اتنی بے عملی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"irshad

سپریم کورٹ آف پاکستان اب ملک میں مردم شماری کرانے پر کمر بستہ ہے۔ بچاری حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے کیونکہ وہ یہ کام کرنے کی اہل نہیں۔ صوبے کہتے ہیں کہ مردم شماری فوج سے کرائی جائے سویلین اداروں پرانہیں اعمتاد نہیں۔ سیاسی جماعتیں خائف ہیں کیونکہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی اور وہ نئے بکھیڑوں میں پڑنا نہیں چاہتیں۔ ہر کوئی اسٹیٹس کو برقراررکھنے کے حق میں ہے۔

یاد رہے کہ یہ سپریم کورٹ ہی تھا کہ جس نے ڈنڈے کے زور پرگزشتہ برس بلدیاتی الیکشن کرائے۔ صوبائی حکومتیں تو تیار ہی نہ تھیں۔ مجبوری میں الیکشن تو کرا لیے گئے لیکن جب اختیارات منتقل کرنے کا مرحلہ آیا تو صوبائی حکومتوں نے ایک نہ مانی۔ ابھی تک بلدیاتی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ کراچی کے میئر کا حال ایک کونسلر سے بھی بدتر ہے۔ صوبائی حکومت اسے ایک جائز حاکم تسلیم کرتی ہے نہ مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔

پنجاب کا حال اور بھی ابتر ہے۔ پچھلے سال یہاں بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن ابھی تک میئر اور ڈپٹی میئرکا انتخاب تک نہیں ہوسکا۔ اختیارات اور بالخصوص مالی وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی تو بعید از قیاس ہے کیونکہ پارلیمانی پارٹی چاہتی ہی نہیں کہ چوپالیں اورڈیرے طاقت کا مرکز بن جائیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے کیوں کتراتی ہے اور سول ادارے کیوں اتنے غیر موثر اور غیر فعال ہیں کہ انہیں ہر کام کے لیے فوج کی معاونت درکار ہوتی ہے؟ انہیں سپریم کورٹ کی سرزنش کا کیوں انتظار ہوتا ہے۔ ایک خودکار نظام کے تحت انتظامی مشینری حرکت میں کیوں نہیں آتی؟

گزشتہ ہفتے فوجی کمان کی تبدیلی کا ملک بھر میں خوب چرچا ہوا۔ ٹی وی چینلز پرجش کا سماں تھا۔ جنرل راحیل شریف کی بروقت رخصتی اور کمان کی تبدیلی نے اداروں کی مضبوطی اور استحکام کو یقینی بنایا لیکن جس طرح ملک بھر میں نئے آرمی چیف کی آمد پر بحث و مباحثہ ہوااور اسے ایک سیاسی تناظردیا گیا ایسا دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں ہوتا۔ تسلیم! پاکستان میں فوج کا کردار دوسرے ممالک سے مختلف ہے اور اس کے معروضی حالات بھی جدا ہیں لیکن اس کے باوجود فوج میں تقرر اور ترقیاں ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔ اسے میڈیا کی شہ سرخیاں بنانا اورمسسلسل بحث ومباحثہ کا حصہ بنانا عسکری اداروں کے مفاد میں ہے او رنہ ہی ملک کے۔

بدقسمتی سےجمہوری نظام اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے والے نہ صرف اس ملک میں کمزور ہیں بلکہ روز بہ روز کم بھی ہوتے جارہے ہیں۔ معاشرے کے فعال طبقات اداروں کی مضبوطی اور ملک کے استحکام سے کم ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی خواہشات اورعزائم کا محوران کے ذاتی، گروہی، معاشی اور سیاسی ہداف ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر ایک اپنا ڈھول پیٹنے اور اپنے مفادات کی عینک سے ہی قومی ترجیحات کا تعین بھی کرتاہے۔

گزشتہ تین سالوں میں فوج کا کردار داخلی معاملات میں بہت حد تک بڑھا۔ نون لیگ کی حکومت پیپلزپارٹی سے بھی کمزور نکلی۔ اس نے جمہوری اداروں اورپارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کے بجائے ہر محاذ پر پسپائی اختیار کی۔ علاوہ ازیں سول اداروں نے بھی داخلی سلامتی کے معاملات میں سرگرم کردار ادا کرنے کے بجائے عضو معطل بنے رہنے کو ترجیح دی۔ چنانچہ بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا جسے عسکری اداروں نے پرکیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ محض دہشت گردی یا اچھی حکومت کی فراہمی نہیں بلکہ آئین کے مطابق اقتداراوراختیارات کی تقسیم بھی ہے۔ گزشتہ سات عشروں میں سویلین اور منتخب حکومتیں تمام تر کوششوں کے باوجود اپنا مثبت امیج قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجز کے سامنے سینہ سپر ہوتی اور ہر مرحلے میں قیادت فراہم کرتی نظر نہیں آتی۔ ابھی تک وہ محض پنجاب اور وفاق یعنی اسلام آباد تک محدود حکومت ہے۔ باقی دو بڑے صوبوں یعنی سندھ اور خیبر پختوں خوا میں اس کی حکومت ہی نہیں۔ نہ ہی وہ ان علاقوں کی تعمیر وترقی یا اپنی سیاسی طاقت بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ نے حکومت کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ زیادہ آزادی کے ساتھ فیصلے کرے اور پھر ان پر قائم بھی رہے۔ پاکستان کو سرحدوں پر کشیدگی وارا نہیں کھاتی۔ اس کے پاس بیس کروڑ لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں تو درکنار پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے وسائل اور اہلیت نہیں۔ خطے میں چین اور ترکی کے علاوہ اس کا کوئی حلیف ایسا نہیں جو مشکل کی گھڑی میں ساتھ کھڑا ہوسکے۔ چین اور ترکی اپنی جگہ اہم ممالک ضرور ہیں لیکن جو عالمی نظام اس وقت دنیا پر غالب ہے اس میں ان کی اسٹرٹیجک اہمیت فیصلہ کن نہیں۔ پاکستان کو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ امریکا سے بھی تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی معیثت ترقی کرسکے اورعام شہریوں کی حالت میں بتدریج سدھار آسکے۔ عالم یہ ہے کہ چند دن قبل وزارت منصوبہ بندی اور ترقی نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا کہ ملک میں پانچ کروڑ تیس لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ عالمی ادارے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیثت میں بہتری کے تھوڑے بہت آثار نظر آتے ہیں لیکن سماجی اشاریے غیر معمولی طور پر مایوس کن ہیں۔

اس پس منظر میں وزیرخارجہ سرتاج عزیز کا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ ممکن ہے کہ اس سےدو طرفہ تعلقات میں پایا جانے والا جمود نہ ٹوٹ سکے لیکن اس کے باوجود پاکستان کو تناؤ کے ماحول سے باہر نکالنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اسی طرح یہ ایک موقع ہوگا جہاں افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کا سسلسلہ آگے بڑھایا جا سکے گا۔ خاص کر افغانستان کیونکہ پاکستان کے اکثر داخلی مسائل کی جڑیں افغانستان میں جاری خانہ جنگی اور شورش میں پیوستہ ہیں۔ پاکستان کو افغانستان کو اخلاص اور ہمدردی سے دوبارہ اپنی طرف کھینچا ہوگا تاکہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے مسائل نہ پیدا کرے۔

کالم پر تبصرے کے لیے لکھیں:
[email protected]

Latest posts by ارشاد محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 171 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *