باجوڑ بار میں محسن داوڑ پر حملے کا افسوسناک واقعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کے تیز رفتار ذرائع ابلاغ میں چند منٹ کی غفلت سے آپ بے خبر قرار پا جاتے ہیں۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا۔ تین اکتوبر کو میں سارا دن عدالتوں میں پیشیوں سے فارغ ہوا اور پھر سیکنڈ شفٹ میں آفس کے جھمیلوں سے چھٹکارا پا کر گھر پہنچا اور اپنا موبائل کھولا تو ہر طرف باجوڑ، باجوڑ سے متعلق پوسٹس سے سامنا ہوا۔ ایک ویڈیو جو کہ باجوڑ نیوز نے آپ لوڈ کیا تھا وہ بھی نظروں سے گزرا بلکہ نظروں میں گھمایا پھرایا گیا، جس میں باجوڑ بار کے اندر غالباً پیپلز لائر فارمز کی نئی منتخب شدہ کابینہ کے حلف برداری کے دوران جس کے مہمان خصوصی محسن داوڑ ہوتے ہیں جو بذات خود ایک وکیل ہیں، جب وہ اپنی تقریر کے لئے اٹھتے ہیں تو اس دوران چند اوباش جوان ایک ادھیڑ عمر کے سفید باریش شخص کی سرکردگی میں وارد ہوتے ہیں اور تقریب میں بیٹھے ہوئے دیگر وکلا جس میں نشت پر خاتون وکیل بھی نظر آ رہی ہیں، دیگر وکلاء پر ہاتھا پائی، مکوں اور کرسیوں سے حملہ آور ہوئے۔

بطور وکیل میں یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ حملہ آور وکیل ہو سکتے ہیں، کیونکہ وکیل دلیل کے لوگ ہوتے ہیں، دلیل کے ذریعے قائل ہوتے ہیں اور دلیل کی وساطت سے اگلے کو سمجھاتے ہیں۔ وکیل عدالت میں بڑے صبروتحمل سے اپنے کیس کو پلیڈ کرتے ہیں اور مخالف یا دوسرے فریق کے وکیل ان کو بڑے سکون سے سنتے ہیں اور جب دوسرے فریق کے وکیل بولنے لگتے ہیں تو پہلے والے وکیل بیٹھ کر ان کو انہماک سے سنتے ہیں۔ اگر دونوں جانب سے کوئی اعتراض یا اختلاف آنا ہو تو وہ بھی عدالت بہت تحمل سے سنتی ہے، اور وکلا ان ریبٹلز کو بھی بڑی دانشمندی سے عدالت کے روبرو پیش کرتے ہیں۔

میں گزشتہ بیس بائیس برس سے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوں اور کراچی ہائی کورٹ میں کراچی بار ایسوسی ایشن اور سندھ بار کونسل کی بنیادی رکن کی حیثیت سے پریکٹس کرتا ہوں، زیادہ تر میری پریکٹس کریمینل سائیڈ پر ہے، اور ان بیس بائیس برس میں میری نظروں کے سامنے ہائی کورٹ اور کراچی بار ایسوسی ایشنز کے نو منتخب ممبران کی تقریب حلف برداری بلکہ حلف برداریاں گزری ہیں اور ہر تقریب حلف برداری میں کوئی نہ کوئی مہمان شریک ہوتا رہا ہے، لیکن کسی باہر سے آئے ہوئے عناصر کی تو دور کی بات اندر کے کسی وکیل نے بھی اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا کہ وہ اس تقریب کو سبوتاژ کرے اور دلیل کے اس پلیٹ فارم کو تذلیل کی بھینٹ چڑھائے۔

بعد میں جب عقدہ کھلا تو پتہ چلا کہ وہ سفید باریش شخص باجوڑ کے جماعت اسلامی کے سابقہ ایم۔ این۔ اے ہارون رشید صاحب ہیں جو دیگر ساتھیوں سمیت بار روم میں داخل ہوتے ہیں اور غلیظ زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھوں، گھونسوں اور کرسیوں کا وہ آزادانہ استعمال کرتے ہیں جو ایک عام آدمی کو بھی زیب نہیں دیتا، کرسی تو تشریف رکھنے کے لئے ہوتی ہے نہ کہ کسی کے سر پر وار کرنے کے لئے پٹخ دیا جائے، ایک صاحب نے براہ راست سٹیج پر بیٹھے ہوئے ایک وکیل صاحب پر کرسی مارنے کی جسارت کی لیکن مدافعت میں وہ ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور ان کو پیچھے دھکیلا گیا۔ اور سیلف ڈیفنس کرتے ہوئے وکیل صاحب کو بھی وہاں موجود دیگر وکلاء نے روکا۔

اب یہ تو وہ منظر تھا جو میرے سمیت لاکھوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ سوشل میڈیا کی توسط سے اپنی اپنی حیثیت یا حصہ بقدر جثہ کے مصداق مذمت بھی کرچکے ہیں، کسی نے بہت مہذب انداز میں تو کسی نے غضبناک اور کربناک اسلوب کا سہارا لیا، کسی نے ایک کو سپوٹ کیا تو کسی نے دوسرے کو ووٹ کیا، کسی نے باجوڑ کا وہ لوک گیت کو دہرایا فرحت پہ تبئی تور د باجوڑ گلونہ تو کسی نے باجوڑ کے لوگوں کو گھر آئے ہوئے مہمان کے ساتھ اس تذلیل پر طعنے دیے اور کسی نے اشعار اور کسی نے شعار میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ متشدد واقعہ اس وقت رونما ہوا جب ایک دن پہلے ساری دنیا میں عدم تشدد کا دن منایا گیا، جس پر ایمل ولی خان کو بھی سوشل میڈیا پر بولنا پڑا کہ ہم دنیا کے سامنے عدم تشدد کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن انہی عناصر کے اس طرح کے دہشت گردانہ عمل سے ہم پر دہشت گردی کا دھبہ لگتا رہتا ہے۔

اب سننے میں آیا ہے کہ ان عناصر کے خلاف 7 اے۔ ٹی۔ اے یعنی دہشت گردی کے تحت پرچہ، ایف۔ آئی۔ آر درج ہوئی ہے۔ یہ بھی میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پڑھا ہے، اب یہ حقیقت ہے یا ہوائی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان پر 7 اے۔ ٹی۔ اے کا پرچہ کٹ سکتا ہے؟ تو اس کا فوری جواب یہ ہے کہ ہاں، کیونکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعات 6 (1) (بی) اور 6 (2) (1) اے۔ ٹی۔ اے 1997 کہتا ہے کہ وکیل پہ حملہ کرنا یا وکیل کو دھمکانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ تو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی بات تھی یہ اپنی جگہ لیکن جب ہم کسی بار کی بات کرتے ہیں تو کسی بار میں بھی جب کسی کو مہمان بلایا جاتا ہے تو یا تو پہلے سارے بار کے ممبران سے ریکویزیشن پر سائن لیا جاتا ہے جو معاہدہ تصور ہوتا ہے اور اگر کوئی ڈس ایگری کرتا ہے تو وہ سائن نہیں کرتا ہے اور یہ عمل ایک سادہ طریقے یا اکثریت سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اور دوسرا شائستہ طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے تقریب یا پروگرام کے خلاف ہے تو وہ بائیکاٹ کریں اور سرے سے شرکت ہی نہ کریں، جیسے کہ ان پروگرام میں دیکھنے کو ملا، ایک طرف اتنی شائستگی کہ ہروگرام میں شامل بھی نہیں رہے اور دوسری جانب پنڈال میں داخل ہو کر چلتے پروگرام کو سبوتاژ کیا گیا اور نو منتخب و دیگر معزز ممبران بار کو زدوکوب کیا اور آئے ہوئے مہمان کی توہین کی گئی۔

اب ہر متعلقہ بار، بنیادی بار یعنی کراچی بار سندھ بار سے متعلقہ کراچی بار کے کسی واقعے پر سندھ بار کونسل یا پھر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی ساتھ ساتھ کوئی بھی عمل اگر غیر قانونی یا غیر اخلاقی ہوا ہو اس کے بارے میں لیگل ایکشن لیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باجوڑ بار کے اس واقعے پر پختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کیا ردعمل اور لیگل ایکشن لیتی ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ایسے واقعات کا قلع قمع کیا جاسکے، کیونکہ اس ملک میں بار اور بینچ ہی دو ایسی جمہوری ادارے رہ گئے ہیں جہاں ہر بات دلیل سے سنی جاتی ہے۔

ملک کے تمام بار کونسلز میں ہر سال باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں اور منتخب کابینہ کے حلف برداری کی تقریبات منعقد کیے جاتے ہیں جس سے اپنے سالانہ کاموں اور ذمہ داریوں کا آغاز کرتے ہیں۔ اور ہر عدالت میں دو فریقین کے تنازعات کو وکلا دلائل کے سہارے حل کرواتے ہیں اگر خدا نخواستہ بار اور بنچ کے اس مہذب اور مؤدب احاطے میں ایسے غیر مہذب اور ناشئستہ حرکات ہونے لگے تو ہھر قانونی اصطلاح اور عدالتی کارروائی کے دوران فریق صرف ایک نہیں ہوتا، فریق دوئم بھی ہوتا ہے۔ فریق اول جو رویہ اختیار کرے گا فریق دوئم بھی اس روش کو اپنائے گا، دلیل کی جگہ کو دلیل کی جگہ رہنے دیا جائے ورنہ جیسے ایک نقطہ محرم کو، محرم سے مجرم بنا دیتا ہے اسی طرح دلیل کو بھی ایک نقطہ سے ذلیل بنانے میں دیر نہیں لگتی۔ خدارا دلالت کو ذلالت سے اور وکالت کو جہالت سے دور رکھا جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •