غدار سازی کی نئی فیکٹری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ٹی وی بالکل نہیں دیکھتا ٹی وی سے کوسوں دور کتابوں کی دنیا میں مگن رہتا ہوں۔ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا جو لطف ملتا ہے وہ پی ڈی ایف فائلز میں کہاں؟ میری صبح کا آغاز اخبارات پڑھنے سے ہوتا اخبارات کا فرنٹ اور بیک صفحات کے علاوہ چند کالم نگاروں کو پڑھتا ہوں۔ 6 اکتوبر کی صبح اخبارات کھولے اردو انگریزی اخبارات کے فرنٹ پیج پر سرخیاں چنگھاڑ رہی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت درجنوں افراد پر ملک دشمن ہونے پر ایف آئی آر کاٹ لی گئی۔ ایف آئی آر کسی بدر رشید نامی بندے کی مدعیت میں کاٹی گئی۔

پرلے روز ایف آئی آر کی کاپی مجھ تک پہنچی تو پڑھنے پر معلوم ہوا کہ ایف آئی آر میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی، پرویز رشید اور ممتاز دانشور عرفان صدیقی کے علاوہ تین سابق جرنیل بھی شامل ہیں۔

پاکستان بننے کے ساتھ ساتھ ”غدار سازی“ کی فیکٹری بھی بن گئی تھی۔ قائد کی موت جن حالات میں ہوئی اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ہندوستان کے سابق وزیرخارجہ آنجہانی جسونت سنگھ نے اپنی کتاب ”جناح اتحاد سے تقسیم تک“ قائد کی موت پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس مسئلے کو پھر کسی دن کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ پاکستان کا پہلا وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھی خود سے بڑے قد کاٹھ کے لیڈر حسین شہید سہروردی کو بھی غدار کہا تھا قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی کو اکثر اپنی تقریروں میں تنقید کا نشانہ بناتے۔ 11 ستمبر 1950 کو قائد اعظم کا دوسرا یوم وفات تھا۔ قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی میں ایک تقریب منعقد ہوتی ہے۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں آئین ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین، ایوب کھوڑو، یوسف خٹک کے علاوہ وزیراعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ لیاقت علی خان نے سہروردی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”مسٹر سہروردی آج کل ہر روز تقریریں کرنے اور بیانات جاری کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کے بعد یہاں تشریف لائے۔ ان صاحب نے پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں مسلم لیگ ہند نہیں بننے دی اور اس موقف کا پرچار کیا کہ ہندوستان میں اب فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں۔ سہروردی کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اتحاد ختم کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ستم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں۔ اب تک ان کا سب سے شاندار کارنامہ ہے۔“

تحریک پاکستان چلی تو صف اول میں بنگالی تھے۔ حسین شہید سہروردی وہ لیڈر تھا جن کا نہ صرف بنگال بلکہ برصغیر میں طوطی بول رہا تھا۔ پاکستان بنانے والے غدار وطن ٹھہرے اور محب وطن کون؟

غداروں کی تازہ فہرست میں ممتاز دانشور عرفان صدیقی کا بھی اضافہ ہوا۔ عرفان صدیقی کی ساری زندگی درس و تدریس میں گزری۔ مملکت خداداد پاکستان میں ان کے شاگرد اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔ سپہ سالار جنرل باجوہ بھی ان کے شاگرد رہے۔ درس و تدریس سے فارغ ہوئے قلم و قرطاس سے تعلق جوڑ لیا۔ ان کی تحریریں اٹھا کر دیکھیں ان کے قلم نے قرطاس پر حب الوطنی کے رنگ بکھیرے ہیں۔ غدار بنانے کی وجہ نواز شریف سے اٹوٹ تعلق۔

پرویز رشید اپنی ذات میں یکتا آئین اور قانون کی سربلندی کی بات کرنے والا، مشرف دور میں قید کے دوران ان پر اذیت کا ہر حربہ استعمال کیا گیا داستان سنیں تو روح تک کانپ جاتی ہے وہ بھی غدار ٹھہرا کیونکہ وہ آئین کی سربلندی اور جمہور کی آواز کی بے خوف و خطر بات کرتے ہیں۔

غور کیا دو ہم عمر اور ہم عصر ممالک پاکستان اور ہندوستان، سیاسی کلچر میں مماثلت جغرافیائی محل وقوع ایک جیسا، معاشی سیٹ اپ اور انتظامی ڈھانچہ ایک جیسا، تاہم ہندوستان سیاسی حوالے سے ہم سے بہت آگے، ہندوستان میں کبھی مارشل لا نہیں لگا، ہم ستر سال میں آدھی عمر آمریت کے سائے تلے گزار چکے ہیں۔ بہت غور کیا تو جان پایا کہ ہندوستان ایک معاملے میں ہم سے کوسوں دور ہے وہ ابھی تک ”غدار سازی“ کی فیکٹری نہیں بنا سکا ہم اس معاملے میں ماشا اللہ خود کفیل ہیں۔ ایک نہیں کہیں فیکٹریاں لگا چکے ہیں، ہر دوسرے آدمی کو غدار قرار دے رہے ہیں۔

حال ہی میں تیزی سے ترقی کرتی اس صنعت میں اضافہ ہوا ہے غدار سازی کا ایک نیا یونٹ لگایا گیا ہے اس یونٹ میں نون لیگ سے تعلق رکھنے والوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو دو چیزیں ملیں گی اول ہندوستانی سیاست میں اس پر قومی اجماع ہو چکا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، سیاستدانوں نے کبھی غیر جمہوری اور غیر دستوری قوت کو اپنے سیاسی تنازعات میں الجھنے کی اجازت نہیں دینی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان آج تک آمریت سے محفوظ چلا آ رہا ہے۔ وہاں کی اسمبلیوں میں بھی دنگا ہوتا ہے، کرسیاں چلتی ہیں مگر مجال کہ کوئی سیاست دان کسی جرنیل کو مارشل لا لگانے کی آفر کرے یا پھر کسی کو غدار قرار دے۔ ہمارے ہاں جنرل ایوب سے لے کر مشرف تک، ہر موقع پر کسی نہ کسی پارٹی اور سیاست دان نے غیر سیاسی قوتوں کو حکومت برطرف کرنے کی دعوت دی ہے۔ کبھی یہ دعوت شکریے کے ساتھ رد کر دی جاتی اور کبھی بصد شوق اسے شرف قبولیت بخشا گیا۔

اگر نواز شریف نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی ہے تو اس میں برا کیا ہے۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں تو یہی کہا کہ ہم پر چالیس سال تک فوجی ٹولہ مسلط رہا یہ تو پتھر پر لکیر کی مانند ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ مریم نواز اگر کہتی ہیں کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کام سیاست پر بات نہیں کرنا تو یہ سچ ہے۔ فوج کا سیاست سے کیا تعلق؟

چار دن ہونے کو ہیں۔ میں نے کتابوں کا ورق ورق الٹ دیا۔ دنیا بھر کی برقی لائبریری کی سیر کی مگر مجھے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کسی ملک کی فوج کا شعبہ تعلقات عامہ کا ترجمان اپنی پریس کانفرنس میں ملک کی معاشی، سیاسی، داخلہ اور تعلیمی امور پر بات کرے۔ ایسا کام صرف پاکستان میں ممکن ہو سکتا ہے۔ جمہوری ممالک میں یہ کام عوام کی منتخب حکومتوں کا ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری فوج پچھلی کئی دہائیوں سے دہشت گردوں کے ساتھ نبردآزما ہے اور قابل ذکر کامیابی بھی حاصل کی، جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ نہرو دور میں ہندوستان کا ایک جرنیل اس وجہ سے برطرف کیا گیا تھا کہ اس نے سیکرٹری دفاع کو بائی پاس کر کے وزیر دفاع سے ملاقات کی تھی۔ ہمارے ہاں کا راوی اس پر مکمل خاموش ہے کہ کسی سیاست دان نے ایسی کسی جسارت کی کوشش کی ہو۔ بھٹو نے گل حسن اور نواز شریف نے پرویز مشرف کو ہٹایا تھا۔ ہم نے ایک کو راستے سے ہٹا کر اگلے جہان بھیج دیا اور دوسرے کو غدار بنا دیا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 129 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui