مسرور جھنگوی کی کامیابی پر تشویش کیوں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"edit\"جھنگ کے حلقہ پی پی 78 سے انتہا پسند مذہبی لیڈر مولانا مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی پر کئی سوال سامنے آئے ہیں۔ کیا عام جمہوری عمل کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے کسی شخص کو مسترد کر دینا درست ہے یا اس کی پذیرائی ہونی چاہئے؟ کیا اس نتیجہ سے ملک میں جاری جمہوری عمل کو خطرہ لاحق ہوگا یا جمہوریت مضبوط ہوگی؟ یہ سوالات اس لئے سامنے آ رہے ہیں کیونکہ مسرور نواز جھنگوی سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے ہیں۔ سپاہ صحابہ نے 80 کی دہائی میں ملک میں عقیدہ اور مسلک کی بنیاد پر تشدد کا راستہ اختیار کرنے کو درست طریقہ کار قرار دیا تھا۔ اسی تنظیم کے بطن سے لشکر جھنگوی نے جنم لیا جو اب لشکر جھنگوی العالمی کا نام اختیار کرکے خطرناک دہشت گرد گروہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دو برس سے افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف مصروف جنگ ہیں اور حکومت ملک سے نفرت اور عدم قبولیت کا ماحول ختم کرکے پرامن فضا پیدا کرنے کے لئے قومی ایکشن پلان پر عمل کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ اس حوالے سے اس ضمنی انتخاب میں متنازع مذہبی اور سیاسی موقف رکھنے والے شخص کی کامیابی اور کالعدم اہل سنت الجماعت کی طرف سے اس کامیابی کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوششوں پر غور کرنا ضروری ہے۔

مسرور نواز جھنگوی ملک کے طریقہ کار کے مطابق منعقد ہونے والے انتخاب میں حصہ لے کر لوگوں کے ووٹوں سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اس لئے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا اور جمہوری اصول کے تحت کسی بھی صورت ان کی کامیابی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اسمبلی کے منتخب رکن کے طور پر ان سے یہ توقع کی جائے گی کہ جن جمہوری اصولوں کے تحت منتخب ہوکر وہ اسمبلی تک پہنچے ہیں، بطور رکن اسمبلی وہ خود بھی ان جمہوری اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ یعنی منتخب ہونے کے بعد وہ صرف ان لوگوں کے نمائندے نہیں ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی وجہ سے انہیں ووٹ دیا تھا بلکہ وہ اپنے حلقے کے تمام لوگوں کے نمائندے ہوں گے۔ وہ ان لوگوں کی نمائندگی بھی کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا اور ان لوگوں کی زبان بھی بنیں گے جو اس انتخاب میں ووٹ دینے کے لئے گھروں سے نہیں نکلے۔ اس طرح وہ عام زندگی میں فرقہ واریت اور مخصوص طبقات کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اسمبلی کے رکن کے طور پر ان کا اظہار کرنے کی بجائے مشترکہ مسائل اور مشکلات کو اسمبلی میں پیش کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ مسرور نواز جھنگوی کو یہ باور کرنا ہوگا کہ وہ جمہوری طریقہ کار کے مطابق منتخب ہوئے ہیں اور اسی جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے سب لوگوں کے مفادات کا تحفظ کریں اور کسی گروہ یا طبقہ کے خلاف نفرت پھیلانے سے گریز کریں۔

مسلمہ جمہوری ریاستوں میں تلخ اور سخت انتخابی مہم کے باوجود فتح حاصل کرنے والا شخص سب سے پہلے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کا نمائندہ ہے۔ اسی لئے امریکہ میں اس ماہ کے شروع میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے سب سے پہلے اختلافات بھلانے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کیا تھا۔ جمہوریت میں منشور اور پروگرام کی بنیاد پر اختلاف یا اتفاق کیا جاتا ہے۔ اس لئے کامیاب ہونے والا شخص اگرچہ اپنے منشور پر ہی عمل کرتا ہے لیکن وہ انتخابی عمل میں شامل لوگوں کا احترام بھی کرتا ہے اور اختلاف رائے کو قبول بھی کرتا ہے۔ جھنگ کا ضمنی انتخاب امریکی صدارتی انتخاب کے مقابلے میں بہت چھوٹا حلقہ ہے اور اس کا دائرہ کار اور اثر و رسوخ بھی اسی طرح محدود ہوگا۔ لیکن جمہوری عمل کو قبول کرنے والے اور اس کے نتیجے میں کامیابی کا ثمر حاصل کرنے والے ہر شخص سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد لوگوں کے کسی گروہ کو مسترد نہیں کرے گا۔ مولانا مسرور نواز جھنگوی اگر اس اعلیٰ جمہوری روایت کے احترام کی عملی مثال بن سکیں تو بڑی خوشی سے یہ کہا جا سکے گا کہ انہوں نے اس جمہوریت کا احترام کیا ہے، جس نے انہیں ووٹ کی طاقت پر پوری حلقے کی نمائندگی کا حق دیا ہے۔ اگر انہوں نے اس حیثیت کو اجتماعی مفاد اور بھلائی کی بجائے گروہی اور نظریاتی سیاست کرنے کے لئے استعمال کیا تو ان کے اس طرز عمل کو مسترد کیا جائے گا۔ اس مقصد سے ان کی کارکردگی پر نظر بھی رکھی جا سکتی ہے۔ ان کے خیالات اور رائے سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور انہیں جمہوری تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے کے بارے میں یاد دہانی بھی کروائی جا سکتی ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انتہا پسندانہ خیالات اور فرقہ وارانہ پس منظر رکھنے والے کسی شخص کی کامیابی سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس سوال کا مختصر جواب تو نفی میں ہی ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی امید کی جائے گی کہ منتخب شخص فرقہ واریت کی بجائے بلاتخصیص اپنے حلقے میں آباد سب لوگوں کا نمائندہ ہوگا۔ اس صورت میں تو یہ ایک نہایت دل خوش کن پیش رفت ہوگی کہ منتخب ہونے کے بعد جمہوری اصولوں کے مطابق ایک انتہا پسند شخص بھی لوگوں کو تفریق کرنے کی بجائے انہیں ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جمہوری عمل کی روح پر عملدرآمد سے انتہا پسندی اور نفرت پر مبنی رویوں کا تدارک سب سے موثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم عام مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان کے جمہوری عمل میں شریک لوگ اس حد تک تو جمہہوریت کو مانتے ہیں کہ انتخاب میں حصہ لے کر منتخب ہو جائیں لیکن منتخب نمائندے کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے جمہوری اصولوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی لئے انتہا پسند عناصر جب جمہوری عمل کے ذریعے راستہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور وہ اپنی روش بھی تبدیل کرنے سے انکار کرتے ہیں تو بجا طور سے جمہوری عمل کے نقائص پر گفتگو کرکے ان کی اصلاح کے لئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا سکتا ہے۔

مولانا مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی سے ایسی ہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ حکومت قومی ایکشن پلان اور فوج آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے مصروف عمل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جمہوری عمل کو جاری رکھنے اور مستحکم کرنے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کالعدم تنظیموں کے سربراہ اور کارکن کسی روک ٹوک کے بغیر انتخابی عمل میں حصہ لیں گے اور معاملات کو اپنے مخصوص نظریہ اور حکمت عملی کے تحت حل کروانے کی بات کریں گے تو یہ سوال ضرور اٹھایا جائے گا کہ جمہوری عمل میں اگر جمہوریت دشمن عناصر کامیاب ہو کر اس نظام کو نقصان پہنچانے کے لئے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو ان کا راستہ کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ جمہوریت میں اس مقصد کے لئے رائے عامہ ہموار کرنا، عوام کو بہتر معلومات فراہم کرنا اور ان عناصر سے ہوشیار رہنے کے بارے میں خبردار کرنا درست عمل ہے، جو جمہوریت کے ذریعے آگے آنے کے بعد اسی نظام کی دھجیاں بکھیرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے ملک کے قوانین کو مضبوط اور موثر بنانے کی بات کی جاتی ہے اور اسی لئے مین اسٹریم پارٹیوں سے یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں انتہا پسند عناصر کے خلاف تعاون کرنے اور رائے ہموار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔

یہ تاثر غلط ہے کہ جمہوری عمل میں کامیابی حاصل کرنے والے کسی شخص کو قبول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے قول و فعل کی گرفت نہ کی جائے یا یہ بتانے کی کوشش نہ کی جائے کہ اگر وہ اپنے اعلانات اور منفی رویوں کو تبدیل نہیں کرتا تو ملک و قوم کے مفادات اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ تنقید جمہوری عمل میں رہنمائی کرنے کے علاوہ کامیاب ہونے والے لیڈروں اور پارٹیوں کو چوکس رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مخصوص سیاسی حالات کی وجہ سے مقبول نعرے لگانے والے عناصر جب بھی کامیاب ہوتے ہیں تو کوئی ان کی کامیابی سے انکار نہیں کرتا لیکن ان کے سیاسی ایجنڈے کا راستہ روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ سویڈن میں قوم پرست پارٹی سویڈش ڈیمو کریٹس گزشتہ چند برس میں مقبول ہوئی ہے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کے اعتبار سے وہ تیسری بڑی پارٹی ہے لیکن ملک کی بڑی پارٹیاں کسی معاملہ میں اس پارٹی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کرنے سے انکار کرتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اس پارٹی کا ایجنڈا معاشرے میں نفرت اور انتہا پسندی کو جنم دے گا۔ اور اس کے نتیجے میں معاشرتی توڑ پھوڑ اور فساد پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت یورپ کے کم و بیش تمام ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں تو ڈونلڈ ٹرمپ انتہا پسندانہ اور متعصبانہ نعرے لگاتے ہوئے ملک کا صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لیکن ملک کا میڈیا اس کے نظریات اور پالیسیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بلاشبہ جمہوریت میں یہ امکان موجود ہے کہ منفی عناصر اس عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کرکے مسائل پیدا کر سکتے ہیں لیکن جمہوریت ہی آزادی رائے کا اصول وضع کرتی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ان عناصر کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ یوں بھی جمہوری عمل اس لحاظ سے بھی ناقص ہے کہ منتخب ہونے والا فرد یا پارٹی تمام لوگوں کی نمائندہ نہیں ہوتی۔ امریکہ میں 200 ملین رجسٹرڈ ووٹ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ مروجہ نظام کی وجہ سے صرف ساڑھے باسٹھ ملین ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کی مدمقابل ہیلری کلنٹن کو ان کے مقابلے میں 20 لاکھ کے لگ بھگ زائد ووٹ ملے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ یوں ایک تہائی سے بھی کم ووٹ لینے والا شخص آئندہ چار برس 200 ملین ووٹروں کی نمائندگی کرے گا۔

حلقہ پی پی 78 کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ اس حلقہ میں ووٹ 2 لاکھ 17 ہزار تھے۔ مسرور نواز جھنگوی کو 48 ہزار 800 ووٹ ملے ہیں۔ ان کے قریب ترین مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے حاجی ناصر انصاری کو 35 ہزار 700 ووٹ ملے۔ یوں اس حلقہ میں 45 فیصد لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا اور کامیاب ہونے والا شخص ایک چوتھائی سے بھی کم لوگوں کی حمایت حاصل کر سکا ہے۔ لیکن اس کامیابی سے انکار جمہوریت سے انکار ہوگا۔ البتہ جمہوری طریقہ کار کو فعال ، موثر اور عوام دوست بنانے کے لئے کامیاب ہونے والوں کے قول و فعل کے نگرانی بھی جمہوریت ہی کا بنیادی اصول ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1875 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *