ایتھنز کے سقراط سے پاکستان کے کافروں منافقوں اور غداروں تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند ہفتے قبل ”ہم سب“ کے کالموں میں پڑھا کہ ملک کے کئی بڑے شہروں میں بڑے بڑے جلوس سڑکوں پر ”شیعہ کافر“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پھر یہ کالم اور ہیڈلائنز شائع ہونی شروع ہوئیں کہ میاں نواز شریف صاحب کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اور آج ”ہم سب“ پر محترمہ گلالئی اسماعیل صاحبہ کا کالم شائع ہوا کہ ان کے ضعیف والدین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

اور ساتھ یہ خبر بھی نظر آ رہی تھی کہ پشاور میں ایک احمدی پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک صاحب کو مذہبی منافرت کی بناء پر قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھ کر ٹی وی کے سامنے یہ خبر چل رہی تھی کہ ایک وزیر، علی زیدی صاحب نے بیان دیا ہے کہ سب دیکھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کتنی منافق ہے۔ اس سے قبل بھی بہت سے لسانی اور نظریاتی گروہوں کو غدار یا غیر محب وطن قرار دیا جاتا رہا ہے۔

اس کالم کا مقصد یہ نہیں کہ کسی کو غلط یا صحیح قرار دیا جائے۔ لیکن انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ملک میں کافروں، منافقوں، غیر محب وطن اور واجب القتل شہریوں اور غداروں کے مجموعی تعداد پچاس فیصد سے اوپر ہے یا نیچے ہے۔ ایک طبقہ شاید یہ خیال کر رہا ہے کہ پاکستان کے محب وطن راسخ العقیدہ شہریوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا ٹھیکہ اس کے پاس ہے۔ اب تو یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ شاید یہ مطالبہ پیش کرنا پڑے کہ یہ طبقہ پاکستان کے ان شہریوں کی مختصر سی فہرست کسی گزٹ میں شائع کردے جو اس طبقے کے نزدیک محب وطن کی کیٹگری میں شمار ہو سکتے ہیں۔ باقی شہری خود ہی سمجھ جائیں گے کہ ان کی کیا حیثیت ہے۔

پاکستان بیس بائیس کروڑ کا ملک ہے۔ یہ ملک مجموعہ ہے مختلف زبانوں کو بولنے والوں کا، مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والوں کا، مختلف سیاسی نظریات رکھنے والوں کا۔ پاکستان کے کسی شہری کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لئے کسی اور کے دروازے پر جائے۔

اگر ہمارا کسی سے مسلک کی بناء پر یا نظریات کی بناء پر یا سیاسی وابستگیوں کی بناء پر اختلاف ہے تو ہم اس سے اختلاف تو کر سکتے ہیں اور شدید اختلاف بھی کر سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہم اسے غدار اور بھارت کا ایجنٹ بھی قرار دے دیں۔ ماضی میں بھی کافر کافر اور غدار غدار کے نعرے کئی مرتبہ لگائے گئے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مرتبہ یہ بے سری قوالی ملک کو شدید نقصان پہنچا کر ہی ختم ہوئی ہے۔

یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس وقت پاکستان میں یہ ذہنی کیفیت کیوں پیدا ہو رہی ہے؟ اس تجزیہ میں تاریخ کا مطالعہ ہماری مدد کر سکتا ہے۔ دنیا کی پہلی جمہوریت یونان میں ایتھنز کی جمہوریت تھی اور دنیا کی تاریخ کا وہ مقدمہ جس پر دو ڈھائی ہزار سال سے سب سے زیادہ تنقید کی گئی ہے یعنی سقراط پر چلایا جانے والا مقدمہ بھی اسی جمہوریت میں چلایا گیا تھا۔

کیا یہ مقدمہ کسی بند کمرے میں چلایا گیا تھا؟ کیا فیصلہ کرنے والے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے چند متکبر لوگ تھے؟ یہ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا گیا تھا اور شہر کے 501 معززین نے اکثریتی ووٹ کے ذریعہ سقراط کو سزائے موت دی تھی۔ کسی نے ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کا الزام بھی نہیں لگایا تھا۔ لیکن آج تک اس اکثریتی فیصلے کو احمقانہ فیصلہ قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ نوبت کیوں آئی؟ قدیم دنیا میں ایتھنز ایک سلطنت کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔ اور اس کی حکومت جمہوری نظام سے چلائی جاتی تھی۔ سقراط پر یہ مقدمہ چلانے سے چودہ سال قبل ایتھنز کے رقیب سپارٹا نے فارس سے اتحاد کر کے ایتھنز کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اسی سال ایتھنز کے ایک عظیم الشان بحری بیڑے نے سسلی پر حملہ کیا لیکن یہ سارا بحری بیڑا تباہ ہو گیا۔ ایتھنز اور سپارٹا کے باہمی جنگ کئی سال جاری رہی۔ بہت سی اونچ نیچ کے بعد 404 قبل مسیح میں سپارٹا نے ایتھنز پر فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔

ایتھنز شہر کی حفاظتی دیواریں منہدم کر دی گئیں۔ اس کی عسکری طاقت ہمیشہ کے لئے ختم کر دی گئی۔ اور اسے تیس ظالم آمروں کی حکومت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ایتھنز والوں نے کچھ عرصہ میں اپنی جمہوریت کو تو بحال کر لیا لیکن اپنی سابقہ طاقت کو بحال نہ کر سکے۔ اتنے مختصر عرصہ میں اتنی رسوا کن شکست کا زخم انہیں چین نہیں لینے دیتا تھا۔

دانشمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایتھنز والے اپنی قومی غلطیوں کا جائزہ لے کر انہیں درست کرتے۔ لیکن انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا کہ جو کہ اکثر ہماری قوم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی کسی ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنی ساری ناکامیوں کا ذمہ دار اسے قرار دے دو۔ اسے سزا دے کر اپنی بھڑاس نکال لو۔ اور ان کی گلیوں میں ایک ستر سالہ فلسفی سقراط ننگے پاؤں پھرا کرتا تھا۔ اور سقراط کی عادت تھی کہ ہر چیز کے بارے میں سوال اٹھاتا تھا اور ایتھنز کے مسلمہ نظریات بھی ان سوالات کی زد میں آ جاتے تھے۔

اس سے بہتر قربانی کا بکرا کون ہو سکتا تھا؟ چنانچہ تین معززین شہر نے سقراط پر مقدمہ درج کرا دیا۔ سقراط پر کیا الزامات تھے؟ پہلے مخالف نے عدالت کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہر کی ایک سلطنت تھی۔ ایک فصیل تھی۔ ہماری طاقتور فوج تھی۔ ہمارے خزانے بھرے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ شخص سقراط ذمہ دار ہے۔

اور سقراط پر یہ الزام تھا کہ اس نے ریاست کے تسلیم شدہ خداؤں کا انکار کیا۔ ہمارے مذہب کی توہین کی۔ اور ہمارے شہر کے نوجوانوں کے ذہنوں کو گمراہ کر دیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس ریاست کے خلاف سازش کرنے والے کئی غدار اس کے شاگرد تھے اور اس نے اپنی طرح شہر کے نوجوانوں کو بھی یہ عادت ڈال دی ہے کہ وہ ہر چیز کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں یہ الزامات بہت فراخدلی سے لگائے جاتے ہیں، آج سے ڈھائی ہزار سال قبل ایتھنز کی عدالت میں بھی لگائے گے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ایتھنز کے وکلاء کے دلائل پاکستان کے اکثر سرکاری وکلاء سے کافی بہتر تھے۔

آخر میں جیوری کی اکثریت نے سقراط کو سزائے موت دے دی۔ سقراط نے زہر کا پیالہ پیا اور منہ پر چادر اوڑھ کر سکون سے مر گیا۔ گمراہ کرنے والا تو مر گیا لیکن ایتھنز کی کھوئی عظمت کبھی بحال نہیں ہو سکی۔ یہ ریاست کمزور سے کمزور ہوتی گئی اور آخر چند دہائیوں بعد اس کی آزاد حیثیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔

پاکستان میں کوئی سقراط تو نظر نہیں آتا لیکن ایک جم غفیر ہاتھ میں زہر کے پیالے کر وحشیانہ انداز میں اپنے اپنے شکار کو ڈھونڈ رہا ہے۔ کسی طرح کوئی شکار مل جائے تو اسے یہ زہر پیالہ پلا کر اپنی تمام سیاسی مالی اور عسکری ناکامیوں کا بدلہ لے لیں۔ لیکن اس غدار تراشی سے نہ دنیا کی پہلی جمہوریت کو ملا تھا اور نہ ہمیں کچھ ملے گا۔ اور کافی دہائیوں کے مسلسل استعمال کی وجہ سے یہ نعرے اب کافی گھس پٹ بھی چکے ہیں۔ ان میں اب پہلے جیسا طلسماتی اثر نہیں رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •