سو عظیم آدمی اور کتابیں ‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی کتاب جو میں نے پڑھی، وہ تھی ’سو عظیم آدمی‘۔ امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اسے لکھا تھا، محمد عاصم بٹ نے ترجمہ کیا اور تخلیقات لاہور نے اسے چھاپا تھا۔ کتاب کا حقیقی عنوان ہے: تاریخ کی سو موثر ترین شخصیات کی درجہ بندی۔ معلوم نہیں مترجم نے کن وجوہ کی بنا پر ترجمے کا عنوان تبدیل کر دیا۔ ’موثر ترین‘ کی جگہ انہوں نے ’عظیم‘ کا لفظ استعمال کیا۔ مصنف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ فہرست میں شامل تمام اشخاص عظیم یا مشہور نہیں، بلکہ یہ ایسے افراد کی لسٹ ہے جنہوں نے اپنے کارہائے نمایاں کی بدولت تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا اور دنیا کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔ اب یہ اثر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ ان شخصیات کی کامیابی دنیا کو ترقی سے ہم کنار بھی کر سکتی ہے اور تنزلی سے دو چار بھی۔ معلوم نہیں مترجم کو کیا سوجھی ہو گی؟ المختصر، جیسے ترجمہ ہوا ویسے ہی ذہن میں بیٹھ گیا: سو عظیم آدمی۔

میں نے اپنی آنکھ کتابوں میں کھولی۔ ہمارا کوئی ادبی گھرانہ نہیں تھا۔ صرف چند افراد کو کتابوں سے لگاؤ تھا۔ مگر کتابوں کی بھر مار تھی۔ ہر دوسری چیز کی طرح، جیسے گلاس یا کوئی پودا، کتاب بھی ایک ایسی چیز تھی جو کوئی وجود رکھتی تھی۔ مکان کی متواتر تبدیلیوں سے کتابوں کی حالت بھی مخدوش ہو گئی۔ ’سو عظیم آدمی‘ بھی کچھ لاپتا کتابوں میں سے ایک تھی۔ میں کئی بار اس کا بے ترتیب مطالعہ کر چکا تھا۔ سو یہ میرے حافظے میں غیر واضح طور پہ گھر کر چکی تھی۔ آج بھی میری ذاتی لائبریری میں یہ اہم کتاب موجود نہیں ہے۔

زرد اور سیاہ گرد پوش میں پہلی کتاب جس نے مجھے خصوصی طور پر اپنی طرف مائل کیا۔ میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ پاکستانی معاشرے میں کسی بھی دوسرے فرد کی طرح قومی اور مذہبی جذبات سے لبریز۔ اس کتاب میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ جس کے بغیر شاید میں کبھی اس کے وجود سے بھی واقف نہ ہو پاتا؟ جی ہاں! ہمارے پیارے نبی، حضرت محمدﷺ کا نام اس کتاب میں درجہ اول کے طور پر نمایاں ہے۔ کسی مسلمان کے لئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آپﷺ ہی دنیا کے ’عظیم‘ ترین شخص ہیں۔

مگر ایک عیسائی مصنف کے لئے کیا وجہ بنی کہ آپﷺ کو حضرت عیسی علیہ السلام پر مقدم رکھے؟ جب کہ کسی بھی دور میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ رہی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے خود ہی بیان کر دی: پیغمبر اسلامﷺ تاریخ میں وہ واحد فرد ہیں جو مذہبی اور دنیوی محاذوں پر برابر کامیاب رہے۔ اسلام کی بنیاد اور ترویج میں آپﷺ کا براہء راست حصہ رہا، جب کہ عیسائیت میں یہ کام با ترتیب یسوع مسیح (تیسرا درجہ) اور سینٹ پال (چھٹا درجہ) نے سر انجام دیا۔ درجہ بندی کے معاملے میں مصنف نے جو دیانت داری برتنے کی کوشش کی ہے، اس کے لئے یہ ایک مثال کافی ہے۔

مذہبی جذبات سے باہر آئیں، تو اس کتاب میں دوسری مسلم شخصیت آپ کو بانویں نمبر پر ملے گی: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ۔ قومی جذبات کی افزائش کے لئے اس کتاب میں کوئی گنجائش نہیں، بلکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے۔

جن شعبوں کے افراد کو خصوصی توجہ دی گئی، ان میں مذہب، سائنس، فلسفہ، سیاست اور فن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ٹھیک ہے مذہب اور سیاست میں ایک کلیدی رہنما کا کردار بہت اہم ہے، لیکن کسی عقیدے یا آئیڈیالوجی کے پھیلاؤ میں بہت سے لوگوں کی کاوش ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر گوتم بدھ (چوتھا درجہ) اور کارل مارکس (گیارہواں درجہ) وغیرہ۔ دوسری طرف سائنس اور فن کے معاملے میں عموماً انفرادی حیثیت زیادہ اہم ہے۔ مثلاً آئزک نیوٹن (دوسرا درجہ) اور شیکسپیئر (چھتیسواں درجہ) وغیرہ۔ اثر پذیری کے مجموعی کلیے کے مطابق مذہبی لیڈروں، سائنس دانوں اور فلسفیوں کو سیاسی و عسکری رہنماؤں، مہم جوؤں اور تخلیق کاروں پر فوقیت دی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مصنف خود دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے

بہت سی شخصیات میرے لئے خصوصی توجہ کا مرکز بن گئیں: ارسطو (چودھواں درجہ)، حضرت موسی (سولہواں درجہ)، چارلس ڈارون (سترہواں درجہ)، چنگیز خان (اکیسواں درجہ)، سکندر اعظم (تینتیسواں درجہ)، افلاطون (چالیسواں درجہ) ، مائیکل اینجلو (پچاسواں درجہ)، مانی (تراسیواں درجہ) اور پابلو پکاسو (اٹھانوے درجہ پر) وغیرہ۔ میرے ذہنی میلان غیر شعوری طور پر افزائش پذیر ہونے لگے۔ میں نے اس کتاب سے مصوری کے لئے بھی مواد ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ بلیک اینڈ وائٹ، مبہم تصاویر سامنے رکھ کر میں نے متعدد سکیچیز تخلیق کیے۔ مطالعے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب میرے لئے تفریح کا باعث بھی بن رہی تھی۔

یہ درجہ بندی حرف آخر نہیں۔ مصنف نے اعتراف کیا ہے کہ یہ فہرست اس کی ذاتی تحقیق اور سوچ کا ثمر ہے۔ وہ قارئین کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے فہم کے مطابق درجہ بندی قائم کریں۔ خود مصنف کتاب کے نئے ایڈیشنوں میں فہرست کے اندر متواتر تبدیلیاں کر چکا ہے۔ یہ قطع برید حالات حاضرہ اور مصنف کی مزید تحقیق کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ یہ مشق طالب عالموں کے لئے خصوصی طور پر فائدہ مند ہے۔ مطالعے کی عادت کو گہرا کرنے کے لئے بھی یہ تجویز سود مند ہو سکتی ہے۔ ہماری سوسائٹی میں سنجیدہ کتب بینی کا جو فقدان پایا جاتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

کتاب کے شروع میں گزشتہ ساڑھے پانچ ہزار سالوں کے اہم واقعات اور کامیابیوں کی ٹائم لائن دی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں مزید سو موثر افراد کے نام اعزازی طور پر بیان کیے گئے ہیں اور کچھ کی مختصر سوانح بیان کی گئی ہے۔ ان میں نمایاں نام ارشمیدس، مہاتما گاندھی، ابراہم لنکن اور لیونارڈو ڈوانچی کے ہیں۔ کچھ اور پر کشش نام جیسا کہ حضرت داؤد، سقراط، تیمور، دانتے، بنجمن فرینکلن اور کمال اتا ترک وغیرہ کے ہیں۔ مگر ان کے کوائف موجود نہیں اور فطری طور پر مزید کتب کے مطالعے کی ضرورت تھی۔ ایک طرح سے یہ بھی اچھی بات تھی۔

یہ کتاب ہمارے لئے صرف باعث فرحت نہیں بلکہ ایک لمحہء فکریہ بھی ہے۔ تہذیب، تحقیق، ایجاد اور ترقی میں ہمارا کتنا حصہ ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ اور ہماری کیا منزل ہے؟

پہلی کتاب تھی ’سو عظیم آدمی‘ اور دوسری مختلف ادیان اور فلسفے میں خدا کے تصور کے بارے میں تھی۔ مجھ پر ایک نئی دنیا آشکار ہونے لگی۔ سلسلہ در سلسلہ نئی حقیقتیں منکشف ہو رہی تھیں اور تخیل وسعت پذیر ہو رہا تھا۔ گویا ایک ادنی طالب علم ’عظمت‘ کی تلاش کے سفر میں پر نکل کھڑا ہوا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •