کب کے گئے اب لوٹے ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ ایسا کوئی کام کر رہے ہوں یا آپ کا کوئی ایسا کام چل رہا ہو جو مایہ میں ڈھلتا ہو تو آپ کو ضرورت پڑنے پر کم مائیگی پریشان تو کر سکتی ہے مگر بصورت دیگر یہ بہت کھلتی ہے۔ ایسے میں آپ ہر ایک سے چاہے وہ کروڑوں کمانے کا دعوی کرنے والا آپ کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو، آپ کچھ نہیں کہہ سکتے، کم از کم میں تو نہیں کہہ سکا البتہ ایسے دوستوں پر مان ہوتا ہے جو آپ کی نگاہ میں باثروت ہوں۔

میں نے اس بار نہ چاہتے ہوئے نجانے کیوں چند ماہ پیشتر ایک دوست کا فون سنتے کے دوران اسے ایسے ہی کہہ دیا کہ میرا دوست بھتیجا اچانک فوت ہو چکا ہے اس لیے اب تم جیسے دوستوں کو مجھے واپسی کا ٹکٹ لے کے دینا ہوگا۔ بولا کوئی بات نہیں دیکھیں گے۔ میں فون بند کرنے کے بعد مسکرا دیا کہ بس اس کی سوچ سے کھلواڑ کیا ہے۔

کوئی دو ماہ پہلے ایسے ہی فون کیا تو چھوٹتے ہی بولا کہ یار میرا بیٹا نہیں مانتا۔ میں اپنا کہا بھول چکا تھا اس لیے پوچھا کہ کیا نہیں مانتا تو بولا کہ وہ کہتا ہے اس بار کورونا کی وجہ سے بہت نقصان ہوا ہے ہم انکل کو ٹکٹ خرید کے نہیں دے سکتے۔ میں خجل، کہا کہ مذاق کیا تھا۔ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ بندوق بیٹے کے کندھے پر رکھ کے نہیں چلانی چاہیے۔

میں 2016 سے کام نہیں کر رہا اس لیے پاکستان آتے جاتے ذرا فکر کرنا ہوتی ہے کہ کم سے کم قیمت کا ٹکٹ خریدا جائے جو عام طور پر ازبکستان ایر لائن کا ہوتا ہے۔ چونکہ کورونا کی عالمی وبا کے بعد پہلے تو ملکوں نے ہوائی کمپنیوں کو بتدریج اجازت دی، دوسرے ایس او پیز پر عمل کرنے کو کہا تیسرے چار ماہ سے مجبوری کے سبب پہلے سے واپسی کے ٹکٹ یا دوطرفہ ٹکٹ والوں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب ہوائی جہازوں کے ٹکٹ قریب قریب دوگنی قیمت کے ہو گئے۔

ازبکستان ایر لائن کے تو دفتر تک بند رہے۔ فلائی دبئی نام کی کمپنی کے ٹکٹ نسبتاً سستے تھے۔ یہ سہولت بھی پیش نظر رہی کہ جہاں میں مہینوں سے مقیم ہوں وہاں سے کسی دوست کی کار میں یا رینٹ اے کار والوں کی گاڑی میں سیدھا ملتان سے ہی پرواز کر لی جائے گی لاہور کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ نہیں لینی پڑے گی یوں کورونا سے بچا جا سکے گا۔ دوسری قباحت کووڈ ٹیسٹ کی لازمی ضرورت تھی۔ پھر سستے ٹکٹ قابل واپسی نہیں ہوتے، خدانخواستہ کووڈ ڈیٹکٹ ہو گیا تو یا پیسے گئے یا خوار ہونے کے بعد مل سکیں گے۔ اس فلائی دبئی نے بھی تنگ کیا۔ کسی دیانت دار اہلکار نے بتا ہی دیا کہ جی ہم صرف ٹکٹ بیچ رہے ہیں، دبئی سے آگے کا معاملہ گڑ بڑ ہو سکتا ہے۔

معلوم ہوا کہ 25 ستمبر سے پیگاسس ایرلائن کراچی سے اپنی پروازیں شروع کر رہی ہے۔ اس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ یہ کم قیمت ایر لائن ہے اور ماسکو بھی جاتی ہے۔ آن لائن دیکھا تو اس کی قیمت 36000 لکھی تھی۔ ترکش ایر لائن کا ماسکو تک یک طرفہ ٹکٹ 78000 کا جبکہ پرواز کا دورانیہ ساڑھے سولہ سے 22 گھنٹے تک۔ اتحاد اور امارات کا اسی سفر کا دورانیہ ساڑھے بارہ گھنٹے کا مگر قیمت 85000 یا زیادہ۔ قطر ایر لائن ان سے بھی مہنگے ٹکٹ والی۔

لاہور سے انٹرنیٹ میں مہارت رکھنے والے دوست نے تفصیل سے بتایا کہ کمترین قیمت والے ٹکٹ میں سامان صرف 8 کلو گرام لے جایا جا سکتا ہے۔ 39800 والے میں 20 کلو گرام۔ 44500 والے میں وزن بیس کلو اور سنیکس۔ اور سب سے زیادہ والا ٹکٹ واپس کیا جانا اور تاریخ تبدیل کرائے جانے لائق بھی ہوگا۔ بہتر ہے یہی لیا جائے تاکہ کووڈ پازیٹیو ہونے کی صورت میں پیسے ضائع نہ ہوں۔

علی پور سے جو بس کراچی جاتی ہے وہ دس سے گیارہ گھنٹوں میں پہنچتی ہے۔ سفر کسی بھی ذریعے سے ہو اگر رات کا ہو تو مجھے نیند نہیں آتی۔ علی پور سے ایک بہت اچھی بس لاہور کے لیے شروع ہوئی تھی جو ساڑھے پانچ گھنٹے میں پہنچا دیتی ہے مگر وہ بھی رات کو تھی۔ یہ تو طے کر لیا کہ ٹکٹ پیگاسس کی ہی لینی ہے۔ اس اثناء میں معلوم ہوا کہ اب وہی بس صبح ساڑھے آٹھ بجے جانے لگی ہے۔ سوچا چلو لاہور چلتے ہیں۔ تین روز روز رہوں گا۔ ٹیسٹ کروا کے رپورٹ لیتے ہیں فضائی سفر سے کراچی پہنچوں گا۔ چند گھنٹے چھوٹے بھائی کی تیمار داری کے لیے جاؤں گا جو مریض ہے اور رات دو بجے استنبول کے راستے ماسکو کی پرواز کے لیے ہوائی اڈے پہنچ جاؤں گا۔

پی آئی کی ٹکٹ جو چار روز پہلے ساڑھے آٹھ کی تھی وہ ساڑھے بارہ کی ہو گئی۔ لاہور تک بس کا سفر پانچ گھنٹے۔ کسی دوست کے گھر تک پہنچنے پھر وہاں سے ڈیڑھ دو گھنٹہ پہلے ہوائی اڈے پہنچنے کو سفر، پھر کراچی سے گھر تک اور پھر ہوائی اڈے تک، ویسے ہی دس گیارہ گھنٹے لگیں گے چنانچہ براہ راست کراچی جایا جائے۔

جمعہ کی شام سوار ہو کے ہفتہ کی صبح پہنچا۔ مل ملا کے، ناشتہ کرکے، اے سی آن کرکے گھنٹہ ڈیڑھ سو لیا۔ جاگا تو بھتیجے سے مدعا بیان کیا۔ اس نے کہا کس چکر میں پڑے ہیں، پیگاسس کا دفتر تک نہیں۔ سامان کے وزن کا جھگڑا الگ۔ کم قیمت جہاز میں کھانا تک میسر نہیں ہوتا۔ سیدھا سادہ ٹکٹ لیں۔ میں نے کہا چلو ترکش ائر لائن کے دفتر۔ نزدیک ہی تھا، کار پہ چلے گئے وہ بند تھا۔ بھتیجے نے کہا کہ مجھے معلوم تھا بند ہوگا لیکن میں اس لیے آپ کو آپ کی تسلی کو لے آیا۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے پاس گئے۔ اس نے سستا ٹکٹ ساٹھ ہزار سے اوپر کا بتایا۔

اگلے روز اتوار تھا۔ میں نے بھتیجی سے کہا کہ وہ آن لائن پیگاسس کا ہی 20 کلوگرام والا ٹکٹ اپنے بینک کارڈ سے لے لے۔ میں کیش دے دوں گا۔ اس نے کہا وہ دفتر جا کے لے لے گی۔ دفتر سے اس نے نہ صرف اپنے بلکہ اپنی ڈاکٹر بہن کے کارڈ سے بھی لینا چاہا مگر مذکور ایر لائن نے پاکستان سے جاری شدہ کارڈ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں ایک روز ضائع ہو گیا۔ لاہور دوست کو کہا۔ اس کے کارڈ کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا۔ رات کو بھتیجی اپنے لیپ ٹاپ پہ کام کر رہی تھی کہ میں نے اسے کہا کہ بالواسطہ آن لائن ٹکٹ لے۔

یوں مجھے 41000 میں ٹکٹ مل گیا۔ 20 کلوگرام کے ساتھ 8 کلوگرام کیبن بیگیج بھی مگر دینا سامان کے ساتھ ہی ہوگا کیونکہ کورونا کی وجہ سے جہاز میں کچھ بھی لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ میں نے وزن کم کرنے کو بڑا اٹیچی کیس چھوڑا۔ جیکٹ چھوڑی۔ دو شلوار قمیض چھوڑے۔ بیک پیک بھی پچکا کے سوٹ کیس میں رکھا۔ کسی کے لیے کچھ نہ خریدا تاحتی بچوں کے لیے مٹھائی تک نہ لی۔

رات دو بجے ایر پورٹ پہنچنا تھا۔ جب پہنچا تو دیکھا کہ طالبعلم دکھائی دینے والی لڑکیاں بھاری بھر کم سوٹ کیس لیے اور بیک پیکس کے ساتھ موجود ہیں۔ جب میں بورڈنک کارڈ لے رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ لوگ ہینڈ بیگیج لیے بورڈنگ کارڈ لے کے نکلے بلکہ ایک کا تو سامان 22 جمع 11 کلوگرام تھا جسے کچھ نہ کہا گیا۔ میں نے کہا کہ مروا دیا بھائی، نیٹ پر درست معلومات ہی دے دی ہوتیں۔ ڈیپارچر لاؤنج میں مٹھائی کی دکان بند تھی۔

جہاز میں بمشکل تیس چالیس افراد تھے۔ مجھے پہلی قطار میں جگہ ملی مگر میں پیچھے خالی نشستوں پر ٹانگیں پھیلا کے بیٹھ گیا۔ نشستیں فکسڈ جن کی پشت ایڑی ہوئی تھی۔ کھانے پینے کی ٹرالی آئی تو صرف کریڈٹ کارڈ کا تقاضا۔ کورونا کی وجہ سے کیش لینا بند کر دیا گیا ہے۔ شکر ہے میں نے لاؤنج میں چپس کھا لیے تھے۔ کراچی سے استنبول تک چھ گھنٹے کی پرواز، بھوک تو لگنی تھی۔ میں مناسب کھڑکی کی تلاش میں تاکہ جہاز سے کچھ تصاویر لی جا سکیں ایک جگہ بیٹھا تو عقبی نشست پر بیٹھے نوجوان سے بات ہوئی، اس نے مجھے کچھ بسکٹ دے دیے۔ جب میں نے سٹیوارڈ سے گلہ کیا کہ عجیب بات ہے، کریڈٹ کارڈ سب کے پاس نہیں ہوتے مگر بھوک پیاس سبھی کو لگتی ہے تو اس نے پوچھا آپ کو کیا چاہیے؟ ویسے ہی کہہ دیا کہ کافی تو اس نے دودھ نما کافی لا کے دے دی۔ کچھ تو نیم گرم پینے کو ملا۔

استنبول کے فوڈ کورٹ میں ایک ڈونر شاپ پہ پہنچا جس کے سامبے کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہاں کھڑے وجیہہ شخص نے میرے سامنے ایک پکچر کارڈ کر دیا۔ قاب میں گوشت کی تصویر تھی۔ پوچھا کتنے میں۔ کہنے لگا چالیس۔ ہیں چالیس ڈالر میں چلایا۔ ارے نہیں لیرا۔ تو ڈالر میں بتاؤ نا۔ حساب لگا کے بولا سمال 6، میڈیم 7، لاری 8۔ بھائی یہ سمال، لاری ہوتے کس سائز کے ہیں، دکھا ہی تو کہنے لگا بس آپ کے لیے میڈیم درست رہے گا۔ دے دو میاں۔

پوچھا پینے کو کیا لیں گے، کولا فانٹا آئران؟ آئران دے دو، میں بولا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ لسی ہوتی ہے۔ ٹھیک ہوئے ساڑھے سات۔ بھائی فرنچ فرائز بھی کر دو۔ بہتر تو ہوئے آٹھ۔ یہ لو بھائی۔ آپ کا نام کیا ہے، اس نے پوچھا۔ کہا نام تو مجاہد ہے مگر مرزا بول لو۔ میں مرزا کہوں گا، آپ تشریف رکھیں۔ کوئی چھ سات منٹ بعد زور سے مرزا پکارا۔ گیا تو ایک بڑی سی قاب گائے کے گوشت کی کترنوں سے بھری ہوئی جس پر کیچپ ڈالا ہوا۔ کھانے کی اتنی مقدار دیکھتے ہی گھبرا گیا اور کہا میں اتنا کیسے کھا سکتا ہوں؟ گویا ہوا، گود یعنی good، کھا لیں گے۔ نہ کھا سکے تو مسئلہ نہیں ہوگا ہم پیک کر دیں گے۔

اب اگلے جہاز میں سوار ہونے کو گیا تو روسی مردوں اور عورتوں کا ہجوم۔ ایس او پیز دھرے کے دھرے۔ خیر سوار ہو گئے۔ میری نشست کے ادھر بیٹھی خاتون نے ماسک ناک تلے رکھا ہوا۔ اس نشست کے پیچھے کھڑکی کے نزدیک بیٹھی عورت کا ماسک گلے میں، درمیان والی عورت نے باقاعدہ اوڑھا ہوا اور اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی کے پاس ماسک تھا ہی نہیں۔ میں نے ایر ہوسٹس سے کہا کہ انہیں ماسک پہننے کو کہیں۔ اس نے کہا اچھا اور پھر بھول گئی۔ میں نے اس خاتون سے خود کہا تو اس نے منٹ بھر کے لیے ماسک ناک پہ کیا اور میرے نظر پھیرتے ہی پھر جیسی تھی۔ میں نے گھنٹے بھر بعد جا کے عملے سے کہا کہ مجھے شکایت بک دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم بار بار کہتے ہیں مگر لوگ نہیں سنتے۔ کیا کریں؟

ماسکو پہنچ گیا۔ مقامی sim لگائی تو بیلنس ندارد۔ اب ٹیکسی بھی نہیں منگائی جا سکتی۔ اٹیچی، بریف کیس کھینچتا۔ ایروایکسپریس کے ٹکٹ آفس تک پہنچا تو میرا سوشل کارڈ کام نہ کرے۔ خاتون نے پوچھا کہ پینشن بک لیٹ ہے۔ اتفاق سے تھی۔ اس نے مہربانی کی اور 800 روبل یعنی 2000 روپے کے مساوی کا ٹکٹ بلا معاوضہ دے دیا۔ لیکن زیرزمین گاڑی کے لیے پیسے دینے ہی پڑے، پھر زیر زمین ریل گاڑیاں بدلتا اور سامان سنبھالتا، کھینچتا گھر پہنچا۔ رسمین نے دروازہ کھولا، بڑھ کے ملنا چاہا کہ میں نے روک دیا کہ پہلے ہاتھ دھو لینے اور کپڑے بدل لینے دو۔ وہ بہت خوش تھی۔ چھوٹا عافین شرماتا اور مجھ سے چھپنے کی کوشش کرتا رہا۔ بیٹا تمجید باہر سے آیا تو نعرہ لگا کے ملا۔

6 ماہ 13 روز گھر سے قدم نکالے بن یک لخت بس، جہاز اور ٹرینوں میں موجود لوگوں بیچ۔ آج نیا سوشل کارڈ بنوانے جانا پڑا اور بنک کارڈ نیا بنوانے بھی۔ دفاتر میں ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے لیکن زیرزمین ریل گاڑیوں میں باوجود بار بار اس اعلان کے کہ ٹرین میں صرف ماسک اور دستانوں کے ساتھ، صرف دس فیصد کے ماسک تھے اور ان میں سے بھی نوے فیصد نے تھوڑیوں پر اڑسے ہوئے تھے۔ دستانے تو مجھ سمیت کسی کے پاس نہ تھے۔ جس دفتر میں کام کے لیے گیا وہاں کاونٹر پر موجود خاتون نے پوچھا آپ کے پاس دستانے ہیں۔

نفی میں جواب ملنے پر مجھے ڈسپوزیبل دستانے دے کے کہا پہن لیں اور یہ کوپن آپ کا نمبر 60 ہے۔ دستانے والے ہاتھ سے دستخط درست نہ ہوتے تھے۔ شیشے کے پیچھے اہلکارہ سے پوچھا، دستانہ اتار دوں تو بولی انگلیوں کے پاس سے پھاڑ دو۔ عجب، خیر ویسے کیا۔ دستخط کرکے رسید لے کے دستانے پھاڑ پھینکے اور گھر کو روانہ ہو گیا۔ جہاں لوگ وہاں ماسک جہاں خالی وہاں ماسک اتار کے گھر پہنچا تو بہت تھک چکا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •