تشدد اور طاقت کا کلچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تشدد اور طاقت پر بات کرتے ہوئے ایک قابل ذکر بات یہ سامنے آتی ہے کہ تاریخ کی سب سے خون ریز دشمنیاں ایسے لوگوں کے درمیان ہوئیں جو ایک دوسرے سے مختلف کم اور مماثل زیادہ تھے۔

انیس سو سترہ میں فرائڈ نے ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ کی اصطلاح وضع کر کے بتایا کہ پڑوسیوں کی طرح رہنے والے جو ایک براری کی طرح ہوتے ہیں اور ایک جیسے رسم و رواج رکھتے ہیں بہت معمولی اختلافات پر حد درجہ حساسیت کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔

فرائڈ کے بقول ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ فطرتا انسانوں کو ایک خاص شناخت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے وہ خود کو مختلف ثابت کرنا چاہتے ہوئے نرگسیت یا خود سے محبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بہت سے لوگ یکسانیت سے اکتا کر چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت میں کچھ خاص عناصر شامل ہوں جو دوسروں کے پاس نہیں۔ اسی لیے وہ معمولی فرق یا اختلاف پر زور دینے لگتے ہیں تاکہ دوسروں پر اپنے برتری کا اظہار کر سکیں۔

یہ ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ کا تصور ہمیں ایک دل چسپ تناظر فراہم کرتا ہے جس سے ہم افراد کے رویوں کو پرکھ سکتے ہیں اور اسے دنیا بھر میں نسلی اور مذہبی تنازعوں کے لیے بھی لاگو کر سکیں۔

پاکستان کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ہمیں ”معمولی اختلاف کی نرگسیت“ جگہ جگہ نظر آتی ہے خاص طور پر نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ہم نے معاشرے کو فرقہ وارانہ اور لسانی گروہوں میں تقسیم ہوتے اور باہم متصادم ہوتے دیکھا ہے اور اس طرح کے تصادم اب بڑھتے جا رہے ہیں۔

آئے دن ہم فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں۔ جو بھی لوگ کم تعداد میں ہیں وہ اکثریتی گروہوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور یہ ایک قومی سطح کے سانحے سے کم نہیں ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر یہ اب کوئی اچھوتی بات ہے لیکن اب یہ مذہب سے زیادہ سیاست کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ یکایک فرقہ وارانہ تشدد میں اتنا اضافہ خودبخود نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پیچھے سیاسی و معاشی مفادات نہ ہوں۔ اسی لیے مخصوص گروہ معمولی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذاتی سطح پر لوگ فرقہ وارانہ اختلافات کو اہمیت نہیں دیتے بل کہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ زیادہ تر لوگ اپنی فرقہ وارانہ شناخت نہ صرف رکھتے ہیں بل کہ اسے اجاگر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی نرگسیت ہے۔ اور اسی نرگسیت یا احساس فخر کو استعمال کر کے کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے تشدد اور طاقت کا کلچر پروان چڑھاتے ہیں۔

فرقہ وارانہ رہ نما مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور اس طرح خود اپنی طاقت اور سیاسی اثر کو مضبوط کرتے ہیں اور ساتھ ہی معاشی فوائد بھی حاصل کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معمولی اختلاف کو بنیاد بنا کر معاشرے میں ایسے تنازع کھڑے کر دیے جاتے ہیں جن سے سماج کے دیگر اہم معاملات اور مسائل پیچھے چلے جائیں۔ ان میں سماج و معاشی نا انصافی، تعلیم و صحت کی ناکافی سہولتیں اور دیگر مسائل شامل ہیں۔

ہارورڈ یونی ورسٹی سے مطالعہ مذاہب میں پی ایچ ڈی کرنے والے دو استاد جیسن اسپرنگ اور اتالیہ عمر نے اپنے کتاب ”مذہبی قوم پرستی“ میں یوگوسلاویہ کی تقسیم کو موضوع بنا کر ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ پر مزید روشنی ڈالی ہے۔ یوگوسلاویہ میں لوگ صدیوں سے دوستوں اور پڑوسیوں کی طرح رہ رہے تھے اور ان کی باہمی رشتے داریاں بھی تھیں ایک جیسی زبانیں بولتے تھے اور آپس میں شادیاں بھی کرتے تھے۔

مگر اچانک سن انیس سو اسی کے عشرے کے اواخر اور انیس سو نوے کے اوائل میں وہاں بدترین تشدد پھوٹ پڑا۔ سیاسی قوتوں نے معمولی نوعیت کے لسانی اور قومی اختلافات کو بڑے تنازع کی شکل دے دی اور تاریخی حوالوں سے اپنی مختلف شناخت پر زور دیا اس طرح تاریخ کو مسخ کر کے ”لسانی صفایا“ کرنے کی مہم شروع کی۔ اس طرح سربیا کے صدر سلوبودان ملو سیوچ نے عظیم تر سربیا بنانے کا جواز پیش کیا۔

اب ماضی کی طرف دیکھیں تو یوگوسلاویہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب اقتدار اور سماجی طاقت رکھنے والے لوگ کس طرح مصنوعی طور پر معمولی اختلافات میں ہوا بھر کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی کو تقسیم سے پہلے کے ہندوستان کی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ برطانوی حکم رانوں نے برصغیر میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کو بڑھاوا دیا اور مذہبی اختلافات کو تقسیم کے لیے استعمال کیا۔ برطانوی اہل کار مقامی لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے مقامی لوگوں کو ہی استعمال کرتے تھے۔

ہندو اور مسلم تاج برطانیہ سے آزادی کے لیے مل کر جدوجہد کر رہے تھے جو برطانوی حکم رانوں کو پریشان کر رہی تھی۔ جب ہندو اور مسلم ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئے تو مسلمانوں نے الگ وطن کا مطالبہ کیا اور مشترکہ جدوجہد ختم ہو گئی۔ آزادی کے بعد سے پاکستان میں مذہبی منافرت اور تعصبات بڑھتے رہے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیوں کہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد یہی ہونا تھا۔ جب قومی سرحدیں اور شناخت کی بنیاد مذہب بن جائے تو پھر ہر چیز کو مذہب کے تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔ پھر ہمارا عدالتی اور قانونی سفر بھی ایسا رہا ہے جس نے غیر مسلموں اور چھوٹے فرقوں کے خلاف ثقافتی اور ادارہ جاتی تشدد کو پروان چڑھایا ہے۔

جو لوگ دوسروں پر راسخ العقیدہ نہ ہونے یا مذہبی احترام کا مظاہرہ نہ کرنے کے الزام لگاتے ہیں وہ کسی نہ کسی بہانے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہی پارسائی اور اخلاقیات کے محافظ ہیں اور دیگر لوگوں کی تصحیح کر کے خود احساس برتری کا لطف اٹھاتے ہیں اور یہی نرگسیت ہے۔ وہ اپنے فرقے یا عقیدے سے اپنی نرگسیت کا اظہار کرتے ہیں اور ان ہی لوگوں کو ہم ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ کا شکار کہ سکتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک اظہار ہمیں انیس سو چورانوے مں روانڈا کے قتل عام میں نظر آیا تھا۔ جس میں توتسی قبیلے کے لاکھوں لوگ ہوتو قبیلے نے مار دیے تھے۔

یہ دونوں قبیلے سیاہ فام تھے، شکل و صورت ایک جیسی تھی، رسم و رواج بھی مماثل تھے مگر معمولی فرق بہرحال موجود تھے جنہیں پراپیگنڈا کرنے والوں نے استعمال لیا اور تشدد کا راستہ دکھایا۔ اس طرح حالیہ انسانی تاریخ کا ایک تاریک باب رقم ہوا۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے اختلافات کو نظرانداز کرنے کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے جس سے تشدد اور مذہبی تنازعوں کا راستہ روکا جا سکے۔ مذہبی رواداری کی تعلیم سے ہی لوگ مل جل کر رہنا سیکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں نوجوان جو تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں انہیں مختلف مذاہب کے رسوم و رواج سے متعارف کرانا ضروری ہے۔

اسی طرح رواداری پروان چڑھ سکتی ہے۔ باہمی ہم آہنگی سے رہنا ہر فرد اور گروہ کا حق ہے چاہے وہ کسی بھی رنگ، نسل، مذہب اور فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ صرف پاکستان ہی اس ہم آہنگی کے فقدان کا شکار نہیں ہے۔ امریکا، بھارت، چین وغیرہ بھی اسی طرح کے رجحان کا شکار ہیں جن میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر مخصوص افراد اور گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ چاہے وہ ہسپانوی اور سیاہ فام امریکی ہوں یا ایغور چین میں یا مسلمان اور مسیحی بھارت میں، سب اسی طرح کے تشدد اور اکثریت کی نرگسیت کا شکار ہیں۔

دراصل یہ ریاست کی ناکامی ہوتی ہے کہ وہ عوام کو مساوی حقوق اور یکساں سلوک فراہم نہیں کرتے اسی لیے تشدد اور طاقت کے کلچر کو پر سطح پر للکارنا ضروری ہے۔

Latest posts by ضویا ناظر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضویا ناظر کی دیگر تحریریں

ضویا ناظر

کالم نگار ضویا ناظر استنبول سے گریجویٹ ہیں اور اسلام آباد میں کمیونیکشن کی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں

zoya-nazir has 2 posts and counting.See all posts by zoya-nazir