مرد کے لئے عورت اور گھوڑی ایک برابر…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 39
  •  

\"mehwish\"سنگ مر مر کی اس قسط میں گلستان خان نے ایک ڈائلاگ ایسا کہا جس سے میری روح تلملا اٹھی۔ فرماتے ہیں، ’عورت اور گھوڑی اگر ایک آواز میں نہ آئے تو سمجھ جاؤ کہ اس کے مالک میں مسئلہ ہے۔‘

یعنی عورت اور ایک جانور میں کوئی فرق نہیں۔

کاش میں کہہ سکتی کہ یہ غصہ مجھے لکھنے والے پہ ہے۔ مگر دراصل یہ غصہ مجھے اس سوچ پہ ہے جس کی عکاسی اس ڈرامے میں کی گئی ہے۔

گلستان خان جیسے مرد اس ملک میں بہت ہیں۔ ہم اس کردار میں ان مرد حضرات کو بھی دیکھتے ہیں جو اپنی بیوی اور اپنی بہنوں کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں لیکن اپنی بیٹی کی بدتمیزی برداشت کرتے ہیں اور اس کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں کہ وہ دوسروں سے جیسا دل چاہے ویسا برتاؤ کرے۔ اس سے رشتوں میں تناؤ ہی پیدا ہو سکتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے عورت عورت کی دشمن ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ دشمنی کا سبب کہاں سے آیا۔ آخر اس کو اس پٹی داری کی کیا سوجھی ؟

اگلی قسط کی جھلک میں ہم نے دیکھا ہے کہ دو مرد کردار خواتین کو مار رہے ہیں اور تشدد کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس تشدد کا جواز پیش کیا جائے گا یا مرد کو مظلوم دکھایا جائے گا کہ اسکے پاس ہاتھ اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا؟ جناب بات اتنی سی ہے کہ ہاتھ اٹھانے والا مرد بہانے سے ہی ہاتھ اٹھا سکتا ہے – اور کمزور پہ ہاتھ اٹھانے والے کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوتا۔

فی الحال مجھے اس ڈرامے کے کردار اور اسکی لکھائی کافی پسند ہے مگر اگلی اقساط اگر خواتین پہ تشدد کے جواز پیش کریں گی تو مجھے بہت مایوسی ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 39
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “مرد کے لئے عورت اور گھوڑی ایک برابر…

  • 03/12/2016 at 6:24 am
    Permalink

    yeh aik kahawat hei or sach bhi hei key gar ghore or aurat aik awaz per na ayie tu phir awaz marne wale ko masla hei ?

  • 04/12/2016 at 3:41 pm
    Permalink

    aap itna pareshan na hon last episode me sab talaafiyan ho jaengi aur ye mard aurato k paaon me honge..
    ..Wese thora tabsiraa bechare mard Tora khan pe b ho jata tou balance ho jata..

Comments are closed.