بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کون روکے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات حد سے آگے نکل چکی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گیس کے میٹر کے کرائے کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ یوں لوگوں کی رگوں سے خون کشید کیا جانے لگا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ان کی ہڈیوں کا گودا بھی کھائے جانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ آئے روز مہنگائی۔ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہو گا؟ ادھر نئے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں مگر ذرائع روزگار نہیں پیدا کیے جا رہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، وگرنہ ہر برس ان میں اضافہ کیا جاتا تھا۔

اب جب حزب اختلاف ان مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہے گی، تو اسے بہت آسانی ہو گی۔ کیونکہ لوگ موجودہ حکومت سے نکو نک آ چکے ہیں۔ ہم انتظامی معاملات کی بات ہر تیسرے چوتھے کالم میں کر کے اس کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوتی ہو۔ بس اسے جو مشورے دیے جاتے ہیں، ان پر وہ من و عن عمل کرتی ہے، اور عوام کی چیخیں نکال دیتی ہے۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے کہ جنہیں کھانے پینے کی چیزیں بھی پوری طرح میسر نہیں۔ پھر ستم یہ کہ وہ ناقص ہوتی ہیں۔ اس سے وہ اکثر مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، اور جب دوائیں خریدنے جاتے ہیں، تو وہ ان کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ اگر وہ جیسے تیسے انہیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تو ان میں ستر اسی فی صد غیر معیاری ہوتی ہیں۔ ان کو استعمال کرنے کے بعد مریض دیر تک شفایاب نہیں ہوتے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک اشرافیہ کے لئے بنا تھا، جسے مہنگائی کی پریشانی ہوتی بے، نہ بے روزگاری کی۔ ہر شے کا حصول، اس کے لئے ممکن ہوتا ہے۔ عوام ہیں کہ اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کہ انہیں کچھ سہولتیں مل سکیں۔ ان کے بھی کچھ خواب پورے ہو سکیں۔ مگر نہیں، تہتر برس بیت چکنے کے بعد بھی، وہ روشن مستقبل سے محروم ہیں۔ یہ اشرافیہ انہیں بے وقوف بنا کر ان کے جسموں پر مسائل کے وار کر کے زخم پہ زخم لگاتی چلی جا رہی ہے۔ اسے کبھی بھی ان پر ترس نہیں آیا، رحم نہیں آیا۔ جب کہ یہ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر لئے پھرتے ہیں۔ ان کی تجوریوں کو اپنے خون پسینے کی محنت سے بھرتے رہتے ہیں۔ یہ اشرافیہ اس سے جو محل تعمیر کرتی بھی ہے، تو بیرون ملک۔ وہاں ان کی اولادیں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتی ہیں۔ یہاں عوام سسکتے رہتے ہیں۔

عوام کو پوری امید تھی کہ یہ حکومت انہیں بڑے ریلیف دے گی، مگر وہ پیاسے کے پیاسے رہے۔ یہ درست ہے کہ چند ماہ معیشت کا پہیہ جام رہا ہے، جس سے اس کی حالت خراب ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرض لینا پڑا، مگر حکومت کو غریب عوام ہی نظر آتے ہیں، ٹیکس لگانے کے لئے؟ امیروں سے کیوں نہیں سارے ٹیکس لئے جاتے؟ پھر وہ اپنے گرد بیٹھے آٹا، چینی، گھی، مہنگائی اور کمیشن مافیا کو، کیوں زحمت نہیں دیتی کہ وہ مشکل گھڑی میں اپنا کردار ادا کریں؟ عوام کا یہ کہنا ہے کہ سربراہ حکومت جب خود کو دیانت دار کہتے ہیں، تو وہ کیا کریں۔ ان پر (عوام) وہ لوگ مسلط ہیں، جن کا اپنا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔ اس وجہ سے قومی خزانہ کیسے بھرے گا۔ ان کی شامت آ جاتی ہے۔ اگر عمران خان واقعی کمزوروں کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں، تو ایسے لوگوں کو آزاد کر دیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ چن چن کر عوام بیزار سامنے لائے جا رہے ہیں، جنہیں ذرا بھر بھی ان سے ہمدردی نہیں۔

اس سیاسی و معاشی منظر کو دیکھتے ہوئے، عوام میں حکومت مخالف جذبات جنم لے رہے ہیں، جو آہستہ آہستہ انہیں احتجاج کی شاہراہ پر لے ائیں گے۔ بلکہ لا بھی چکے ہیں۔ حزب اختلاف نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور حیران کن حد تک ایک خاص تعداد متحرک ہو گئی ہے۔ انہیں دیکھتے ہوئے دوسرے لوگ بھی باہر آسکتے ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ حکومت کو آنے والے دنوں میں سخت سیاسی مسائل کا سامنا ہو گا۔ پھر وہ کوئی بڑا اعلان بھی کر سکتی ہے۔

بہر حال یہ کیسی عجیب اور تکلیف دہ بات ہے کہ ہمارے یہاں حکومتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں کبھی بھی ایک پلیٹ فارم پر کھڑی نہیں ہو سکیں۔ اجتماعی مسائل کا حل نہیں تلاش کر سکیں۔ ایک آتا ہے دوسرا اس کی راہ میں کانٹے بکھیرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے ترقیاتی منصوبوں کو روک دیتا ہے۔ ان میں خامیاں ڈھونڈتا ہے اور عوام کو متنفر کرتا ہے۔ جب کہ عوامی منصوبے بھلے ان سے چند افراد ہی کیوں نہ مستفید ہوتے ہوں، اچھے ہوتے ہیں، کہ ترقی کا عمل ایسے ہی آگے بڑھتا ہے۔ یہاں سیاست و جمہوریت کو فروغ نہیں دیا گیا، لہذا آج وہ ایک نئی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ کسی کو احتساب کے شکنجے میں کسا جا رہا ہے، تو کسی کو اس سے آزاد کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے فریقین کے مابین محاذ آرائی ہو رہی ہے۔ عوامی تکالیف کا تذکرہ فیشن کے طور سے ہو رہا ہے۔ یعنی اس پہلو کو ابھار کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بھی اچھی بات کہی جا سکتی ہے کہ آنے والی حکومت کو تھوڑا بہت عوام کے مسائل کے حل کے لئے بھاگ دوڑ کرنا ہو گی۔

حرف آخر یہ کہ عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائیوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اس سے انہیں زندگی ایک بھاری پتھر محسوس ہو رہی ہے۔ حکومت اگر عوام کو سڑکوں پر آنے سے روکنا چاہتی ہے، تو وہ انہیں فی الفور ریلیف دے، تا کہ وہ ان کے قریب آ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •