میں پاگل نہیں ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسلادھار بارش کے ساتھ زویا کی آنکھیں پورے آب و تاب سے بہہ رہی تھیں۔ وہ اپنے ہوش میں نا تھی، آوارہ بارش کا تھپڑ گال پر پڑا تو خیال آیا، وہ چھت سے کپڑے اتارنے آئی تھی۔ تیز دھرکتے دل کے ساتھ ساکن جسم کو جھنجوڑ کر کپڑوں کو رسی سے اتارنے بھاگی۔ وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی کوئی دیکھ کر بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اسے بارش نے بھگویا ہے یا آنکھ کے آبشار نے۔ تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرے میں ایک طرف کپڑے پھیلا دیے اور پلنگ پر جا لیٹی۔ منہ تکیے میں ڈالے ماضی کے اوراق پلٹنے لگی۔

”کب سے کال کر رہا ہوں کہاں ہو تم؟“
”مانی بتایا تو تھا آپ کو۔ امی کے ساتھ اسپتال جانا تھا، اس لیے کال نہیں اٹھا سکی۔ ابھی واپس آئی ہوں اور آتے ہی آپ کو کال کی۔“ زویا اپنی تفصیل یوں بیان کر رہی تھی جیسے بے گناہ کو بغیر صفائی سنائے سزا دے دی جائے گی
”اوکے بابا میں بھول گیا تھا، اب تم اتنی تمہید تو نہ باندھو۔ چلو جلدی سے ہنس دو شاباش۔“
”ہاہاہا! آپ بھی نا مانی، مجھے ڈرا ہی دیتے ہیں، اک پل کو لگا آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں۔“ زویا نے بلاوجہ ہنستے ہوئے ہمیشہ کی طرح مانی کی یہ خواہش بھی پوری کردی۔
”چپ پاگل میں تم پر کبھی شک نہیں کر سکتا، خود سے زیادہ تم پر بھروسا ہے۔“

مانی کا ایسا اعتماد دیکھ کر، زویا تو ہواؤں میں اڑنے لگتی تھی، کئی گھنٹے باتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور وقت کا پتا ہی نا چلا، کب دوپہر شام میں ڈھل گئی۔
”اچھا سنو جان! پھر بات کروں گا، امی کی کال آ رہی ہے۔“
یہ کہہ کر مانی نے باتوں کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ لیکن زویا ابھی بھی مانی کی شوخ باتوں کی گرفت سے نکل نہ سکی تھی، نکلتی بھی کیسے وہ اپنی روح تک مانی کے حوالے کر چکی تھی۔

مانی اور زویا دو جسم ایک جان تھے۔ ایک کو درد ہوتا، دوسرا اپنے آپ تڑپ اٹھتا۔ نہ کبھی دیکھا نہ کبھی ملے۔ یہ رشتہ اندھی محبت کی پٹی باندھے چلا جا رہا تھا۔ وہ ایک دوجے کے لیے کھلی کتاب تھے۔ ایک لفظ کا بھی اضافہ یا کمی ہوتی تو دونوں کو اس کا علم ہوتا۔ مانی اسلام آباد کے پرسکون ماحول میں رہنا والا برگر فیملی کا خوبصورت شہزادہ تھا۔ اسٹائلش ڈریسنگ، ایم بی اے سے فراغت پا کر نجی کمپنی میں مارکیٹنگ سپروائزنگ کے شعبے سے وابستہ تھا۔ جب کہ زویا کراچی کے متوسطہ طبقے سے تعلق رکھنے والی معمولی شکل صورت کی مالک تھی۔ حال ہی میں ایم اے اردو کے پیپرز دیے تھے۔

مانی دوستانہ، شوخ مزاج ہر ایک سے بے تکلفانہ انداز سے ملتا تھا۔ لڑکا ہو یا لڑکی، بچہ ہو یا بڑا، سب سے ایک جیسا رویہ برتتا۔ دوسری طرف زویا خوابوں کو حقیقت ماننے والی لڑکی تھی۔ شہروں کی دوری کے باعث ملنے میں تاخیر ہونا، قابل قبول تھا۔ لیکن زویا کے اسمارٹ فون کی محرومی نے انہیں اب تک ایک دوسرے کی صورتوں سے بھی نا آشنا رکھا ہوا تھا۔
”مانی ایک بات بتائیں گے؟ مائنڈ تو نہیں کریں گے؟“ اپنا سستا سا موبائل مضبوطی تھامے پراسرار لہجے میں پوچھنے لگی۔
”ہاں میری جان، پوچھو کیا پوچھنا چاہتی ہو۔“
”آپ کی زندگی میں میرا علاوہ بھی کوئی لڑکی ہے کیا؟“ اس نے ڈرتے ڈرتے آج ہمت پکڑی اور ایک سانس میں پوچھ لیا۔
”ہاہاہا۔ کیا کہا۔ لڑکی؟ ہاہاہا! زیادہ نہیں بس دس پندرہ ہیں۔ وہ بھی صرف وقت گزاری اور مستی کے لیے۔ کیوں کہ پیار تو میں صرف اپنی جان زویا سے کرتا ہوں نا۔“
”کیا؟ مانی خدا کا واسطے پلیز سچ سچ بتائیں۔“ اس نے تیز دھرکتے دل کے ساتھ التجا کی۔
”پگلی یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے پوچھو، جواب مل جائے گ۔ میری زندگی، میری کل کائنات تمہی ہو۔ سمجھی کچھ؟ یا ابھی آ کر سمجھاؤں؟ ہاہاہا تم بھی یار فل پاگل ہو۔“ مانی نے اپنی محبوبہ کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔
”اور اگر مانی ہم ایک نہ ہو سکے تو؟“ آج عجیب سا خوف اسے اندر ہی اندر ناگ بنے ڈس رہا تھا۔
(خود اپنے ہی خواب سے ڈر گئی تھی، جس میں مانی دوسری لڑکی کی بانہوں میں تھا اور زویا اکیلی بنجر صحرا میں کھڑی تھی)۔ اس نے اپنا خواب مانی کو بتانا چاہا، لیکن نجانے کس نے اسے روکے رکھا۔

”زویا میری جان آج تمہیں ہوا کیا ہے؟ مجھے نہیں پتا کیا ہو گا اور کیا نہیں، میں اتنا جانتا ہوں تم صرف میری ہو، اور دوبارہ ایسی بکواس کی تو میرا مرا منہ دیکھو گی۔“ آخر مانی کے صبر کا مادہ آتش فشاں بن کر بھڑک اٹھا۔
”پلیز مانی ایسے نہ بولیں۔ اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہو گا؟“ ابھی اس نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی، آنکھوں نے موٹے موٹے آنسوؤں کے ریلے برسا دیے۔
”اوہو! یار اب تم رونا بند کرو۔ پلیز۔ اچھا میری جان، سوری آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کہوں گا۔“ خاصی دیر تک مانی اس کو سمجھاتا رہا اور کب وہ روتے روتے ہنسنے لگی اس کو پتا بھی نہ چلا۔

”اچھا سنو! میں اگلے ہفتے کراچی آ رہا ہوں، اب تم سے ملے بنا قرار نہیں پڑتا میری جان۔“
”سچ! آپ آرہے ہیں؟ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔ ہم ملنے والے ہیں؟ کب سے تڑپ رہی ہوں آپ کو دیکھنے کے لیے۔ آپ سے ملنے کے لیے۔“ وہ بنا سوچے سمجھے بولی جا رہی تھی اور مانی چپ سادھے اس کی سنتا رہا۔

آخر وہ دن بھی آ پہنچا، جب ساحل کے کنارے دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لیے ننگے پاؤں ریت میں اپنے مستقبل کے خواب سجا رہے تھے۔ سمندر کی شور مچاتی لہریں اور ان کی بے ساختہ ہنسی نے شام کی رنگینی کو مزید سرمئی بنا دیا تھا۔
”جان! مجھ پر بھروسا کرتی ہو نا؟ تو آج ہمارے درمیان حائل اس دوری کو مٹ جانے دو۔“
”لیکن نکاح کیے بغیر کیسے مانی؟“
”ارے پگلی! آج کل سب ایسے ہی کرتے ہیں، اور ہم جلد نکاح کر لیں گے۔“
سمندر کے قریب ہی ہوٹل کے ایک ایسے کمرے میں پہنچے، جہاں سے سمندر کا پانی ٹھاٹھیں مارتا نظر آ رہا تھا۔
مانی نے زور سے زویا کا ہاتھ پکڑ کے اپنے قریب کیا، تا کہ اپنی بانہوں کے آغوش میں لے سکے۔
”مانی! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، ہم کچھ غلط تو نہیں کر رہے نا؟“ زویا نے رونی سی صورت بنا کر معصوم سا سوال کیا۔
”نہیں میری جان ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا۔“
پلک جھپکتے ہی دونوں ہم بستر ہوئے، آسمان کی چادر رات کی سیاہی اوڑھ چکی تھی۔

رات ڈھلی اور چڑھتے سورج کے ساتھ ہی مانی اسلام آباد روا نہ ہو گیا۔
”آپ نے امی سے ہمارے رشتے کی بات کی؟ وہ کب آ رہی ہیں؟“
یار کیا تم ہر وقت ایک ہی بات کرتی ہو، کبھی تو رومینٹنگ ہو جایا کرو۔ مانی نے بیزاری سے جواب دیا۔
”مانی آپ کیوں نہیں سمجھ رہے مجھے آپ کا نام چاہیے۔“ اتنا کہہ کر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی
”تنگ آ گیا ہوں اب، تمہارے اس روز روز کے رونے سے۔ اچھا سنو، بعد میں بات کرتا ہوں۔ امی کی کال آ رہی ہے۔“

”کتنی دیر سے آپ کا نمبر مصروف جا رہا ہے، کس سے بات کر رہے تھے مانی؟“
”وہ سب چھوڑو اس وقت کال کیوں کی ہے؟ مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔“
”کیا ہوا ہے مانی؟ مجھ سے دل بھر گیا ہے آپ کا؟ میں جب کال کرتی ہوں، آپ کوئی نہ کوئی بہانا بنانے لگتے ہیں۔“
”پھر بکواس شروع کردی؟ اسی لیے میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتا۔ جلدی بتاؤ کیوں کال کی ہے؟“
”مانی آپ نے جیسا چاہا، میں نے آپ کا ساتھ دیا، ہم نکاح کب کریں گے؟“
”پلیز! مجھے معاف کردو۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی امی نے منع کر دیا۔ میں تمھارا مجرم ہوں لیکن بہت مجبور ہوں۔ یار، تم سے نکاح نہیں کر سکتا۔“
مانی نے یہ کہہ کر کال رکھی بھی نا تھی کہ زویا کے کانوں سے آواز آ ٹکرائی، ”آخر مانی تو کتنی لڑکیوں کے مزے لوٹے گا؟“
”ہاہاہا۔ تو تو جانتا ہے، اپنا اسٹائل! جب تک ایک دو شکار نہ کرلوں، سچی سکون نہیں ملتا۔ اور رہی بات زویا کی، یہ تو پاگل ہے پوری۔“
زویا کے ہاتھ سے موبائل زمین پر جا گرا۔ وہ بلبلا کر روتی رہی لیکن دوسری طرف اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ روتی بلکتی جائے نماز پر جا بیٹھی اور سجدے میں سر جھکائے، اپنے اللہ سے معافی مانگنے لگی۔
روتی روتی وہیں سو گئی۔ آنکھ کھلی تو اس کا دل کیا اپنی جان لے لے۔

اس کے دل میں سوالوں کا انبار تھا۔ آخر یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ کیا مجھے مر جانا چاہیے؟ کیا میں واقعی بری لڑکی ہوں؟ کیا میں پاگل ہوں؟ اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور تھوڑا حلیہ درست کر کے گھر سے نکل پڑی، کیوں کہ ابھی اس میں گھر والوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ کئی گھنٹے وہ شہر کی دھول چاٹتی رہی، پھر تھک ہار کر گھر کا رخ کیا۔ اب یہ زویا کا روز کا معمول بن گیا تھا ہر نماز میں اللہ سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنا، پھر رات بھر تکیے میں چھپائے روتے رہنا اور صبح ہوتے ہی گھر میں جاب ڈھونڈنے کا بہانا بنا کر نکل پڑنا۔ ایسے ہی کئی دن سے ہفتے گزرے اور ہفتوں سے مہینے، اس کی سوچوں میں بس اس حد تک تبدیلی آئی تھی کہ وہ کسی کے لیے اپنی جان نہیں لے گی۔

دو سال پہلے بیتے ماضی کے زخموں کو اس بارش نے پھر سے ہرے کر دیا تھا۔ سوچوں کے بھنور سے باہر تو آ گئی لیکن شاید اس کی روح وہیں کہیں بھٹک رہی تھی۔ وہ دل برداشتہ تھی لیکن بزدل نہیں تھی۔ اسے اب اپنی زندگی سے پیار نہیں تھا لیکن جینا بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ کیوں کہ وہ اس بات کو مانتی تھی کہ اللہ نے ہر انسان کو کسی نا کسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ بس اسی تلاش میں تھی کہ آخر اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ محض اس لیے دنیا میں نہیں آئی کہ کوئی اس کی روح کو کچل کے چلا جائے گا اور وہ خود کو فنا کر بیٹھی گی۔ کبھی نہیں وہ کبھی ایسی نہیں تھی، تو اب کیسے بن جاتی، ایسی کہ دنیا اس کے مرنے پر تھو تھو کرے۔

وہ ظاہری طور پر ڈرپوک تھی لیکن اس کے اندر ایک مضبوط لڑکی تھی۔ کیوں کہ جو اس کے ساتھ ہوا، وہ برداشت کرنا کسی معمولی لڑکی کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ آج وہ ایک کالج میں اردو کی لیکچرار تھی۔ شاید اس نے اپنے احساسات پر قابو پانے کے لیے خود کو مصروف کر لیا تھا، یا شاید ماضی کی تلخ حقیقت کو بھول جانا چاہتی تھی، لیکن یہ سچ تھا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی، اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتی تھی۔

آج گرمی کی شدت بہت تھی۔ کالج سے واپسی میں پیدل چلتے چلتے وہ ایک ہاتھ سے اپنا پسینا صاف کرتی تو دوسرے ہاتھ سے پانی بوتل منہ سے لگائے پیاس بجھا رہی تھی، لیکن گرمی کی تپش میں پانی پینا بھی بے معنی لگ رہا تھا۔ اللہ اللہ کر کے بس اسٹاپ تک پہنچی تو لمحہ بھر کو سکون ملا۔ وہ منہ ہی منہ میں بولی، ”اللہ تیرا شکر اسٹاپ تو آیا، اب یہ مصیبت بس کب آئے گی؟“ ابھی وہ انہی سوچوں میں تھی کہ اس کی نظر ایک فقیرنی پر پڑی، جو ایک ہاتھ سے محروم تھی اور اس سے تھوڑی ہی فاصلے پر کھڑی بھیک مانگ رہی تھی۔ غالباً راہ چلتے کسی لڑکے پر بھڑک بھی رہی تھی۔
”الو کا پھٹا۔ او کتے کے بچے مر جا کر کہیں، کیڑے پڑیں تیری قبر میں۔“ اس کی آواز میں اچانک تیزی آ گئی تو زویا سے رہا نہیں گیا۔ وہ آگے بڑھ گئی اور فقیرنی سے لڑکے پر بھڑکنے کی وجہ جاننا چاہی، جو ابھی بھی وہیں کھڑا ہنس رہا تھا۔ کیا ہوا آپ اس طرح گالیاں کیوں دیں رہی ہیں؟ کوئی مسئلہ ہے؟ زویا کے لہجے میں اپنائیت دیکھ کر وہ عورت بولی، ”بی بی جی یہ کمینہ انسان مجھے بھیک دینے کے بہانے پاس آ کر میرے جسم کو چھو رہا تھا۔ ہم بھیک مانگتے ہیں لیکن کبھی اپنی عزت خراب نہیں کری۔“ ابھی اس کی بات جاری تھی کہ لڑکا بول پڑا:
”چل جھوٹی، مجھے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی تھی۔ غلط کام کے لیے میں نے منع کیا، تو مجھ پر الٹا الزام لگاتی ہے؟“
یہ سنتے ہی فقیرنی آگے بڑھی اور زمین سے پتھر اٹھا کر اس لڑکے کے سر پہ دے مارا۔
”کمینے کتے میں تجھے لے جا نا چاہتی تھی؟!“

لڑکے کے سر سے خون نکل آیا اور وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔ ”دیکھا بی بی جی اب کیسے بھاگا یہ مرد ذات بہت بری ہے یہ ہم جیسے اپاہجوں کو نہیں چھوڑتی آپ لوگوں تو اللہ ہی بچائے۔“ یہ کہتے ہوئے فقیرنی نے زویا کے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے چل دی، لیکن زویا وہیں کھڑی رہی، جیسے اس پر سکتہ طاری ہو گیا ہو۔ اسے یوں لگا جیسے ماضی نے پھر اس کے منہ پر تھپڑ مارا ہو۔ اس کیفیت کے ساتھ بس میں سوار ہوئی اور گھر آ پہنچی۔

آج پھر مصلے پر کئی گھنٹے بیٹھی رہی اور روتی رہی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کرتی رہی۔ ”اے اللہ! میں تیرا جتنا شکر ادا کروں کم ہے تو نے مجھے مکمل پیدا کیا، میرے ہاتھ پاؤں میرا جسم مکمل دیا، میں تیری گناہ گار ہوں مجھے بخش دے، میں کیوں کمزور ہوں اللہ؟ اور وہ ایک معذور عورت مجھ سے بہتر، مجھ سے مضبوط کیسے ہے؟ وہ کیسے ہو سکتی ہے مجھ سے مضبوط اس کا تو وجود بھی نا مکمل ہے پھر اس کے اندر اتنی ہمت کیسے دی تو نے، اے میرے اللہ مجھ میں بھی وہ ہمت دے جسے پا کر میں ہر اس تکلیف سے نجات پا سکوں جو مجھے اس انسان کی یاد دلاتی ہیں، میں نے ایسے انسان سے پیار کیا جو انسان کہلانے کے لائق نہیں، مجھے معاف کردے میرے رب تو سب جانتا ہے، آج مجھ میں اتنی ہمت دے کہ آج کے بعد میں پھر کسی سے دھوکا نہ کھا سکوں، میں کسی کے لیے کچھ کر سکوں مجھے میرے جینے کا مقصد سمجھ آ گیا ہے اللہ بس تو میری مدد فرما، میرے قدم مضبوط رکھنا، اتنے کہ آج کے بعد میں صرف دوسروں کے آنسوؤں صاف کرنے کا سبب بن سکوں، اتنا مضبوط بنا کہ اب کوئی مجھے یہ نہ کہہ سکے زویا تو پاگل ہے، میں پاگل نہیں ہوں۔ میں پاگل نہیں ہوں۔“
وہ روتی، بلکتی، دعائیں مانگتی ہوئی سو گئی۔

تالیوں کی گونج سے وہ چونک سی گئی، عثمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، تو زویا نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ آج زویا کے فلاحی این جی او کی افتتاح تھی۔ زویا نے اپنے ادارے کا نام ”میں پاگل نہیں ہوں“ رکھا تھا، جو خواتین کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ وہ بہت پرسکون تھی۔ اسے کوئی غرض نہیں تھی کہ اس کو برباد کر کے جانے والا شخص کہاں ہے۔ اس کو اس کے کیے کی سزا ملی یا نہیں کیوں کہ ان چند سالوں میں اس نے خود کو پا کر سب کچھ پا لیا تھا۔

عثمان جیسا پیار کرنے والا شوہر، جو اس کی حقیقت سے واقف تھا لیکن مانی کی طرح کم ظرف نہیں تھا، ایک معصوم سی بیٹی، کچھ سچے ساتھی اور وہ فقیرنی جو زویا کی زندگی میں یوٹرن بن کر آئی تھی۔ زویا نے ثابت کر دکھایا تھا کہ اگر عورت خود کو مضبوط بنا لے، تو کتنی بھی بڑی مشکل آ جائے، وہ تنہا سب سے مقابلہ کر سکتی ہے۔ پھر کتنے بھی مانی جیسے اس کی زندگی میں آ جائیں وہ ان کا منہ نوچ کر اپنی منزل کو پانا جانتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •