تلوار، شمشیر، اعلان حق اور خون ناحق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"syrian-girl\"مسلمان کی تلوار اور کافر کی شمشیر میں کیا فرق ہے؟ یہ سوال کسی سیاق و سباق کے بغیر فیس بک پر لکھا تو بہت جواب ملے جن میں سے کچھ پیشِ خدمت ہیں۔ جذبۂ ایمانی، وہی فرق جو کافر اور مسلمان کا ہے، منٹو اور نسیم حجازی میں جتنا فرق ہے۔ کسی نے کہا کوئی فرق نہیں جی دونوں گردن کاٹتی ہیں۔  کسی نے کہا، کیا فرق ہونا ہے جی۔۔۔ دونوں کو لوہار ہی بناتا ہے۔ کچھ کو علامہ اقبال یاد آ گئے کہ مومن تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی نیز یہ کہ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی۔ کسی دل جلے نے لکھا کہ کافر کی تلوار دشمنوں پہ چلتی ہے، مسلمان کا یہ کمال ہے کہ اس کی تلوار مسلمان پہ بھی چلتی ہے۔

یہ سوال مجھ سے میرے بھائی نے پوچھا تھا جب وہ اسلامیات کی کتاب کھولے بیٹھا تھا۔ کچھ دیر میں اسے دیکھتی رہی، پھر کہا کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر خیال آیا تلوار ہی کیوں؟ بندوق کیوں نہ ہو، فرق کیا ہے؟ کسی نظریے کو درست مانتے ہیں اس کی ترویج کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں۔ کوئی خواب دیکھا ہے، اسے پورا کرنے کی خاطر بندوق اٹھا لی۔ کسی عقیدے کے پیروکار ہیں تو اپنے عقائد کی روشنی میں اٹھی تلوار یا بندوق چاہے جس جانب سے بھی ہو، حق پہ ہی ہو گی، مگر ہوتا کیا ہے؟ کچھ خواب ٹوٹ جاتے ہیں، گود اجڑ جاتی ہے، آنگن سونا ہو جاتا ہے، سہاگ لٹ جاتا ہے ، گھر میں سب سے زیادہ ستانے والا مگر سب سے اچھا دوست جسے بھائی کہیں وہ لاکھ پکارنے پہ بھی آنکھ نہیں کھولتا۔ چادروں میں لپٹی عورتیں بےردا لاشوں کی صورت ہسپتال میں پڑی ملتی ہیں تو کبھی سرحد کے دونوں جانب آرزو کی موت ہوتی ہے۔ آنکھیں خواب دیکھتی اچھی لگتی ہیں مگر اکثر اوقات ایک انسان یا ایک رشتے کا یوں کھو جانا آرزو کی موت کا سامان بنتا ہے۔ ہتھیار کوئی سا بھی ہو ، بہرحال ہتھیار ہی ہوتا ہے۔ گولی کوئی بھی ہو اسے خبر نہیں کہ وہ کیسے عالم، کیسے پڑھے لکھے کو پلک جھپکتے میں ختم کر دے گی، دانش ساری دھری کی دھری رہ جائے گی، علم اپنی بےسرو سامانی پہ حیران ہو گا اور پاس بہتا لہو انسانی جان کی ارزانی پہ شرمندہ یا شاید افسردہ۔ لیکن یہ سب تھی میری خرافاتی سوچ، سو میں نے منافقت کے اعلی ترین درجے پہ پہنچ کر اپنے بھائی سے کہا، تم نے امتحان پاس کرنا ہے، سو وہی لکھو جو کتاب کہتی ہے۔ کتاب کہتی ہے کہ مسلمان کی تلوار ہمیشہ حق کے لئے اٹھتی ہے۔۔۔  اور پھر میں کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گئی کیونکہ یہ کہنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ آخر کسی روز تو نصاب بدلے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *