برطانیہ میں گاڑیوں کی فروخت کے ’بدترین ستمبر‘ میں کون سے کاریں زیادہ فروخت ہوئیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں پچھلے برس کے مقابلے اس سال ستمبر میں نئی کاروں کی فروخت میں چار اعشاریہ چار فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

گاڑیوں کی صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق اس صنعت کے لیے عموماً ستمبر سال کا دوسرا بہترین ماہ ہوتا ہے، لیکن اس برس ستمبر میں نئی گاڑیوں کی فروخت صدی کی کم ترین سطح پر رہی۔

سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچرز اینڈ ٹریڈ (ایس ایم ایم ٹی) کا کہنا ہے کہ اس سال ستمبر میں صرف تین لاکھ 28 ہزار 41 نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوئی۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دوسرے صنعتی شعبوں کی نسبت برطانیہ میں کاریں بنانے کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے کیونکہ وبا کے دوران فیکٹریاں اور شوروم بند رہے ہیں۔

برطانیہ میں مارچ کے بعد ستمبر عموماً سال کا دوسرا اہم ماہ ہوتا ہے کیونکہ ان مہینوں میں گاڑیوں کے نئے رجسٹریشن نمبر جاری کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا واقعی استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت پر اب ٹیکس دینا ہوگا؟

برطانیہ: اپریل میں صرف 197 نئی گاڑیاں تیار کی گئیں

گاڑیوں سے جذباتی محبت میں مبتلا جرمن قوم

مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں کی فروخت میں کمی، وجوہات کیا ہیں؟

لیکن ایس ایم ایم ٹی کا کہنا تھا کہ 1999 میں نئی رجسٹریشن پلیٹ کے اجرا کے بعد سے گذشتہ ماہ کاروں کی فروخت کم ترین سطح پر رہی۔

معاشی بے یقینی نے خریداروں کو دور کر دیا

کاروباری امور کے تجزیہ کار تھیو لیگٹ کے مطابق اگر آپ ایس ایم ایم ٹی کے اپنے الفاظ کو سامنے رکھیں کہ یہ صنعت اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزری ہے، تو لگتا یہی ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار سے اس صنعت میں کوئی زیادہ امید نہیں پیدا ہو گی۔

امید کی جا رہی تھی کہ چونکہ لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے باہر نہیں جا سکتے، اس لیے سال کے آخری مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہو جائے گا۔

لیکن لگتا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی نے خریداروں کو کاروں جیسی بڑی اشیا کی خریداری سے دور کر دیا ہے اور لوگ قسطوں پر بھی کاروں نہیں خرید رہے۔

تاہم کاروں کی صنعت کے لیے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔ مثلاً ان دنوں جب ڈیزل گاڑیوں کی مارکیٹ مسلسل زوال کا شکار ہے، الیکٹرک کاروں کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

کاریں بنانے والوں نے بیٹری سے چلنے والی کاروں کو بہتر سے بہتر بنانے میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پالیسی ساز اداروں کی جانب سے دباؤ ہے کیونکہ حکومت کی خواہش ہے کہ کسی طرح آلودگی کو کم کیا جائے اور روایتی کاروں کو ختم کیا جائے۔

فی الحال بجلی سے چلنے والی کاریں بنانا نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اس میں منافع بھی قدرے کم ہے۔ لیکن اگر لوگوں کی معقول تعداد ایسی گاڑیاں خریدنے لگتی ہے تو کارساز کمپنیاں اکانومی آف سکیل یا بڑے پیمانے پر ایسی گاڑیاں بنانا شروع کر دیں گی اور سرمایہ کاروں کو امید ہو گی کہ وہ اپنا کچھ پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے

ایس ایم ایم ٹی کے سربراہ مائیک ہیوز کہتے ہیں کہ ’ان مشکلات سے بھرپور سال میں، گاڑیوں کی صنعت نے زبردست لچک کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن یہ اس صنعت کی بحالی نہیں ہے۔’

’جب تک اس وبا پر قابو نہیں پا لیا جاتا اور معیشت کے ہر شعبے میں خریداروں اور کمپنیوں کا اعتماد بحال نہیں ہو جاتا، ہمیں مستقبل قریب میں چیزیں نہایت مشکل دکھائی دے رہی ہیں۔‘

ایس ایم ایم ٹی کے بقول اس صنعت کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک کے بعد، جون میں لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی تو خریداروں نے گاڑیوں کے شورومز میں آنا شروع کر دیا تھا اور فیکٹریوں میں بھی کام شروع ہو گیا تھا۔‘

لیکن تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ کو ’مسلسل دباؤ‘ کا سامنا ہے، جس میں بریگزٹ کی بے یقینی بھی شامل ہے اور نئے ٹیکسوں کا خطرہ بھی۔ اس کے علاوہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ مضر گیسوں کے اخراج سے پاک گاڑیاں بنانے میں بہت زیادہ سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔

ستمبر 2020 میں برطانیہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاریں

Getty Images
تنظیم کے مطابق ’خریداروں اور کاروباری کمپنیوں کے اعتماد کو اس بات سے بھی خطرہ ہے کہ حکومت نے مختلف شعبوں کے ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ گھر بیٹھنے کی جو رعایت دی ہے وہ بھی ختم ہونے والی ہے، جس کے بعد بیروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وبا ختم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے پر پابندیاں برقرار رہنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔‘

’سنہ 2020 کے دوران نئی گاڑیوں کے اندراج میں جو چھ لاکھ 15 ہزار کاروں کی کمی دیکھنے میں آئی ہے، اس سے ہونے والے نقصان سے نکلنے کی امید کم ہی ہے۔ اسی لیے خدشہ ہے کہ سال کے آخر تک کاروں کی مارکیٹ میں بحثیت مجموعی 30 اعشاریہ چھ فیصد کا زوال آ جائے گا، جس کا مطلب ہے فروخت میں 21 اعشاریہ دو ارب پاؤنڈ کا نقصان۔‘

تاہم کاریں بنانے والی تمام کمپنیوں کو خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ مثلاً برطانیہ کی پرانی کمپنی ایم جی، جس کی ملکیت اب چینیوں کے پاس ہے، اس کا کہنا ہے کہ ستمبر 2020 میں انھوں نے تین ہزار 668 کاریں فروخت کیں جوکہ گذشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں 169 فیصد زیادہ ہے۔

ستمبر 2020 میں برطانیہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاریں

ووکسہال کورسا: 10553

فورڈ فیئسٹا: 9545

مرسیڈیز بینز اے کلاس: 8085

ووکس ویگن پولو: 7417

ووکس ویگن گولف: 6788

نسّان کاشکائی: 6572

فورڈ پُوما: 6341

مِنی: 6213

وولوو ایک سی 40: 5653

فورڈ فوکس: 5625

اعداد وشمار بشکریہ ایس ایم ایم ٹی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16606 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp