ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس سے متاثر: امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں لیکن اگلے چند دن ’اصل امتحان‘ ہوں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ڈونلڈ ٹرمپ

Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں لیکن اگلے چند دن ’اصل امتحان‘ ہوں گے۔ سنیچر کی شام ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی یہ ویڈیو صدر ٹرمپ میں کوویڈ 19 کی تشخیص کے بعد ان کی صحت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

سنیچر کی شب صدر ٹرمپ کے ڈاکٹر نے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں اور وائرس کی ’تشخیص کے بعد سے ان کی صحت میں واضح بہتری آئی ہے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ میں جمعے کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور صدر ٹرمپ اپنی دوسری رات ہسپتال میں گزار رہے ہیں۔

امریکی صدر کے معالج ڈاکٹر سین کونلی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی صحت کے بارے میں ’خطرہ ابھی پوری طرح سے ٹلا نہیں لیکن (ڈاکٹروں کی) ٹیم محتاط طور پر پرامید ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اوّل میلانیا میں کورونا وائرس کی تصدیق

ٹرمپ کورونا سے متاثر: امریکی انتخابات کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد ٹرمپ ہسپتال منتقل

اس سے چند گھنٹے قبل جاری ہونے والے چار منٹ کے ویڈیو پیغام میں کالا کوٹ اور بنا ٹائی کے قیمض پہنے صدر ٹرمپ نے والٹر ریڈ ملٹری میڈیکل سنٹر کے ڈاکٹروں اور نرسوں کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ہسپتال وائٹ ہاوس کے قریب ہے اور صدر ٹرمپ یہاں زیر علاج ہیں۔

ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ’جب میں یہاں آیا تھا تو میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن اب میں بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرے خیال میں اصل امتحان آنے والے دنوں میں ہو گا، ہم دیکھتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں میری صحت کے حوالے سے کیا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ انتخابی مہم کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ تین نومبر کے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن صدر ٹرمپ کے مد مقابل ہیں۔

ٹرمپ اور میلانیا

Reuters
جمعے کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے کورونا متاثر ہونے کے اعلان کے بعد ان کی انتخابی مہم اور انتخابات سے قبل ان کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کی کوششوں پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔

ہم صدر ٹرمپ کی صحت کے متعلق کیا جانتے ہیں؟

سنیچر کی صبح صدر ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر کونلی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اب اضافی آکسیجن نہیں لگائی گئی اور انھیں گذشتہ 24 گھنٹوں سے بخار بھی نہیں ہوا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ متوقع طور پر ابھی ’چند دن‘ والٹر ریڈ ہسپتال میں ہی زیر علاج رہیں گے۔

ڈاکٹر کونلی کا کہنا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی صحت کے بارے میں ’محتاط طور پر پر امید ہیں! لیکن وہ ابھی یہ نہیں بتا سکتے کہ صدر ٹرمپ کو ہسپتال سے رخصت کب ملے گی۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف، مارک میڈوز نے صدر ٹرمپ کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ابھی واضح طور پر صحت یابی کی راہ پر نہیں ہیں۔

انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صدر ٹرمپ کی صحت کے متعلق اہم علامات ’نہایت تشویشناک‘ تھے اور اگلے 48 گھنٹے ان کی صحت کے حوالے سے اہم ہیں۔

74 سالہ امریکی صدر ٹرمپ طبی طور پر موٹاپے کا شکار ہیں اور وہ کووڈ 19 کی ہائی رسک کٹیگری میں آتے ہیں۔ ابتک ان کا علاج اینٹی وائرل دوائی ریمڈیسیور اور ایک تجرباتی دوائی سے کیا جا رہا ہے۔

سنیچر کو ہونے والی پریس کانفرس میں ڈاکٹر کونلی نے متعدد بار اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کے کیا صدر ٹرمپ کو آکسیجن پر رکھا گیا تھا؟ ان کا کہنا تھا ’نہ اس وقت اور نہ ہی گذشتہ روز سے جب سے ہم سب ان کے پاس ہیں انھیں آکسیجن نہیں لگائی گئی۔‘

جبکہ اس کے کچھ ہی دیر بعد چند امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ جمعے کو ڈاکٹروں کی جانب سے وائٹ ہاؤس سے ہسپتال منتقل کرنے سے قبل صدر ٹرمپ کو آکسیجن لگائی گئی تھی تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور انھیں اس کی صرورت تھی۔

صدر ٹرمپ کی معالج ٹیم کی جانب سے شام کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کو ریمڈیسیور کی دوسری خوراک دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے دوپہر کا زیادہ تر وقت ’اپنے کام کاج کرتے اور ہپستال کے کمرے میں بنا کسی مشکل کے چہل قدمی کرتے گزارا۔‘

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ، جو خود بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں، کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک ہے اور وہ وائٹ ہاؤس میں ہی قرنطینہ کیے ہوئے ہیں۔

ہوپ ہکس اور ٹرمپ

Getty Images
صدر ٹرمپ کے ارد گرد اور کون کورونا سے متاثر ہوا ہے؟

ڈاکٹر کونلی نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا کہ صدر ٹرمپ کب اور کہاں سے کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

تاہم گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے پرہجوم روز گارڈن والے جلسے میں جہاں انھوں نے ایمی کونی بیرٹ کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کی تھی، اس ضمن میں کافی زیر بحث ہے۔

صدر ٹرمپ اور حاتون اول کے علاوہ چھ اور افراد جنھوں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی، ان میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

سنیچر کو انتخابی مہم کی مشیر اور سابق نیو جرسی گورنر کرس کرسٹی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے قریب دیگر افراد میں ان کی قریبی معاون ہوپ ہکس، انتخابی مہم کے منیجر بل سٹیپین اور سابق وائٹ ہاوس کونسلر کیلین کونوے شامل ہیں۔

جبکہ ریپبلکن کے رہنما مچ میکونل کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی کو 19 اکتوبر تک مؤخر کیا جاتا ہے تاہم جج بیرٹ کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کا جائزہ لینے والی سینیٹ کی کمیٹی برائے عدلیہ کام کرتی رہے گی۔

بعدازاں سنیچر کو سنینٹر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور انھیں ’صدر ٹرمپ کی صحت بہتر لگی اور وہ اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ اب بھی سرکاری ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جبکہ نائب صدر مائیک پینس جنھیں امریکی آئین کے تحت صدر بہت زیادہ بیماری اور ذمہ داریاں نہ نبھانے کے قابل رہنے کے باعث اپنے اختیارات سونپ سکتے ہیں، کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

صدر ٹرمپ کو جمعے کی شام ہسپتال منقتل ہونے سے قبل عوامی سطح پر دیکھا گیا تھا جب انھوں نے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے قبل رپورٹروں کی جانب ہاتھ ہلایا تھا تاہم وہ کچھ بولے نہیں تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ، مائیک پینس

Getty Images
انتخابی مہم کی کیا صورتحال ہے؟

صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’میرے خیال میں، میں جلد ہی صحت یاب ہو کر واپس آؤں گا اور انتخابی مہم کا اختتام اسی طرح کروں گا جس طرح اس کا آغاز کیا گیا تھا۔‘

صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب تک صدر ٹرمپ صحت یاب ہو کر انتخابی مہم میں شامل نہیں ہوتے وہ اسے مکمل طریقے سے آگے بڑھاتے رہیں گے۔

ان کی ٹیم انتخابی مہم میں صدر کے ’متبادل‘ کے طور پر تمام اہم افراد کو انتخابی مہم میں شامل کر رہے ہیں جن میں صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک، نائب صدر مائیک پنس شامل ہیں اور جو فی الوقت اس انتخابی مہم کو آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔

’آپریشن ماگا‘ کے نام سے کہے جانے والی مہم کے حوالے سے انتخابی مہم کے ترجمان نے فوکس نیوز کو بتایا کہ اس سلسلے میں پہلی تقریب پیر کو ایک ورچوئل ریلی کے صورت میں رکھی گئی ہے۔

نائب صدر مائیک پینس جن کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے، بدھ کو ڈیموکریٹک نائب صدر کی امیدوار کامالا ہیرس سے مباحثہ کریں گے۔

تاہم ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے سنیچر کو ایک ورچوئل تقریب سے خطاب بھی کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15969 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp