کورونا وائرس: امریکی صدر ٹرمپ کے وبا پر قابو پانے کے دعوے اور حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ٹرمپ

Reuters
امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث دو لاکھ سے زیادہ امریکی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، اس جان لیوا بیماری پر صدر ٹرمپ کا رد عمل آنے والے صدارتی انتخابات میں ایک اہم نکتہ بن گیا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک کے مقابلے میں امریکہ میں اس وبائی مرض سے سب سے زیادہ اموات کے باعث صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انھوں نے وباء پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں اس بارے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔

امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے آخری مراحل میں اب جب کہ صدر ٹرمپ کے بقول وہ اور ان کی اہلیہ ملینا بھی اس بیماری کی لپیٹ میں آ گئے ہیں کورونا وائرس اور اس سے ہونے والے جانی اور معاشی نقصانات پر اور زیادہ شدت سے بات ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اوّل میلانیا میں کورونا وائرس کی تصدیق

کیا امریکی صدر ٹرمپ انتخابات ملتوی کر سکتے ہیں؟

امریکی وسط مدتی انتخابات کے پانچ دلچسپ حقائق

اموات کی شرح ہمارے ملک میں سب سے کم ہے: ٹرمپ

دوسرے ملکوں کا حوالے دیتے ہوئے صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ امریکہ میں کورونا کے باعث شرح اموات قابل قدر حد تک کم ہے۔ دوسرے ممالک سے شرح اموات کا موازانہ اتنا آسان نہیں تھا کیوں کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کا ڈیٹا مختلف طریقہ سے اکھٹا کیا جا رہا تھا۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والے شہریوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھی اور مجموعی طور پر اس مرض سے اموات کی تعداد بھی دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ تھی۔

اگر آپ کسی ملک کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے اموات کی شرح دیکھیں تو امریکہ سر فہرست نہیں تھا گو کہ اس کا شمار کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں ہوتا ہے۔

کووڈ 19 سے مجموعی آبادی کے اعتبار سے اموات کی شرح کن ملکوں میں سب سے زیادہ تھی؟

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یورپ میں مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان کے مریضوں کی تعداد ہمارے ملک میں مریضوں کی تعداد سے کہیں بدترین سطح پر ہے۔‘

یہ درست ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن یہ ہی کچھ امریکہ کی چند ریاستوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

جو بائیڈن

Getty Images
صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو کووڈ 19 کے ٹیسٹ کم کرنے کا کہا تھا: جو بائیڈن

جون میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حاضرین سے کہا تھا کہ ’میں نے اپنے آدمیوں سے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرنے کی رفتار کم کریں۔‘ لیکن اس کے بعد سے وہ اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے وبائی امراض کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر اینتھونی فاوچی نے کہا تھا کہ ان کے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک کو بھی یہ احکامات نہیں دیے گئے ہیں کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کم کیے جائیں۔

تاہم صدر نے ٹیسٹ کرنے کو ایک دو دھاری تلوار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ زیادہ ٹیسٹ کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میں ہائیڈروکسیکلوروکوئن لے رہا ہوں اور میں زندہ ہوں آپ کو کیا نقصان ہو گا’: ٹرمپ

اس سال مئی میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروکسیکلوروکوئن کووڈ سے بچنے کے لیے لے رہے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ یہ دوا وائرس کے خلاف موثر ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ہی مشیر کے مشورے کے برخلاف اس دوا کے استعمال کا مسلسل پرچار کرتے رہے۔ ڈاکٹر فوچی کا جب کہ اس بارے میں کہنا تھا کہ ہر مصدقہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا اس وائرس کے خلاف موثر نہیں ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ہدایت جاری کی تھیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو یہ دوا نہیں دی جانی چاہیے اور یہ دوا بعض مریضوں میں دل کی دھڑکن بے ربط ہونے صحت کے دیگر مسائل سامنے آنے کے بعد دی گئی تھی۔

امریکہ

Getty Images
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (عالمی ادارۂ صحت) کہتا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دوا کووڈ 19 کا شکار ہونے والے مریضوں کے لیے علاج میں یہ کار گر ہو۔

صدر ٹرمپ نے سی ڈی سی کی فنڈنگ بند کرنے کی کوشش کی : بائیڈن

بیماریوں کے انسداد اور ان پر قابو پانے کے مراکز (سی ڈی سی) امریکہ میں وہ ادارے ہیں جو صحت عامہ کے ذمہ دار ہیں۔ ان مراکز اور صدر ٹرمپ کے درمیان کورونا وائرس کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی ہدایات اور دیگر اقدامات پر اختلاف رہا۔

جو بائیڈن جو حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار ہیں انھوں نے یہ تبصرہ جولائی میں ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا تھا لیکن اس بارے میں انھوں نے کوئی سیاق و سباق یا ثبوت فراہم نہیں کیے تھے۔

اس وقت امریکی قانون ساز کورونا وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک امدادی پیکج پر بحث کر رہے تھے اور امریکہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ صدر ٹرمپ سی ڈی سی کی فنڈنگ کم کرنے کے لیے قانون سازوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن وائٹ ہاؤس نے اس خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ جو بائیڈن کی ٹیم جھوٹ بول رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے مزید کہا گیا تھا کہ تازہ ترین بجٹ میں سی ڈی سی کے لیے مختص کی گئی رقم میں آٹھ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ درست ہے کہ سی ڈی سی کو وباء کے دوران زیادہ رقم ملی ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی اکتوبر 2020 سے شروع ہونے والے 2021 کے مالی سال کی بجٹ تجاویز میں ابتدائی طور پر کچھ کٹوتیاں کی گئی تھیں لیکن اب اس میں اضافہ متوقع ہے جس میں وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے رقم شامل ہے۔

امریکہ ریاستیں جہاں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں

یہ درست ہے کہ وبا کے ابتدائی دنوں میں ان ریاستوں میں جہاں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہے جیسا کہ نیو یارک اور نیو جرسی وہ وبا سے بری طرح متاثر ہوئی تھیں اور وہاں اموات کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

لیکن جوں جوں یہ وبا پھیلتی گئی رپیلکن اکثریت والی ریاستیں بھی اس سے متاثر ہونا شروع ہو گئیں اور وہاں بھی اموات میں اضافہ ہونے لگا۔

اموات کی شرح میں رپبلکن اور ڈیموکریٹ ریاستوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 15 ستمبر تک سرخ ریاستوں یعنی رپیبلکن جماعت کے زیر انتظام ریاستوں میں کووڈ کے مریضوں میں اموات کی شرح 47 فیصد تھی اور نیلی ریاستوں میں 53 فیصد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp