نواز شریف کے انکشافات اور تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب نواز شریف ایک ایک لفظ تول تول کر بول رہے ہیں وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو ”مفید“ ثابت کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں اور میزائل بنانے کے لئے ’بیک انجینئرنگ‘ کرنے والے انکشافات کیے جا رہے ہیں

کاپی رائٹ والی ٹیکنالوجی کی ریورس انجینئرنگ کا دعوی کسی بھی وقت پاکستان کو سنگین مشکلات کا شکار کر سکتا ہے یہ جناب نواز شریف کے تازہ انکشافات ہم پر مزید پابندیاں لگانے کے لئے کافی ہے اس بارے روایتی نیم دلانہ سرکاری تردیدوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے جناب نواز شریف کے ان انکشافات کا سلسلہ 1990 میں Rogue Army والے اشتہارات سے شروع ہوا تھا جو وقفے وقفے سے جاری رہا ہے طرفہ تماشا یہ ہے اسی دوران نواز شریف نے دو بار وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

تئیس مئی 2018 کو مسلم لیگ کے حامی روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے اپنے کالم چوپال میں اس کالم نگار نے کچھ سوالات اٹھائے تھے جن کا کوئی جواب متحرک مریم میڈیا سیل یا اس کے دیدہ و نادیدہ کارندوں نہیں دیا تھا اور آج تک چپ کا روزہ نہیں توڑا کہ جناب نواز شریف نے امریکی میزائلوں کی ریورس انجینئرنگ کی پٹاری کھول دی ہے کہ نومبر سر آن کھڑا ہے جس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بے گناہ یا مجرم یا پھر مشکوک فہرست میں رکھنے کا فیصلہ کرنا ہے مودی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ پاکستان کو مجرم قرار دلوا کر کالی فہرست میں ڈلوا دیا جائے اس نازک مرحلے پر جناب نواز شریف نئے اور سنگین الزامات کے کلہاڑے سے پاکستان پر کاری وار کر رہے ہیں

2018 والے تشنہ طلب سوالات من و عن دہرا رہا ہوں ”آخر نواز شریف چاہتے کیا ہیں؟ وہ کن سیاسی اہداف کے حصول کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں وہ پاکستان کو بد امنی اور بے چینی کی نذر کیوں کرنا چاہتے ہیں اور آخر کیوں وہ اپنے متوالوں کو اپنی آخری ”کال“ کا انتظار کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ ان تمام سوالات کا جواب تشنہ طلب تھے کہ پاکستان پر نواز شریف کے حالیہ الزامات کے نئے سلسلے نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہمیں ساری دنیا میں ایک دفعہ پھر پورے زور و شور سے دہشت گردوں کے مددگار طور پر پیش جا رہا ہے ایسے وقت میں جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی deadline ختم ہونے میں صرف چند دن رہ گئے ہیں جس میں بار ثبوت ہماری گردن پر ڈال دیا گیا ہے پاکستان کو ایک دفعہ پھر مشکل سے دوچار کرنے میں نواز شریف نے بڑا اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے خلاف جاری اس گھناؤنے کھیل کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا تھا جب پاک فوج کے خلاف rogue army والے اشتہارات غیرملکی اخبارات میں شائع کروائے گئے اس وقت ایک آدھ ٹٹو تھا اب تو فوج ظفر موج پاک فوج اور ریاست کے خلاف زہر اگل رہی ہے کبھی کشمیر کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد خوبرو امریکی صحافی کم بارکر اپنی کتاب Reshuffle Taliban میں لکھتی ہیں کہ نواز شریف نے نہ صرف اس سے اظہار عشق کیا بلکہ میرا دل جیتنے کے لئے اجمل قصاب کے متعلق تمام معلومات اور اس کے گھر کا مکمل پتہ دیا اور پنجاب پولیس کے مکمل پروٹوکول میں فرید کوٹ کا دورہ کروایا۔ بعد میں نواز شریف نے کہا کہ آپ کو آئی فون تحفہ دینا چاہتا ہوں اس سے ہماری آپس کی بات چیت آئی ایس آئی نہیں سن سکے گی۔ آج تک نواز شریف اس کی کوئی تردید نہیں کرسکے۔ (برادر اسلم خان، کیا آپ کا موقف یہ ہے کہ اجمل قصاب کا تعلق پاکستان سے نہیں تھا؟)

ممبئی حملے کے بعد اس وقت کی جمہوری حکومت نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو کہا کہ آپ باوردی بھارتی وزیراعظم کے سامنے پیش ہوں اور ان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں۔ اس وقت ریٹائرڈ فوجیوں ساتھی محب وطن پاکستانیوں ’ایکس سروس مین سوسائٹی‘ نامی گرامی اخبار نویسوں، سیاستدانوں نے حکومت کو یہ ناروا اقدام واپس لینے پر مجبور کر دیا پھر آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت ادارہ بنانے کی کوشش کی گئی وہ معاملہ بھی نہ چل اور اس کے بعد ہم نے دیکھا میموگیٹ سکینڈل ہو گیا کہا یہ گیا کہ امریکی فوج کو اس وقت کی برسراقتدار قیادت نے غدار وطن حسین حقانی کے ذریعے خط لکھوایا کہ امریکہ آئے اور پاکستانی فوج پر حملہ کردے اور آپ نیوکلیئر صلاحیت پاکستان سے لے لیں یہ آج تک کیس چل رہا ہے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔ اور پھر نواز شریف کی نواسی کی شادی پر مودی را کے چیف اور 123 اہلکاروں سمیت بغیر کسی رسمی ویزے کے پاکستان پہنچ جاتے ہیں یہ وہی مودی تھا جو چند گھنٹے پہلے کابل میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر چکا تھا۔

اس دن قائداعظم کی سالگرہ کا کیک نہیں کاٹا گیا، ان کے مزار پر حاضری نہیں دی گئی بلکہ اس دن بھارتی وزیراعظم کے ساتھ معانقے ہوئے۔ کلبھوشن یادیو پر زبان بند رہی اور اسی انداز میں سجن جندال کی دوستی بھی بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آتی ہے۔ (جس سے لوہے کی کسی کانفرنس میں حسین نواز کی اتفاقی ملاقات ’دیکھتے ہی دیکھتے گہری خاندانی دوستی میں بدل جاتی ہے ) اور پھر جنرل پرویزمشرف این آر او جیسی بھیانک ڈیل کرتے ہیں جس کے تحت چوروں اور ڈاکوؤں کو مکمل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ ایکا کر کے افواج پاکستان، آئی ایس آئی کے خلاف اور ریاست پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کریں جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ حسین حقانی جیسے سفیروں کو امریکہ میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ان کی تمام حرکات کو نظرانداز کیا گیا ہمارے اداروں‘ ہماری ریاست اور ہماری حکومت نے انہیں کھل کھیلنے کی آزادی دی نتیجتاً اًنہوں نے کھل کے وہ کردار ادا کیا کہ جو کوئی دشمن نہ کر پاتا۔

ڈان لیکس پر بھی سخت ترین ایکشن کرنے کی بجائے آپ نے ان مجرموں کو معاف کر دیا پھر اسی صحافی کو خصوصی دعوت پر ملتان بلوایا گیا پھر ایک دفعہ نواز شریف کا یہ انٹرویو پوری دنیا کے اندر چلوایا گیا۔ کڑی سے کڑی ملائیں اور سمجھیں پاکستان کس طرف جا رہا ہے اور پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا مقصد کیا ہے نواز شریف مغربی دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صرف وہی ایک شخص ہیں جو افواج پاکستان کو کمزور کر سکتے ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کر سکتے ہیں کشمیر اور بنیادی معاملات کو پس پشت ڈال سکتے ہیں۔

میں ہی وہ شخص ہوں جو نیوکلیئر پروگرام رول بیک کر سکتا ہوں۔ یہی وہ نواز شریف تھے جن کی حکومت نے کیمیکل ویپن کنونشن پر خاموشی سے ’قومی مفادات کے برعکس‘ اسمبلی کو بالائے طاق رکھ کے معاہدہ کر لیا گیا جو آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔ ہمیں یہ سوچ اور سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ہمارے اداروں اور ہماری ریاست نے کمزوری دکھائی تو کمزوروں پر یہ ظالم دنیا ہمیشہ حملہ کرتی ہے۔ آج افواج پاکستان کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں کبھی کے پی کے سے کبھی بلوچستان سے اور کبھی سندھ سے۔

یہ لمحہ فکریہ ہے وہ لوگ جو پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں آج ان کی کوئی پذیرائی نہیں ہوتی بلکہ وہ لوگ جو پاکستان مخالفت میں نعرے لگاتے ہیں ان لوگوں کی شنوائی ہوتی ہے۔ ان کو ہمارا میڈیا بھی دکھاتا ہے ان کے ساتھ ہمارے ادارے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہمیں دشمن کے عزائم کو سمجھنا چاہیے نواز شریف سے انہوں نے جو حاصل کرنا تھا وہ حاصل کر چکے ہیں وہ ایک چلا ہوا کارتوس ہیں لیکن وسطی شہری پنجاب میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر آخری داؤ کھیلنا چاہتے ہیں

دشمن کے چار بڑے واضح اہداف ہیں وہ (ڈی نیوکلرائیز) کرنا چاہتا ہے، پاکستان میں تمام دینی قوتیں ہمیشہ دائیں بازو کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں آج وہ بکھری ہوئی ہیں۔ دینی مدارس پر پرویز مشرف نے جس انداز میں چھاپے پڑوائے اس طریقے سے دینی قوتوں کو کمزور کیا گیا توہین رسالت کے معاملے پر باقاعدہ گھناونی سازش کی گئی جس کو پاکستان کے عوام نے یکسر مسترد کر دیا۔ ایٹمی پروگرام کے بعد ’سی پیک دشمن کی نگاہ میں خار بن کر کھٹک رہا ہے کیونکہ چین اور اور پاکستان کی ترقی‘ اسرائیل کو ہندوستان کو اور امریکہ کو بالکل گوارا نہیں، اور تین بار وزیراعظم پاکستان رہنے والے نواز شریف اب دشمنوں کے ہاتھ میں شمشیر خارا شگاف ہیں۔ لندن میں بیٹھ کر وہ نہایت منظم انداز میں پاکستانی مفادات پر کاری وار کرتے جا رہے ہیں ہے کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا شاید کوئی بھی نہیں اس بے بس کالم نگار کی بار الہ میں فریاد ہے، یا اللہ پاکستان کی حفاظت فرما، میرے مالک اپنے اور پرائے دشمنوں کے مکر و فریب اور سازشوں کا توڑ فرما۔ اے بار الہ، آپ ہی مکر و فریب کرنے والوں کے مقابل بہتر تدبیر کرنے والے ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •