراثیم فاسفورس اور ہائیڈروجن کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں ملا کر فاسفین گیس بناتے ہیں۔ زہرہ کے بادلوں میں موجود فاسفین گیس کی مقدار سے سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ اتنی مقدار جراثیم کی صرف دس فیصد کارکردگی سے بن سکتی ہے۔

4۔ ماہرین فلکیات نے پہلی دفعہ ایک نیا سیارہ دریافت کیا ہے جو ایک مردہ ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

ایک درمیانے سائز کا مردہ ستارہ اپنے ایندھن اور بیرونی پرتوں کے ختم ہونے کے بعد ٹھنڈا ہوتے ہوئے زمین کے سائز کے ایک مرکزے میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے سفید بونا کہا جاتا ہے۔ ہمارا سورج بھی اسی طرح جناتی سرخ گولے سے سفید بونے میں تبدیل ہو جائے گا۔ کہکشاں کے 90 فیصد ستاروں کا بھی یہی مقدر ہے۔

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جناتی سرخ گولہ بننے کے مرحلے میں ستارے اپنے نزدیکی سیاروں کو ہڑپ کر لیتے ہیں۔ تاہم زمین سے ساڑھے 81 نوری سالوں کے فاصلے پر موجود کہکشاں میں مردہ ستارے کے گرد چکر لگاتے سیارے کی موجودگی نے یہ مفروضہ غلط ثابت کر دیا ہے۔ ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ یہ سیارہ ستارے کی موت کے دوران نزدیکی مدار میں گردش کرنے لگا تاہم ستارے میں مدغم ہونے سے بچ گیا۔

5۔ ایک نئے ڈیزائن سے شمسی توانائی سے چلنے والے لیزر کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں اور انجینئرز کی لیزر میں نہ ختم ہونے والی دلچسپی کی وجہ اس کا انتہائی جدید آلات اور پیچیدہ ڈیزائن بنانے میں کامیابی سے استعمال ہے۔

لیزر کی تخلیق میں توانائی کے انتہائی زیادہ استعمال نے شمسی توانائی سے بننے والی لیزر کی طرف مائل کیا جنھیں سولر پمپڈ لیزر کہا جاتا ہے۔ تاہم لیزر کی تخلیق کے لیے شمسی توانائی کی بہت زیادہ مقدار ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے۔ اب ٹویوٹا موٹرز اور ٹوکائی یونیورسٹی جاپان کے سائنس دانوں نے ایسا پلینر سولر پمپڈ لیزر تخلیق کیا ہے جس کے لیے شمسی توانائی کو مرکوز کرنے والے پیچیدہ آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •