اپوزیشن اتحاد کا منطقی انجام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر حکومت کے خلاف صف بندی کرچکی ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اتحاد وجود میں آ چکا ہے۔ وہی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں جو انتخابات کے فوراً بعد سنی گئیں تھی۔ وہی مطالبات دہرائے جا رہے ہیں جو دو سال قبل کیے گئے تھے۔ انتخابات کے بعد لہجوں میں جو شدت اور کرختگی تھی، ہنوز باقی بلکہ شدت میں مزید گرمی آ گئی ہے۔

اپوزیشن کے مطالبات اگرچہ وہی ہیں جو دو سال قبل تھے، جذبات میں پہلے سے زیادہ تندی اور تیزی بھی ہے۔ لیکن دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب کچھ پلس پوائنٹس بھی ہیں جو اپوزیشن کے بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور اس تحریک کو مزید تیز کرنے میں مددگار اور معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

دو سال قبل انتخابات کے فوراً بعد اپوزیشن کی بڑی جماعتیں نون لیگ اور پی پی حکومت مخالف کسی تحریک کے حق میں نہیں تھی۔ ان جماعتوں کا خیال تھا کہ حکومت کو وقت دیا جائے ان کی کارکردگی خود ہی ان کو ڈبو دے گی۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے عوام میں جانے کا جواز پیدا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس جمعیت علما اور چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کا اصرار تھا کہ جب اس حکومت کے ناجائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے تو اسے کسی قسم کا موقع نا دیا جائے اور اسمبلیوں سے حلف ہی نا لیا جائے۔ ان جماعتوں کے موقف کو اس وقت تسلیم نہیں کیا گیا مگر اپوزیشن اب حکومت مخالف تحریک پر متفق ہو گئی ہے۔

دو سال قبل عوام بھی نیازی حکومت کے منشور اور پروگرام، تسلسل سے ریاست مدینہ ایسی ریاست کے قیام کے اعلان، سو دنوں میں تبدیلی کے ارادوں، کرپشن فری پاکستان کے نعروں، معاشی ماہرین کی ٹیم اور خصوصاً اسد عمر ایسے ماہر اقتصادیات کے معاشی انقلاب کے دعووں کے زیر اثر تھے اور امید کرتے تھے کہ نیازی حکومت عوام کو ریلیف دے گی لیکن کسی ایک دعوے اور اعلان پر عمل نہیں ہوسکا، ہر وہ کام کیا، بدترین مہنگائی، معاشی بد حالی اور کاروبار کی تباہی کے باعث عوام تنگ آچکے ہیں اور اب اپوزیشن کی راہ تک رہے ہیں۔

دو سال قبل اپوزیشن کے ساتھ نیازی حکومت کا جو رویہ تھا اب اس سے بھی بد تر رویہ ہے۔ نیب کے ذریعے تمام مخالفین کو جیلوں، کیسز اور احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اداروں کی طرف سے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی اور غداری کے مقدمات بنائے گئے، مسئلہ کشمیر کے دیرینہ موقف کو پس پشت ڈال دیا گیا، سی پیک ایسا منصوبہ گھاٹے میں پڑ گیا۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود کہ بنیادی نکتے پر سب کا اتفاق ہے۔ ماحول سازگار ہے، عوام تنگ ہے، معیشت کا پہیہ جام ہے اپوزیشن کا آپس کا اعتماد اس درجہ کا نہیں جو ایک بڑی تحریک کے لئے ضروری ہے۔ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں عہدوں، جلسوں کی تاریخوں سمیت بہت سے امور پر اختلاف ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اختلاف معمولی نوعیت کے ہیں۔ اس قسم کے اختلاف ایک پارٹی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ گیارہ پارٹیوں پر مشتمل اتحاد میں اس قسم کے اختلاف ہوتے رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس سازگار ماحول میں اپوزیشن اپنی تحریک کو کسی منطقی نتیجہ پر پہنچا پائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •