بوڑھوں کا بر اعظم یورپ اور مسلمان آباد کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فطرت کے تقاضوں کو اگر نظر انداز کیا جائے تو کوئی نہ کوئی پریشانی یا بحران ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یورپ نے عورت کو بے مہار آزادی دی اس کا نتیجہ، آج ساری دنیا کے سامنے ہے کہ وہاں شوہر ملتا ہی نہیں اور ڈیٹنگ کے لئے باری نہیں آتی۔ اسی کا ایک نتیجہ آبادی میں کمی ہے عورت کا بچوں کو جنم نہ دینا ہے کہ اس کا کاروبار نہ رک جائے۔ ماہرین آبادیات اور عمرانیات نے مغرب یعنی یورپ کے حوالے سے تحقیقات کی ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب یورپ پر صرف بوڑھوں کی حکومت ہو گی۔ ہر طرف بوڑھے ہوں گے یا پھر بچے۔ نوجوان بہت کم ہوں گے۔

مغرب کی زوال پذیر شرح پیدائش کی بدولت یورپ کچھ عرصہ بعد بوڑھا بر اعظم کہلائے گا۔ پورے مغرب میں فرٹیلٹی کی شرح یعنی عورت کی پوری زندگی میں بچوں کی پیدائش کی اوسط تعداد 2.1 سے کم ہو گئی ہے، اس شرح میں مزید کمی آبادی میں بہت زیادہ کمی کا سبب ہو گی جس کے کئی منفی نتائج نکلیں گے۔

ماہرین کے مطابق پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا میں مغرب کی آبادی کی شرح کم ہونے سے آبادی کے توازن میں تبدیلی آئے گی۔ مغرب کی آبادی دنیا کی آبادی کی نسبت بہت کم ہو جائے گی۔ 1950 ء کے بعد امریکہ اور کینیڈا کی آبادی کا تناسب، عالمی آبادی کے تناسب 6.8 فی صد سے کم ہو کر 4.7 فی صد ہو گیا ہے۔ یورپ آج عالمی آبادی کے 22 فی صد سے کم ہو کر 10 ٪ سے بھی کم ہو چکا ہے۔ مین پاور نہ ہونے کی وجہ سے مغرب کی معاشی طاقت پر اس کے بہت زیادہ مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

اگرچہ گزشتہ برسوں میں اعلی پیداواری صلاحیت کی بدولت مغرب نے اپنا معاشی تسلط برقرار رکھا، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ باقی دنیا بھی پوری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور پیداواری خلا کو کم کرتی جا رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایک صدی کے چوتھائی حصہ میں چین کی آبادی میں اضافے کی شرح بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے چین کی جی ڈی پی امریکہ کی جی ڈی پی سے چار گنا زیادہ ہو جائے گی۔ ہندوستان بھی اس مقابلے میں پیچھے نہیں رہے گا اور اسے بھی آبادی میں اضافہ چین سے ہم سری کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ آبادی کے اس جھکاؤ کے سیاسی اور جغرافیائی دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

دوسرا، مغربی ممالک مستقل طور پر عمر رسیدہ آبادی اور افرادی قوت کا سامنا کر رہے ہیں۔ پنشن اور صحت کی دیکھ بھال پر خرچ کرنے کے ساتھ جی ڈی پی اور ٹیکس اور محصول کی آمدنی میں تسلسل برقرار نہیں رہے گا۔ اگر عمر رسیدہ آبادی کی ضروریات کی ادائیگی کے لئے بقیہ معاشرے سے ٹیکسوں کے ذریعے دولت کی بہت زیادہ منتقلی ہوتی ہے تو معاشی عدم توازن معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بوڑھوں کی حکومت ہو گی۔ وہی ووٹ بینک ہوں گے اور وہی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس طرح ایک جیرنٹوکریسی قائم ہو جائے گی۔ کیونکہ رائے دہندگان اپنے ہی مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

آخر میں فرٹیلیٹی کی کم شرح مزدور منڈیوں یعنی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نوجوان آبادی میسر نہیں ہو گی۔ اس لئے مغربی ممالک میں بڑے پیمانے پر دوسرے ملکوں سے لوگ آئیں گے جس کے ثقافتی اور سیاسی اثرات ہوں گے۔ یہ غیر ملکی مقامی آبادی میں اگر گھل مل نہیں سکیں گے تو ایک الگ طبقہ پیدا ہو جائے گا جو کہ پھر اپنے مطالبات منوائے گا۔ انہیں اس سلسلے میں ڈر ہے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یورپ میں آئے گی جو کہ ثقافتی طور پر ضم نہیں ہوتے ایک الگ وجود رکھتے ہیں۔

میکارون جیسے مغربی مفکرین کا اندازہ ہے کہ فرانس میں پیدا ہونے والے 25 ٪ بچے پہلی یا دوسری نسل کے مسلمان تارکین وطن سے ہیں۔ جرمنی میں 15 ٪، آسٹریا میں 14 ٪، اور اسپین میں، تقریباً 10 ٪۔

مکارون کا یہ بھی ماننا ہے کہ آبادی میں مسلسل کمی مغرب کو عالمی سطح پر غیر متعلق اور غیر اہم بنا دے گی۔ ابھی تک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بڑھتی آبادی برقرار ہے، لیکن یورپ ”جمود کا شکار“ ہے۔ اسے اپنی تاریخ اور روایات کی وجہ سے ”پرانا بر اعظم“ کہا جاتا تھا۔ ”اب ’بوڑھا بر اعظم‘ کہا جائے گا، کیونکہ وہاں بوڑھے ہی بوڑھے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •